پشاور کی مٹی کا یہ وصف رہا ہے کہ اس نے ایسے ایسے سپوت پیدا کیے جنہوں نے دنیا بھر میں پشاور کی دھرتی اور ہندکوان کمیونٹی کا نام بلند کیا۔ چاہے سائنس کا میدان ہو کہ مذہب کی تعلیمات ہوں، بھلے وہ کھیل کے میدانوں پہ حکمرانی ہویا پھر ادب و فنون لطیفہ کی سلطنت پہ راج ہو۔ کون سا میدان ہے جہاں پشاوری مردوں، خواتین اور نوجوانوں نے اپنا لوہانہ منوایا ہو۔ ان بے مثل ہندکووانوں میں ایک کثیر الجہت شخصیت جناب نذیر بھٹی کی بھی ہے۔
نذیر بھٹی صاب پشاور سے تعلق رکھنے ولے ایک یگانہ روزگار ادیب تھے جنہوں نے ہندکو، اردو، پنجابی اور پشتو زبانوں میں کئی فلمیں، ڈرامے، کہانیاں، افسانے اور ناول لکھ چھوڑے ہیں۔ گندھارا ہندکو اکیڈمی میں منعقد ہونے والی تقریبات میں ان سے اکثر ملاقات ہوتی تھی اور میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اتنی منکسر المزاج شخصیت زندگی میں نہیں دیکھی۔ درجنوں کتاباں، ڈرامے، ناول اور تحقیقی مضامین وغیرہ لکھنے اور متعدد ایوارڈز سے نوازے جانے کے باوجود ان میں اتنی عاجزی تھی کہ جس کی مثال دی جا سکتی ہے۔
Read more