دو چہروں کے ساتھ جینے والے ہمارے بچے۔۔۔


کئی گھنٹوں سے غائب بیٹی کے والدین کی کیا حالت ہوسکتی ہے پروفیسر صاحب کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو جان سے مار دیں گے لیکن انھیں بٹھا کر سمجھایا گیا کہ ہر جگہ اور ہر بار زور زبردستی نہیں چلتی۔ معاملہ رفع دفع ہوا، رشتہ ختم کیا گیا۔ بیٹی اگلے دو روز بعد گھر آگئی لیکن والد نے اس سے مکمل طور پر بات چیت بند کردی اور پھر ایک سال بعد خاندان میں ہی اس کی شادی ایک ایسے گھر میں کی گئی جو سخت روایات کا حامی نہ تھا۔ اب جب وہ میکے آتیں تو اسکی سج دھج، طور اطوار دیکھ کر والد طیش میں آجاتے لیکن پھر ایسا بھی ہوا کہ انھیں نہ چاہتے ہوئے اپنے گھر کو ان سہولیات سے آراستہ کرنا پڑا جس کے نہ ہونے سے ان کی بڑ ی بیٹی بغاوت کے راستے پر چل نکلی تھی آج اس گھر میں ہر وہ شئے ہے جو کبھی شیطان کا چرخہ سمجھی جاتی تھی۔

دوسری مثال ایک ایسے گھرانے کی جہاں یہ راگ الاپا گیا کہ لڑکیوں کو زیادہ پڑھنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں کیونکہ باہر کی دنیا رنگین ہے بچیاں بگڑ جائیں گی، اس گھرانے نے اپنی دونوں بیٹیوں کو پرائیویٹ میٹرک کے بعد ایک مدرسے میں حفظ کرنے بھیج دیا۔ مدرسے کی سخت زندگی سے تنگ آکر بچیاں چھٹی پر واپس گھر لوٹیں تو ماں باپ کے سامنے ہاتھ جوڑے کہ ہم واپس نہیں جائیں گے۔ لیکن مسئلہ وہی کہ گھر میں سختی، لوگوں پر تنقید، سخت روایات اور زمانے کو ہر وقت برا بھلا کہنے کے راگ ان بچیوں کے کانوں میں بھی پڑتے رہے۔ کب تک بچیاں یہ دیکھتیں؟ بالآخر ایک دن گھر پر لگے فون پر کوئی رانگ نمبر آیا اور دوستی ہوگئی جو ایک معمول سا بن گیا جس سے ماں باپ بے خبر رہے۔ وہ اس بات پر نازاں تھے کہ ان کی بچیاں گھر کی چہار دیواری میں محفوظ ہیں کیو نکہ اس گھر میں کسی مرد کا آنا جانا نہیں۔ شیطان ٹی وی اور ابلیس وی سی آر گھر میں نہیں تو سب صحیح ہے اور ایک دن اطلاح آئی کہ اس لڑکی نے چھپ کر شادی کرلی۔ رشتے داروں کے سمجھانے پر کئی ماہ بعد بیٹی کو قبول کیا گیا اور اس سے جب ماں کا سامنا ہوا اور انھوں نے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو اس نے جواب دیا کہ آپ اور ابو کی اتنی دہشت دل میں بیٹھی تھی کہ جب لڑکے نے کہا کہ وہ رشتہ بھیجنا چاہتا ہے تو مجھے یہ ڈر محسوس ہونے لگا کہ میں آپ کو کیا بتاوں گی کہ میں اس لڑکے کو کیسے جانتی ہوں؟ آپ لوگ بڑی بڑی باتیں کرتے تھے بڑے بول بولتے تھے کہیں اس کے گھر والوں کو منع نہ کردیں بے عزتی نہ کردیں مجھے آپ لوگوں کا اتنا خوف تھا کہ میں نے اس لڑکے کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا اور چھپ کر شادی کرلی اور موقع دیکھ کر چلی گئی۔ اس لڑکی عمر اس وقت اٹھارہ برس تھی لیکن اسکی قسمت اچھی تھی کہ وہ غلط ہاتھوں میں نہیں گئی لیکن اس کا اٹھایا ہوا قدم آج بھی اس کے اور اسکے والدین کے لئے ایک سوالیہ نشان ضرور ہے۔ ماں باپ کو اس واقعے سے یہ سبق ملا کہ ان کی سختی کم ہوئی اور دوسری بیٹی کی شادی کرتے وقت انھوں نے وہ سب کیا جو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

میں نے خواتین کی یونیورسٹی میں پڑھا جہاں یونیفارم تھا۔ میں نے کئی لڑکیاں ایسی دیکھیں جو آتی تو یونیفارم میں تھیں لیکن آتے ہی کپڑے تبدیل کرتیں سجتی سنوارتی اور عبایا چادر بیگ میں ڈال کر گیٹ سے باہر نکل جاتیں۔ کئی کو کلاس کے اوقات میں گراونڈ میں بیٹھ کر موبائل پر گپ لگاتے دیکھا اور جب یونیورسٹی کی چھٹی ہوتی تو ان کا پردہ جس میں ان کے ہاتھ پاوں کا نظر آنا تو دور کی بات انکی آنکھیں بھی بمشکل دکھائی دیں، دیکھ کر میں اکثر سوچتی تھی کہ یہ کیا دوغلہ پن ہے ؟ لیکن آج سمجھ آتا ہے کہ یہ دوغلہ پن نہیں وہ سختی اور پابندیاں ہیں جو ایک عام شخص سے جب اس کے جینے کا جائز حق بھی چھین لے تو وہ دو حصوں میں بٹ جاتا ہے دو مختلف شخصیتوں کی طرح جینا شروع کر دیتا ہے۔ ایک وہ جو اسکے گھر والے یا دنیا چاہتی ہے ایک وہ جو وہ خود ہوتا ہے یا اس دنیا کو دکھانا چاہتا ہے جس کی اسے خواہش یا طلب ہوتی ہے۔ لیکن اکثر گھرانوں میں والدین یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ بے جا سختی اور پابندیاں عائد کر کے اپنے گھر سے شیاطین کو کوسوں دور کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن ان سب میں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جس کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں اس کی مثال اس آتش فشاں کی سی ہے جو بظاہر بہت پرسکون اور بے ضرر دکھائی دے رہا ہے لیکن کبھی نہ کبھی چھلک پڑے گا اپنا لاوہ اگلتے ہی سب کچھ بدل دیگا۔

وی سی آر کا دور اب ختم اب ڈی وی ڈی پر فلمز دیکھی جاتی ہیں یا لیپ ٹاپ پر، اب میں اپنی بہنوں کو کبھی کسی نئی فلم کے لئے مچلتے نہیں دیکھتی کیونکہ ان کا شوق وقت پر پورا ہو چکا۔ لیکن وہ گھرانے جہاں آئینے آج بھی چھوٹے اور دھندلے ہوں، بات بات پر جب گھر کے بڑے سینہ پھلائے اپنی سخت روایتیں گنوائیں اور ساتھ بیٹھے بڑھتی عمر کے بچے ان کی اس گفتگو پر بے تاثر چہرے کے ساتھ اپنی انگلیاں مروڑیں تو اس گھر کا سناٹا مجھے کسی طوفان کے آنے کی نوید دیتا دکھائی دیتا ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سدرہ ڈار

سدرہ ڈارنجی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، بلاگر اور کالم نگار ہیں ۔ ماحولیات، سماجی اور خواتین کے مسائل انکی رپورٹنگ کے اہم موضوعات ہیں۔ سیاسیات کی طالبہ ہیں جبکہ صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں۔ انھیں ٹوئیٹڑ پر فولو کریں @SidrahDar

sidra-dar has 82 posts and counting.See all posts by sidra-dar