تئیس مارچ کی پریڈ اور غیر ضروری بحثوں میں جکڑی بھوک
پاکستان میں بھی بالکل یہی صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔ تم غدار ہو، میں محب وطن، تم غیر اسلامی ہو ملحد ہو مشرک ہو، آیا آیا دین آیا جیسے نعرے اور ظالم سرمایہ دارکی ان کو مکمل حمایت؟ یہ سب اس لیئے کہ غریب کا بنیادی مسئلہ جو بھی ہو سرمایہ دار کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ ہمیں کسی بھی طرح سے اور بحثوں میں اُلجھائے رکھنا چاہتا ہے تاکہ ہم اپنے حقوق کے بارے میں کچھ سوچ ہی نہ پائیں۔ غریب ہمارے ملک میں بھی آج تک امیر کی پیر کی جوتی ہے۔ جب چاہے جہاں چاہے کُچل ڈالے اور عدالتیں اس وقت مصلحتوں کا شکار ہوجائیں۔
ایک اور تماشہ جو پچھلے دنوں اس ملک کی نام نہاد نمائیندہ پارلیمنٹ میں سینیٹ کے الیکشنز کے دوران تب دیکھنے میں آیا جب ایک جانب کرشنا کماری جو کہ ایک دلِت ذات سے تعلق رکھتی ہے، وہ ذات جس کو بھارت میں اچھوت سمجھا جاتا ہے، کو پاکستان کی سینیٹ میں کامیاب کروایا گیا۔ کوئی ان سے پوچھے کہ بھارت میں اگر اچھوت سمجھا جاتا ہے تو پاکستان میں اس ذات سے تعلق رکھنے والے سندھیوں کو کونسا انسان سمجھا جاتا ہے؟ سینیٹ میں ایک اس ذات کی خاتون کو منتخب کرانا جس کو تم انسانوں کی طرح بھی تو نہیں سمجھتے، مطلب تھر کے وہ لوگ جنہیں غذائی قلت کا سامنا ایک لمبے عرصے سے ہے۔
ان لوگوں کو عام انسانوں کی طرح زندگی کی کوئی بھی ایک سہولت میسر نہیں، اس سے سرمایہ دار طبقے کی ساری منافقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ کماری کو کیوں اور کیا مقاصد حاصل کرنے کے لیئے کامیاب کروایا گیا۔ اتنی ہمدردی عوام کو ان کے حقوق دیتے وقت کیوں نہیں آتی؟ سینیٹ میں ہونے والی ایک اور بات اس منافقت کو مزید کھول کر خود ہی پیش کرتی ہے۔ یہ خبریں کس سے چھُپ سکتی تھیں کہ پارلیمنٹ کے اندر کروڑوں کی خریدوفروخت جاری ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ کون لوگ ہیں؟مطلب کروڑوں کی بولیوں پر بِکنے والے اور ان کو خریدنے والے لوگ۔ کیا یہ عوامی نمائیندے ہیں؟ اور ہمارا قانون بھی تو ان کو یہ سب کرنے کی چھُٹی دیتا ہے۔۔ کرشنا کماری جس کے پاس پینے کو صاف پانی بھی میسر نہیں ہوتا ہوگا اسکی حیثیت ان کروڑوں میں کھیلنے والے سرمایہ دار اژدہوں میں ایک اچھوت کی سی ہی ہوئی نا۔۔
جس دن وہ پارلیمنٹ میں حلف لینے آئی اس کا لباس تو اس کی ثقافت کے رنگ پیش کررہا تھا مگر اس کے ساتھ اس کے اُجڑے، مرجھائے ہوئے ماں باپ کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ زمین سے اُڑ کر آسمان کے کسی مقام پر موجود ہیں جہاں ان سے الگ کسی اور سیارے کے لوگ رہتے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس ان کے لیے کسی بادشاہ سلامت کا محل لگ رہا تھا جہاں ان غریبوں کو تیار شیار کرکے ان سے ان کی دھول جھاڑ کر بادشاہ سلامت سے ملنے کو لایا گیا ہے۔ اگر یہ پاکستان ہے تو وہاں جہاں یہ واقعی اچھوت سمجھے جاتے ہیں، وہ لوگ ان کا کیا حال کرتے ہونگے؟ کیا یہ دُنیا واقعی اتنی انسان دُشمن ہوسکتی ہے۔
ایسے کٹھن حالات میں بھی بھارت میں ترقی پسندوں کی حالیہ کسان مارچ کی کوشش کو میں لال سلام پیش کرتا ہوں۔ اچھے نتائج کی اُمید نہ بھی لگائی جائے تو بھی اس دور میں ایک اچھی کوشش بھی بہت معنی رکھتی ہے۔ پاکستان میں ترقی پسند سیاسی حلقوں میں بھی اب ایک نئی کھل بُل نظر آرہی ہے جو کہ ایک خوش آئیند بات ہے۔ مگر آپسی اختلافات اور خود کو باقی معاشرے سے الگ تھلک کرکے رکھنے سے کچھ اچھے نتائج دیکھنے میں نہیں آرہے۔ سیاسی ماحول میں اسپیس حاصل کرنا وقت کی کڑی ضرورت ہے کیونکہ معاشی اور معاشرتی مسائل ہر دور میں ایک خاص نہج پر انقلاب کی ضرورتوں کو پورا کرتے نظر آتے ہیں مگر جدوجہد کرنے والے حلقوں میں ہی ہمیشہ ایسے وقتوں میں دراڑ دیکھی گئی جو اس جمود کو توڑنے میں ناکام رہی۔
ترجیحات کا مسئلہ ایک اہم ترین معاملہ ہے جس کو لیفٹ کے حلقے خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ معاشی استحصالی کے خلاف نعرے لگاتے لگاتے نعروں کا رُخ کہیں اور مُڑ جاتا ہے، یہ مفادپرست عناصر اور گروہوں کا ترقی پسند حلقوں کو ہائی جیک کرکے اپنا اُلو سیدھا رکھنے کے نتائج ہیں۔ یہ اندرونی معاملات سیدھے ہوں تو آپ اپنے بیانیے کو عام بحث میں لاسکیں، نہیں تو عام انسان اپنے بنیادی مسائل کو نوعیت کو کبھی سمجھ ہی نہیں پائے گا۔ یہ نظام اس کو عمران خان اور نواز شریف سیاست، محب وطنی اور غداری، مذہب اور الحاد کی بحثوں میں ہی الجھائے رکھے گا۔

