کراچی والوں اپنی بچیوں پر رحم کرو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنو تم اپنے گھر والوں کو کب بھیج رہے ہو؟ یار تمھیں پتا ہے میں تھک چکی ہوں۔ میرا بالکل من نہیں کرتا کام کرنے کا تم بس جلدی بھیجو اپنے گھر والوں کو۔
ہاں ہاں تم پریشان مت ہو میں نے اماں سے بات کی ہے بس ایک دو روز میں وہ تمھارے گھر آئیں گی۔ لیکن تم یہ جاب چھوڑنے والی بات مجھ سے نہیں کیا کرو۔

کیا مطلب یار جاب چھوڑنے کی بات نہیں کیا کروں۔ تم کیا چاہتے ہو شادی کے بعد بھی جاب کروں؟
ہاں تو اِس مہنگائی کے دور میں اور کراچی جیسے شہر میں ایک کمائی سے گزارا ممکن ہے؟

ہم کرلیں گے۔ بس تم مجھ سے جاب کی بات مت کیا کرو۔ تمھیں پتا ہے میں ابھی کتنی مجبوری میں جاب کر رہی ہوں۔
لیکن میں نہیں کرسکتا ایسے گزارا۔ تمھیں پتا ہے میں کھل کر زندگی جینے کا عادی ہوں۔ شادی کے بعد ویسے ہی خرچے دگنے ہوجاتے ہیں۔ اور تمھارے خرچے بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ شادی کے بعد دونوں کمائیں گے تو ہی گزارا ممکن ہوسکے گا۔ اور ویسے بھی تمھیں پرابلم کیا ہے کام کرنے میں؟ اب تو تمھیں لائن انچارج بنادیا ہے اٹھارہ لڑکیاں تمھارے ماتحت کام کررہی ہیں۔

مجھے نہیں پسند کمپنیوں میں کام کرنا۔ میں بس چاہتی ہوں جلدی سے شادی ہو اور میں اپنے شوہر کے ساتھ گھر میں سکون سے رہوں۔ اور ویسے بھی عورتیں گھر میں ہی اچھی لگتی ہیں۔
عورتیں گھر میں اچھی لگتی ہیں یہ بات تم اپنے گھر والوں کو کیوں نہیں بتاتیں۔ کیوں پچھلے دس سال سے تمھارے گھر والے گارمنٹس کمپنیوں کی تم سے خاک چھنوارہے ہیں۔

دیکھو تم میرے گھر والوں کو کچھ مت کہو۔ تمھیں سب پتا ہے اُن کی کیا مجبوریاں ہیں۔
کیا مجبوریاں ہیں؟ باپ اتنا بھی بوڑھا نہیں ہے کہ کوئی کام نہ کرسکے۔ اور اب تو دو بھائی بھی جوان ہوچکے ہیں۔ وہ خود کیوں نہیں کچھ کرتے؟ بجائے اِس کے کہ اپنی دو بہنوں کی شادیاں کریں اُن کی کمائی کھارہے ہیں۔

دیکھو تم یہ اپنی فضول کی بکواس بند کرو میرے بھائیوں کو کچھ مت بولو۔
ہاں تو تم بھی میرے سامنے یہ پنچایت لےکر مت بیٹھا کرو۔ ہم یہاں پارک میں کام سے فارغ ہونے کے بعد کچھ دیر ریلیکس ہونے آتے ہیں۔ تم جب دیکھو یہ قصے لے کر بیٹھ جاتی ہو۔

اچھا سوری۔ چھوڑو یہ باتیں، تم یہ بتاؤ اپنے گھر والوں کو بھیج رہے ہونا میرے گھر۔
گھر والے تو آجائیں گے لیکن وعدہ کرو تم یہ جاب چھوڑنے والی بات آئندہ مجھ سے نہیں کروگی۔

یار مجھ سے کام نہیں ہوتا میں تھک جاتی ہوں۔ مجھے کمپنیوں کا ماحول بالکل پسند نہیں ہے۔ تمھیں پتا ہے کس طرح اپنا جائز کام نکلوانے کےلیے بھی فلور انچاج کی خوشامدیں کرنی پڑتی ہیں۔
دیکھو پھر میں تم سے صاف کہہ دیتا ہوں اگر تم شادی کے بعد جاب جاری رکھنے کو تیار نہیں ہو تو پھر میں تم سے شادی نہیں کرسکتا۔

کیا؟ تم مجھے چھوڑ دو گے۔ ہمارے دو سال سے قائم اِس رشتے کو تم ایسے ہی ختم کردو گے۔
مان لو میری بات نہیں چھوڑوں گا تمھیں۔

میں اِس کے سوا اور کر ہی کیا سکتی ہوں ساری باتیں تمھاری ہی مانتی آئی ہوں یہ بھی مان لونگی۔ جب تقدیر نے میرے نصیب میں ساری زندگی نوکری کرنا لکھ دیا ہے تو میں کیا کرسکتی ہوں کہاں تک لڑ سکتی ہوں اپنے نصیب سے۔

اچھا دیکھو یہ رونا بند کرو مغرب ہونے والی ہے اب ہمیں چلنا چاہیے۔ اگر تم راضی ہو تو میں بھی اماں کو بھیج دونگا تمھارے گھر۔

یہ کوئی فرضی کہانی نہیں ہے۔ انتہائی قریب سے مشاہدہ کی گئی جگ بیتی ہے۔ دو کروڑ سے زائد عوامی ہجوم پر مشتمل اُس شہر کی داستان ہے جہاں غریب کی بیٹیاں شہر کی امیری کےلیے بطور ایندھن استعمال کیجاتی ہیں۔ جہاں کے مرد غربت مہنگائی اور بےروزگاری کا بہانہ بناکر عورت کے ہاتھ میں زندگی بھر کےلیے کمانے کا لائسنس تھما دیتے ہیں۔ جہاں یہ معصوم بچیاں اپنے ارمانوں اور خواہشات کا گلا گھونٹ کر اپنی اوائل عمری سے لے کر عمر کا بیشتر حصہ مختلف کمپنیوں میں کام کرتے گزار دیتی ہیں۔

اِس وقت کراچی شہر میں سات بڑے صنعتی زون موجود ہیں جہاں سے روزانہ تقریباً پندرہ کروڑ سے زائد ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ لانڈھی کورنگی میں ایک وسیع رقبے پر پھیلا انڈسٹریل ایریا صنعتی اعتبار سے سب سےبڑے صنعتی زون کی حیثیت رکھتا ہے جہاں مختلف فیکٹریوں اور کمپنیوں میں مردوں کے مقابلے خواتین کی تعداد ستر فیصد سے زائد ہے۔ جن میں ایک بڑی تعداد بیواؤں اور مطلقہ خواتین کی ہے۔ جو گھر والوں کی مکمل سپورٹ نہ ملنے کے باعث اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کی غرض سے کام کرنے نکلتی ہیں۔ لیکن اِن میں ایک بڑی تعداد اُن خواتین کی بھی ہے جو اپنی اوائل عمری سے ہی کام کرہی ہیں۔ ایسی بچیوں کے والدین اُن کی شادیوں پر بھی کوئی توجہ نہیں دیتے کیونکہ شادی کرنے سے گھر کا ذریعہ آمدن جو بند ہوجائے گا۔ اب تو یہ حال ہے ایسی لڑکیوں سے کوئی شادی کرنے کےلیے آمادہ ہوتا بھی ہے تو اُس کی بھی یہی ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنی جاب کو جاری رکھے گی۔ ایسے میں یہ بےچاری خواتین شادی سے پہلے باپ کے گھر کا بوجھ اٹھاتی ہیں تو شادی کے بعد اپنے ہڈحرام شوہر کی ذمہ داری اٹھاتی نظر آتی ہیں۔

ایک وقت تھا جب والدین بیٹوں کو اپنا سہارا سمجھا کرتے تھے لیکن اب والدین اپنی امیدیں بیٹیوں سے باندھ رکھتے ہیں۔ جیسے ہی گھر میں بیٹی جوان ہوتی ہیں اسے فوراً کمانے کے لیے اقامہ جاری کردیا جاتا ہے جبکہ گھر میں مرد حضرات بےروزگاری کے نام پر مفت کی روٹیاں توڑتے ہیں۔ بےچاری بچیاں تعلیم سے دور اپنے کمزور جسموں کے سہارے بارہ بارہ گھنٹے کام کرتی ہیں اور رات کو تھکی ہاری دنیا کی رنگینیوں سے بےخبر سوجاتی ہیں کیونکہ صبح انھیں پھر سات بجے اٹھنا ہوتا ہے۔ خدارا اپنی بچیوں پر رحم کیجئیے۔ بجائے اِسکے بیٹیوں کو اپنا سہارہ سمجھیں اُنکا سہارہ بنئیے معصوم بچیوں سے مشقت مت کروائیے۔ ذرا سوچئیے غور کیجیئے جب آپ ایک مضبوط جسم کے مالک ہوکر کام کرنے سے گھبراتے ہیں تو پھر یہ معصوم کمزور جسم کی حامل بچیوں پر کیا گزرتی ہوگی۔ جو دن رات اوَر ٹائم لگا کر آپ کےلیے پیسے کمانے پر مجبور ہیں کراچی والوں خدارا اپنی بچیوں پر رحم کرو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •