گوادر: ترقی سے اجڑتے شہر کی کہانی


گوادر کے اجڑے ہوئے شاہی بازار کے نکڑ پہ یہ پان کی دکان ہے۔۔

اس کے سامنے کا ہوٹل ہے جس کا کبھی اک شاندار ماضی رہا تھا

 اور عقب میں گوادر کا ساحل۔۔۔

سمندر کے ساحل پہ ترقی کی شاہراہ کے لئیے دیوار نہیں چنی گئی تھی

تب تک یہ ہوٹل آباد تھا۔۔

صبح ماہی گیر سمندر میں اپنا جال پھینکنے سے پہلے اس ہوٹل پہ چائے پینے آتے

اور رات کو اس پان کی دکان پہ بی بی سی لگا کر خبریں سنتے اور سیاسی چسکے کے ساتھہ چائے کی پیالی پیتے۔

اور رات گئے تک سیاسی تبصروں سے یہ گلی اور گوادر جاگتا رہتا۔۔

اب ہوٹل کو کئی سال سے تالا لگ چکا ہے

مگر کچھہ گتے اس کے دروازے پہ پڑے تھے کہ

بی بی سی اردو سروس کے عاشقان او ر سیاسی نشے کے عادی اب بھی بی بی سی سننے آتے ہیں اور پان کی دکان اب بھی آباد ہے

 ترقی کا استعارہ

شاہی بازار کے عروج کو ہڑپ کر چکا تھا اس ہوٹل کو بھی کئی سال سے تالا لگ چکا تھا

مگر

 جیسے ہی بی بی سی کی خبروں کا وقت قریب آیا تو

کئی اک سفید بالوں والے

رات کو منڈلی مچانے والے اس پان کی دکان کے بازو میں آکر بیٹھ گئے

سامنے سمندر تھا

جس میں اب پرانا گوادر تیزی سے غرق ہو رہا تھا۔۔

میں نے اس بازار کا عروج کبھی نہیں دیکھا تھا

مگر جب سنا کہ اس اک پتلی گلی میں کوئی بیس پچیس کے قریب ہوٹل آباد ہوں تو اسکا عروج اور گھما گھمی تصور کرنا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں

ہر ہوٹل کے ساتھہ اسکی خصوصی پہچان اور تاریخ وابستہ تھی۔ (جی ایچ کیو ہوٹل کا قصہ کسی اور وقت۔۔۔)

یہ شھر کا ساحل کتنا آباد ہوگا

اب بھی کئی نوجوان ساحل کی طرف منہ کر کے باتیں کرتے نظر آئے

پر ساحل کے گرد بھاری پتھروں کی دیوار کھڑی کردی گئ تھی ۔۔

اس دیوار کے دوسرے پار ساحل پہ ایک سڑک نکلنی ہے جو سیدھی پورٹ سے ہوتی ہوئی باہر کو جائے گی

پورٹ کی ترقی اس طرح شھر کو چھوئے بغیر کہیں اور جاتی نظر آتی تھی

گوادر کے مکینوں کی آنکھوں میں فقط ساحل کی ریت رہ جائے گی

یہ احساس گوادر کی آنکھ میں پڑھنا مشکل نہ تھا

میرے ذہن میں رات مشاعرے میں کسی بلوچ شاعر کی اردو نظم کے مصرعے کے الفاظ گونج رہے تھے جو شاید کچھ اس طرح تھے

اک شاہراہ نے طاقت کے بل بوتے

سارا منظر چھین لیا۔۔۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).