صاحب، محبت اور ساہوکاری


میرے عزیزو اب تک جو گلے تھے شکوے تھے سب صاحب سے تھے۔ صاحب کون تھے؟ وہ میرے وجود کا حصّہ تھے۔ بہت چاہا کہ وہ حصّہ مجھ سے جدا نہ ہو۔ مگر کیا کروں۔ خود ہی سے ایک دن میرا ٹاکرا ہو گیا۔ وہ ٹاکرا کیا تھا۔ ایک عجیب متذبذب کیفیت تھی جو ستمبر 2012 سے دسمبر 2014 تک رہی۔ میں بس گھر والی اور باہر والی کے پھیر میں پھنس کے رہ گئی۔ میری حالت ہانز کرسچن اینڈرسن کی کہانی ”دی ریڈ شوز“ کی بچی کی تھی کہ جس کے پاؤں کاٹ دینے کے بعد جسم سے الگ ہونے کے بعد بھی محو رقص تھے۔ کیونکہ جوتوں کے ساتھ ایک بد دعا بھی ملی تھی کہ ان حسین ڈانسنگ شوز کے ساتھ ناچنا نہیں اور میں تھی کہ سارے بندھن توڑ کر خوشیوں کا ناچ ناچنا چاہتی تھی۔ جو کہ مجھے منع تھا۔

صنوبر چھوڑ کر جا چکی تھی۔ کیوں یہ وہ ہی بتا سکتی ہے۔ پر وہ جا چکی تھی۔ بیاہ کے دو ماہ بعد ہی صاحب کو اسے کھو دینے کا بے حد ملال تھا۔ اتنا کہ دل کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ بہت خدمت کی۔ بہت مدارت کی۔ بہت سال جییں، دعا ہے۔ مگر میں جس پھیر میں پڑ چکی تھی۔ اس پھیر نے مجھے اتنا دکھ دیا اتنا شدید دکھ کہ جس کو اگر میں بیان کردوں تو شاید صفحوں کا رنگ سرخ ہو جاتے۔

یہ کم مائگی کا درد تھا۔ موجود ہو کر بھی کسی کے لئے نا موجود تھی میں۔ نہ مجھے میں مل رہی تھی نہ انھیں وہ۔ یہ سکھ بھی جاتا رہا تھا کہ اچھا میں کسی کی راحت کا سامان ہوں۔ صاحب سے بھی میری محبت روٹھ گئی تھی۔ یہ بھی علم تھا کہ میری محبّت کو منائے گا کوئی نہیں۔ میں بہت خود غرض ہو چکی تھی۔ خود غرضی بہت بڑا دکھ ہے۔ جو کچھ بھی غیر انسانی میرے اندر پیدا ہو رہا تھا وہ میرا دکھ ہی بن رہا تھا۔ صنوبر کے ساتھ اپنا تقابلی جائزہ بحیثیت بیوی کرتے کرتے اب مجھے صرف اپنا آپ نظر آتا تھا۔ ہر جانب اپنے اندر باہر بس میں ہی میں تھی۔ میں بہت بدشکل ہوتی ہے۔ کھلے الجھے بالوں والی۔ لمبے ناخنوں والی ایک پچھل پیری جو رات کے اندھیرے میں شکار ڈھونڈتی ہے۔ خون کی پیاس بجھانے کے لئے۔

ملک صاحب کو ان کی کھوئی ہوئی انا کی تسکین کرنا تھی یا پھر شاید وہ نئی گھر والی کی محبّت میں گرفتار تھے یا دونوں میں سے کچھ بھی نہیں تھا۔ بس جیسی دھتکار میں نے ساری عمر سہی تھی اسے ویسے ہی دھتکار کر چلی گئی تھی۔ فرعونیت پر ضرب لگی تھی۔ اور بڑی زوروں سے۔ کہتے ہیں عورت کو عورت کی مار مارو۔ مگر وہ عورت تو میرے سارے زخموں کا بدلہ ہی لے گئی تھی جیسے۔ صاحب کسی پتنگ کی طرح تھے۔ میں بھی ڈور تھامنے کو تیار نہ تھی۔ مجھے بس اپنے ہونے کا یقین چاہیے تھا۔ مجھے باوقار عورت بننا تھا۔ صرف ایک عورت۔ نہ گھر والی نہ باہر والی۔

میں اپنے عورت ہونے کا احساس کھو چکی تھی۔ جانے کیوں انسانوں کے جنگل میں رستے تلاشتے عمر گزار دی۔ ایک جنون تھا جس نے مجھے پکڑ رکھا تھا۔ میں اپنا وجود کھو چکی تھی مگر کھوئے ہوئے کو پانا ممکن ہے آسان نہیں۔ لوٹنے والا لوٹ آیا تھا۔ مگر وہ مجھے میرا سوتیلا پیار لگتا تھا۔ اس کا دکھ بھی میرا سوتیلا دکھ تھا۔ جیسے ادھار مانگ کر لائی ہوں۔ کسی بھی وقت واپسی کے متقاضی آ جائیں گے۔ وہ بھی اس حیثیت سے واقف تھا کہ گھر والی یا باہر والی کسی رشتے میں کچھ نہیں بچا۔ کرشن چندر کی ربڑ کی گڑیا میں جان بھرنے لگی تھی۔ اور ایک دن وہ گڑیا زندہ ہو اٹھی۔

ایک عورت بن کر جس نے صاف کہہ دیا نہ میں گھر والی نہ باہر والی۔ تیرے لئے دونوں ہی ایک جنس تو سدا کا بیوپاری اور میں ٹھہری دل والی۔ کوئی دل والا ملا تو ٹھیک ورنہ میں تنہا اپنی ذات کے اچھوتے تجربوں سے گزر لوں گی۔ اور پھر صاحب نے تیسری شادی کر لی۔ کیوں کہ میں نے مالی طور پر صاحب حیثیت ہوتے ہی دل کو عورت کے دل کی طرح مضبوط، مربوط اور خوددار کرتے ہی جانے کا حکم دے دیا۔ کہا کہ جاؤ صاحب تم کیا ہم کو چھوڑو گے ہم ہی تمہیں آزاد کرتے ہیں۔ اپنے ہونے کے آزار سے، تمھارے بے مایہ ہونے کا ہمیں ذرا بھی افسوس نہیں جاؤ اور اپنی زندگی اپنے ڈھنگ سے گزارو۔ میں مردہ رشتے کی نعش سے اٹھتا تعفن اور برداشت نہیں کر سکتی۔ پر آپ نے جو کبھی ڈائری پر لکھا تھا وہ یاد دلانے کے لئے ان صفحات کو اپنی تحریر کی زینت بنا رہی ہوں۔ اس دلفریب دھوکے سے نکلنا ممکن تھا آسان نہیں۔

ملک صاحب آپ تو زمیندار آدمی تھے۔ آپ تو بہت بڑے ساہوکار نکلے۔ جن چیزوں کو آپ میرا غم سمجھتے رہے وہ تو کبھی میرا غم تھیں ہی نہیں۔ میرا غم تو آپ تھے۔ آپ ہیں اور آپ ہی رہیں گے۔ پیسے کی فراوانی کے بعد آپ نے کیا سمجھا تھا کہ میرے تمام درد دور ہو گئے ہیں۔ اور آپ کے سب فرض پورے۔ نہیں صاحب بہت سا کھاتہ ابھی کھلنا ہے۔ ابھی حساب باقی ہے۔ آپ نے جو فرض ادا نہیں کیے اب قرض بن چکے ہیں۔ آپ کا قرضہ چکانے تو کوئی جبرئیل بھی نہیں آے گا زمیں پر۔ آپ نے ایک محبّت کرنے والے دل کو دکھایا ہے۔ بے عزت کیا ہے۔ بکاؤ سمجھ رکھا تھا کیا؟ مجھے اور میرے احساسات کو۔ نہیں ہوں میں بکاؤ۔ لے جا اپنا مال۔ اگر دے سکتا ہے تو کوئی ایسا لمحہ دے جب میں رگوں سے تیرے بخشے زہر کو نکال پاؤں۔

تم نے مجھ سے جو مانگا میں نے دیا۔ تم کو اپنا پتا تھا کہ درد کا درماں میں کر دوں گی۔ مگر اے سوالی انسان تجھے سخی کا بھی کبھی علم ہوا ہے کہ اسے کیا دکھ ہے۔ جو وہ تجھے دان پہ دان دیتا چلا جا رہا ہے۔ کس مراد کو پانا چاہتا ہے۔ تو نے دعا بھی اپنی مرضی کی دی اسے۔ پوچھا ہی نہیں کہ سخی عورت تجھے چاہیے کیا۔ اس زندگی کی کہانی میں سب کردار تم نے اپنی مرضی سے تراشے۔ اور ان کرداروں کو ہم سے ادا کروایا مجھ سے اور میرے بچوں سے۔ یہ سمجھا کہ تم جو سمجھتے ہو بس وہی ان کرداروں کی مانگ بھی ہے۔ ایسا نہیں تھا۔ ہم تمہاری ذہنی تخلیق یا تخیّل نہیں تھے۔

ہم اپنے اپنے الگ مجسم، وجود اور روح کے مالک تھے۔ اس ملکیت پر تم قابض رہے۔ یہ تمہاری ملکیت نہیں تھے۔ تم نے تراشے کہانی کے سب کردار۔ خود کو بہلانے کے لیے۔ اپنے ذہن سے خود جھوٹ بولتے رہے ہو تم۔ خود کو فریب میں رکھ کر اپنی زندگی آسان اور باقیوں کی مشکل کر دی۔ کبھی اپنی سوچوں سے باہر نکل کر اپنے اس زعم کے بت کو توڑو کہ تم سب جانتے ہو۔ نہیں جانتے تم ہمارے بارے میں کچھ بھی۔ کچھ بھی ویسا نہیں جیسا تم دیکھنا چاہتے ہو۔ اور اپنے دماغ کو وہی دکھاتے ہو۔ تم بےحس، بےشعور اور اندھے انسان ہو۔ تم اپنے حواس قائم رکھنے کے لئے مجھ سے میرے ہونے کا احساس چھینتے رہے ہو تمام عمر۔ مگر افسوس ہا ے بہت افسوس کہ میں تمھارے تخیل کی تخلیق نہیں تھی۔ اے ناکام کہانی نویس ہم زندہ انسان ہیں۔ تمہاری بدبودار سوچوں کے تراشے پیکر نہیں ہیں۔ میں تمہاری کہانی سے نکل چکی ہوں۔ کیوں کہ میں ایک ہیروئن ہوں۔ اور تم میرے ہیرو نہیں ہو سکتے۔

تم میرے ساتھ میرے عکس کی طرح چمٹے ہوے ہو۔ میں بھاگ کر کتنی ہی دور آگے نکل جاؤں پھر بھی نہ میں تم سے آگے نکل سکتی ہوں نہ دور جا سکتی ہوں۔ خدا کے لئے دور ہو جاؤ مجھ سے۔ اپنا عکس لے جاؤ۔ مجھے چھٹکارہ چاہیے اس اذیت سے۔ میرے پاؤں میں چھالے ہی چھالے ہیں۔ میرے سفر کو مثال سمجھنے والے میری الجھن کو میری منزل سمجھتے ہیں۔ میری کامیابی سمجھتے ہیں۔ نہیں، میں اس راہ کی مسافر بن چکی ہوں جس کی کوئی منزل نہیں۔ محبّت کرنے والوں کو کبھی گھر راس نہیں آتے۔ ان کے حصے میں صرف آوارگی اور دشت کی ہوائیں آتی ہیں۔
میں منزلوں کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ آئی ہوں۔ منزلوں سے آگے بھی راستے جاتے ہیں۔ واپسی کی طرف۔ ہو سکتا ہے مجھے بھی راستہ مل جائے۔ زندگی مجھے بلا رہی ہے۔

Facebook Comments HS