کیا نیول چیف کا بیان غیر روایتی ہے ؟


تئیس مارچ کو قرارداد لاہور پیش کی گئی۔ اس قرارداد کو قیام پاکستان کی بنیاد مانا جاتا ہے۔ یہ اب قرارداد پاکستان کہلاتی ہے۔ تئیس مارچ کو ہم یوم پاکستان مناتے ہیں ۔ آج کل یوم پاکستان اور یوم جمہوریہ کی بحث الگ سے چھڑی ہوئی ہے۔

قرارداد پاکستان میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل الگ وطن بنا دیا جائے۔ یہ مسلم اکثریتی علاقے وہی ہیں جن پر آج پاکستان قائم ہے۔ یعنی پنجاب بلوچستان سندھ اور خیبر پختون خواہ جو تب سرحد کہلاتا تھا۔

کشمیر کے فیصلہ کرنے کے لیے ہم بھارت کے ساتھ مستقل حالت کبڈی میں رہتے ہیں ۔ تاریخی حوالے دیئے بغیر آپ کی توجہ مطلوب ہے۔

جب قوم پرست حضرات بالکل پک جاتے ہیں آپ کے دلائل سے تنگ آ جاتے ہیں۔ اس وقت وہ آخری گولہ چلاتے ہیں کہ اچھا ٹھیک ہے پھر پاکستان کو چالیس کی قرارداد کے مطابق چلاؤ۔ اس ان معززین کی مراد یہ ہوتی ہے کہ دو قومی نظریہ کو قرارداد کی بنیاد بنایا گیا تھا۔ لیکن مطالبہ جن علاقوں کا کیا گیا تھا وہ تو سرحد بلوچستان سندھ اور پنجاب تھے۔ تو یہ اصل میں قومیتوں کے حقوق عطا کرتی اک فیصلہ کن قرارداد تھی۔

قوم پرست حضرات یہاں پر پہنچ کر باقاعدہ دکھی ہو جاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ چالیس کی قرارداد پر بھی عمل نہیں کیا۔

یوم پاکستان پر مختلف قسم کے پیغامات پڑھتے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی کا پیغام نظر سے گزرا۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘‘ قرارداد پاکستان ایک سیاسی پیشرفت سے بڑھ کر حصول امن کی دستاویز ہے۔ یہ قرارداد جنوبی ایشیا میں اس تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی جو بعد میں کئی قوموں پر اثرانداز ہوئی۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے ہمارے راہنماؤں نے اپنی دوراندیشی ، شعور اور غیر متزلزل عزم کو ایک نئی منزل کا روپ دیا۔’’

اس پیغام کے باقی حصے میں ترقی خوشحالی امن کے لیے جدوجہد اور کامیاب پاکستان کا ذکر ہے۔

قوم پرست حضرات اور پاکستان میں پائی جانے والی روائتی سوچ نے اٹھارویں ترمیم کرتے ہوئے قرارداد پاکستان سے اپنے اپنے مطلب کشید کرنے والے تمام طبقات کو مطمئین کرنے کی کوشش کی۔

اٹھارویں ترمیم کو آپ اگر بہت آسان کر کے یوں سمجھایا جا سکتا ہے۔ ہماری سیاسی قیادت نے یہ ترمیم کرتے ہوئے اختیارات کو مرکز تک محدود کرنے کی بجائے اسے نچلی سطح پر ٹرانسفر کرنے کا اصول فیصلہ کر لیا۔

فیصلہ اچھا تھا، عمل پوری طرح نہیں ہو سکا۔ ابھی صوبے نہ تو اپنے اختیارات پوری طرح حاصل کر سکے ہیں۔ نہ اس کے فوائد لوگوں تک منتقل کر پائے ہیں۔ نہ صوبوں نے اختیارات کو مزید نیچے بلدیاتی حکومتوں تک ٹرانسفر کیا ہے۔

جنرل باجوہ نے حال ہی میں جب تیس عدد صحافیوں کو بلا کر اپنے دل کی باتیں کی تھیں۔ تب انہوں نے اٹھارویں ترمیم کے بعد کمزور مرکز کے نقصانات گنوائے تھے۔ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے صوبوں کی نااہلی کا بھی بطور خاص ذکر کیا۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ یونیورسٹیوں کی مثال بھی دی کہ ہائیر ایجوکیشن اٹھا کر صوبوں کو پکڑا دی ہے۔ جن کے پاس یونیورسٹی چلانے کی صلاحیت تک نہیں۔

ماہی میں اک عرض کروں صلاحیت نہ ہو تو صلاحیت بڑھائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے سہولت واپس نہیں لی جاتی۔

ڈاکٹر عبدالمالک کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ بطور وزیراعلی انہوں نے اپنا وقت اچھا گزارا۔ بدامنی سے متاثرہ بلوچستان کو امن کی طرف لانے میں ان کا اک بڑا رول تھا۔ یہ جانے مانے قوم پرست ہیں۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا کہ جب طالب علم تھے تو انہوں نے نقل کو طالب علم کا حق بتاتے ہوئے یونین کی ہڑتال کرا دی تھی۔

اختیارات ملنے کے بعد یہی ڈاکٹر مالک ہوں وہی بلوچستان ہو۔ انہی سے کہا جائے تو یہ کبھی بھی کسی نااہل بندے کو کسی سیٹ پر نہیں لگائیں گے۔ اپنے گھر کا ہر کوئی اچھا ہی سوچتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب ذمہ داری بھی خود پر ہو اور متاثر بھی خود ہی ہونا ہو۔

یوم پاکستان پر اپنے پیغام میں نیول چیف تئیس مارچ کی قرارداد کو امن کی دستاویز بتا رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان پڑھ کر ہماری سوچ اٹھارویں ترمیم اختیارات کی منتقلی امن کی بحالی سے ہوتی ہوئی ترقی و خوشحالی تک گئی ہے۔

نیول چیف کا بیان ہمیں تو غیر روایتی  لگا ہے شائد ہماری خوش فہمی ہی ہو۔


وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi