پاکستان میں میڈیکل ایتھکس کے مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ سال پاکستان سے روانہ ہونے لگا تو استاد محترم نے سمجھایا تھا کہ تارکین وطن کی اکثریت کی طرح پاکستان کے مسائل کے امریکی حل مت پیش کیجئے گا۔ کچھ معاملات بہر حال ایسے ہیں جن پر اپنے محدود تجربے کی بنیاد پر تبصرہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ ان معاملات میں سر فہرست میڈیکل ایتھکس (Medical Ethics) ہے۔

ہم سب پر ڈاکٹر خالد سہیل کی تحاریر پڑھنے کا اتفاق ہوا تو احساس ہوا کہ آسان اردو میں نفسیات کے مضمون پر بھی لکھا جا سکتا ہے۔ ان کی تحاریر تجربے اور تحقیق کی بنیاد پر ہوتی ہیں اور وہ کامینٹس میں فردی طور پر ہر ممکن سوال کا جواب دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے شزوفرینیا کے موضوع پر ایک اعلیٰ تحریر لکھی تھی جس میں ہمارے معاشرے میں پیروں اور فقیروں پر اعتقاد کے حوالے سے بھی اشارہ موجود تھا۔

ہمارے ہاں ذہنی طور پر معذور افراد کے لئے “مجذوب” کی اصطلاح  بھی استعمال کی جاتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ ڈاکٹر خالد سہیل کی طرح پاکستان سے کوئی لکھاری ذہنی امراض کا علاج کرنے والوں کے متعلق بھی کچھ لکھے۔ امریکہ میں سائکاٹرسٹ حضرات ہر مسئلے کا حل ادویات میں تلاش کرنے کے ماہر ہیں۔ پاکستان میں یہ معاملہ الٹ ہے
اور دم درود کا تڑکہ لگایا جاتا ہے۔ سائنس بتاتی ہے کہ دم درود (یا پانی بھری گولیوں) سے پچاس فیصد مسئلے حل ہو سکتے ہیں (اسے انگریزی میں Placebo Effect کہتے ہیں)۔

میں ایک ایسے کیس کا شاہد ہوں جس میں لاہور کے انسٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے ایک معروف ڈاکٹر صاحب نے بائی پولر مریض کو غلط دوا لکھ دی اور ساتھ ہی نماز روزے کا مشورہ بھی دیا۔ بائی پولر مرض میں مریض دو مختلف کیفیات کا شکار ہوتا ہے۔ ایک کیفیت Mania کہلاتی ہے جس میں مریض یہ سمجھتا ہے کہ وہ دنیا کے ہر مسئلے کو حل کر سکتا ہے، اسے نیند نہیں آتی، گفتگو کی رفتار تیز ہو جاتی ہے، اپنی طاقت میں کئی گنا اضافہ محسوس ہوتا ہے، کئی دفعہ غیر مرئی اشیا نظر آتی ہیں اور یہ کیفیت ایک ہفتے تک برقرار رہ سکتی ہے۔ اس کیفیت کی ایک کم تر شکل Hypomania کہلاتی ہے۔ اس کے علاوہ بائی پولر مریض ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں، جو بالکل الٹ کیفیت ہے۔ ڈپریشن کے دوران مریض کی نیند متاثر ہوتی ہے، وزن بڑھتا یا گھٹتا ہے، بیزاری اور کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے، خود کشی کی جانب خیالات کا رخ ہوتا ہے، دھیان کسی ایک شے پر نہیں رہتا۔ زیادہ تر مریض صرف ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں بائی پولر مرض لاحق نہیں ہوتا۔

اس لئے نفسیات کی گائیڈ لاینز کہتی ہیں کہ ڈپریشن کے ہر مریض کو دوا دینے سے قبل  Mania کے متعلق تفشیش ضروری ہے کیونکہ اگر آپ بائی پولر کے مریض کو صرف ڈپریشن کی دوا لکھ دیں تو اس میں بائی پولر کی علامات واضح ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ میں ان نفسیات دان کو ان کے بیٹوں کی نسبت سے جانتا تھا لہٰذا اپنے ایک دوست کو ان کے پاس بھیج دیا۔ دو ہفتے بعد دوست سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس کو نیند نہ آنے کی شکایت ہے اور بائی پولر کی دیگر علامات بھی موجود تھیں۔ میں نے فوری طور پر وہ دوا بند کرنے کا مشورہ دیا اور کسی اور ماہر نفسیات کا پتہ کیا۔ اگر میں اس دوست سے بروقت رابطہ نہ کرتا تو وہ نجانے کیا کر بیٹھتا۔

پاکستان میں ڈاکٹر کوئی غلطی کریں تو ان کے خلاف کارروائی ہونے کا چانس نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے جس کا میں عینی شاہد ہوں لیکن ڈاکٹروں کی غلطیوں کی خبریں ہر روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ ان خبروں میں کچھ محض افواہوں اور مریضوں یا ان کے اقربا کے اندازوں پر مشتمل ہوتی ہیں لیکن کم از کم ساٹھ فیصد کیسوں میں ڈاکٹروں کی غلطی موجود ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ غلطی کرنا انسانوں کی صفت ہے اور اس کا مداوا دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملک میں بھی ممکن نہیں۔

البتہ ڈاکٹروں کا احتساب ضروری ہے۔ پنجاب میں ایک ہیلتھ کمیشن موجود ہے جو ریٹائر پروفیسروں کی آماجگاہ ہے۔ چند سالوں سے کم از کم پنجاب میں  Medical Ethics نصاب کا حصہ ہیں لیکن جب تک اس موضوع پر پکڑ نہیں ہو گی، حالات کی بہتری بہت مشکل ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 32 posts and counting.See all posts by abdulmajeed