حیات دُکھ ہے، ممات دُکھ ہے

میں یاسر جواد کو نہیں جانتا۔ اچھی بات شاید یہ ہے کہ وہ بھی مجھے نہیں جانتے۔ میرا ان سے تعارف ان کی آپ بیتی ”کتاب کہانی“ کے ذریعے ہوا۔ انہوں نے ایک مشکل زندگی گزاری اور اس سفر کے دوران بھانت بھانت کے لوگوں سے واسطہ پڑا۔ کتاب پڑھنے کے بعد میں تو اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستان میں بقول مختار مسعود قحط الرجال پڑ چکا ہے۔ ٹھیک آدمی تو نُسخے میں ڈالنے کو بھی نہیں ملتا۔ زندگی

Read more

عثمان قاضی کی کتاب ”سفر و حضر“ پر مختصر تبصرہ

”ہم سب“ سے کچھ اور حاصل ہوا یا نہیں، چند ایسے لکھاریوں سے تعارف ہو گیا جو اس وقت تک اردو اخبارات کی زد سے باہر تھے۔ ان میں سے کچھ، مثلاً حسنین جمال یا فرنود عالم پھر باقاعدہ ”اخباری“ بھی ہوئے لیکن اس انجمن کے باقی ستاروں کی روشنی بھی کم نہیں ہوئی۔ اس فہرست میں عثمان قاضی بھی شامل ہیں۔ ان سے پہلے ہم سب اور پھر سماجی رابطے کے چبوترے (پلیٹ فارم) پر تعلق بنا اور لگ

Read more

سکھوں کی ٹرین ٹو پاکستان چھوٹ گئی: چند حقائق

فیصل مسعود صاحب کا مضمون ”سکھوں کی ٹرین ٹو پاکستان چھوٹ گئی“ دیکھا تو تاریخ کے اس ادنیٰ طالب علم کو دھچکا سا لگا۔ راقم اس سے قبل اپنے استاد ڈاکٹر فیصل مسعود کے متعلق لکھ چکا ہے جو وفات پا چکے ہیں، لیکن ان کے ہم نام لکھاری، جو ابھی تک حیات ہیں، کی تحریر میں بہت سے جھول نظر آئے۔ بظاہر فیصل صاحب نے مضمون کے عنوان میں خوشونت سنگھ کی مشہور کتاب کا حوالہ دیا ہے لیکن متن میں اس کا ذکر نہیں کیا۔ سن وارانہ (chronological) طور پر دیکھا جائے تو محترم نے مارچ سنہ 1940 سے مارچ 1947 تک کا فاصلہ ایک جست میں مکمل کیا، یہ اور بات کہ ان سات سالوں میں ہندوستانی تاریخ میں بہت بڑی تبدیلیاں سامنے آئیں۔

Read more

کرنل نادر علی، کچھ یادیں

کرنل صاحب نے ساٹھ کی دہائی میں کچھ عرصہ بنگال میں گزارا اور انہیں اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ مغربی پاکستان کا استحصالی رویہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گا۔ انہوں نے دیکھا کہ بنگالی افسروں کو باقی فوج سے کم تر سمجھا جاتا تھا اور ان سے امتیازی سلوک ہوتا۔ سنہ 1971 میں بنگال میں فوجی آپریشن شروع ہوا تو کرنل صاحب اس وقت پی ایم ای کاکول میں انسٹرکٹرتھے۔ بنگال سے واقفیت کی بنیاد پر انہوں نے رضاکارانہ طور پر وہاں تعیناتی کے لیے درخواست دی۔ ان دنوں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فوجی افسران کی کوشش ہوتی تھی کہ بنگال نہ جانا پڑے، ایسے حالات میں کرنل صاحب کی درخواست بہت جلد منظور کر لی گئی۔

Read more

کارل مارکس کون تھا؟

وہ کلیم بے تجلی، وہ مسیح بے صلیب نیست پیغمبر و لیکن دریغل دارد کتاب – (اقبال ) 5 مئی 1818 کو پرشیا (موجودہ جرمنی) کے شہر ٹریئر (Trier) میں ایک وکیل کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام کارل رکھا گیا۔ سیاست اور سیاسی تبدیلیوں نے کارل کی زندگی پر اوائل ہی سے سایہ کیے رکھا۔ اس کی پیدائش سے ایک سال قبل اسکے والد کو یہودییت چھوڑنی پڑی کیونکہ 1815 میں پرشیا کی حکومت نے یہودیوں

Read more

ممتاز شاعر احمد مشتاق سے ایک ملاقات

اس معرکے میں عشق بیچارہ کرے گا کیا خود حسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے یہ جو بھی ہو بہار نہیں ہےجناب من کس وہم میں ہیں دیکھنے والے پڑے ہوئے کئی برس قبل استاد محترم سے یہ اشعار سنے جو سادہ الفاظ میں گہرے مفہوم کے حامل تھے۔ بالیدگئی خیال متاثرکن تھی۔ دریافت کرنےپر معلوم ہوا کہ شاعر کا نام احمد مشتاق ہےاور موصوف کئی دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ تصنیف حیدر نے لکھا تھا کہ

Read more

لاہور کا جغرافیہ (جدید)

لاہور کا شمار پاکستان کے وسیع اور کشادہ دل شہروں میں ہوتا ہے۔ اس تاریخی شہر میں آدھے لوگ بیک وقت راستہ بھول چکے ہوتے ہیں اور باقی آدھے لوگ ان بھٹکے ہوﺅ ں کو غلط راستہ سمجھا رہے ہوتے ہیں۔لاہور میں پاکستان کی خوبصورت ترین سڑکیں اور بد ترین ٹریفک پائی جاتی ہے۔بخاری مرحوم نے لگ بھگ نوے سال قبل لاہور کے بارے جو پیش گوئیاں کی تھی وہ حرف بحرف درست ثابت ہو چکی ہیں۔ حدود اربعہ :

Read more

پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود: مکتب کی کرامات  سے فیضان نظر تک

حصول علم کی خاطر گھر سے نکلے کئی دہائیاں بیت گئیں لیکن والدین کی ایک نصیحت آج تک ذہن نشین ہے: ہر صورت میں اساتذہ کی عزت کرنا ورنہ اپنی زندگی میں عزت حاصل نہیں کر سکو گے۔ یہ نصیحت اگلے روز ملنے والی ایک خبر سن کر ذہن میں لہرائی۔ ماہر امراض غدود (اینڈوکرائنولوجی) اور معروف معلم، ڈاکٹر فیصل مسعود انتقال کر گئے۔ زمانہ طالب علمی میں مرحوم ہمارے کالج کے پرنسپل تھے اور ان سے منسوب بہت سی

Read more

ہم نے عقل کو نظر بند کیوں کیا؟

وطن عزیز کو لاحق بہت سے مسائل میں سے ایک تفرد پسندی(Isolationism )  یعنی ’دنیا سے کٹ کے رہنے‘ کا مسئلہ ہے۔ بیرونی دنیا سے رابطے میں کمی کے باعث پاکستان کے باسیوں کے اذہان مختلف النوع پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ داخلی سطح پر ہمارا سماج تنوع کو برداشت نہیں کرتا اور ریاست کی جانب سے جبری فکری یکسانیت کو فروغ دیا جاتا ہے ۔ خارجی روابط کی بدولت ہم باہر کی دنیا سے واقف ہوتے ہیں، دوسرے ممالک کے

Read more

امریکہ میں میڈیکل کی تعلیم

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا نے اگلے روز امریکہ اور پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم میں فرق پر ایک عمدہ اور معلوماتی مضمون لکھا۔ میں گزشتہ تین سال سے اسی جھجنٹ میں پڑا ہوا تھا اور اب کہیں جا کر ریذیڈنسی کا فیصلہ ہوا ہے۔ مجھے پاکستان میں میڈیکل تعلیم حاصل کرنے اور کچھ عرصہ بحیثیت معلم میڈیکل کالجوں میں کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے لہٰذا میں ان کے مضمون کے حوالے سے اپنے مشاہدات کی بنا پر کچھ اضافی معلومات

Read more