صائمہ ملک صاحبہ، ساتھ چلنا مشکل ہے
میرے مضمون کا بنیادی موضوع خواتین کی جانب سے کی جانے والی ہراسانی تھا۔ ہراسانی ایک وسیع مضمون ہے۔ اکثر اوقات محض اپنی طاقت کے اظہار کے لیے بھی دوسروں کو ہراساں کیا جاتا ہے مگر صائمہ ملک صاحبہ نے ہراسانی کو براہ راست جنسی بھوک سے جوڑ دیا ہے۔ پورے مضمون میں جنسی بھوک، جنسی تحریک، جنسی بے راہ روی اور جنس ہی جنس بھری ہوئی ہے۔ دانستہ یا نادانستہ طور پر انہوں نے مضمون میں جنسی خواہشات کو اس طرح سے پیش کر دیا ہے جیسے معاشرے میں محض جنسی خواہشات کی آگ کا دریا بھڑک رہا ہے اور مرد اور عورت جائز یا ناجائز طور پر صرف اور صرف جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے مرے جا رہے ہیں۔ نابالغ بچوں اور بچیوں سے لے کر سمجھدار لڑکیوں اور لڑکوں تک ہر کسی کے جسم میں جنس کا الاؤ دہک رہا ہے۔ اور پھر جب صائمہ ملک صاحبہ زبردستی کا ذکر کرنے سے گریز کرتے ہوئے وقتی معاشقوں کا ذکر کرتی ہیں اور آگ اور کپاس کے کھیل میں مرد و زن دونوں کو برابر کا شریک ٹھہرا دیتی ہیں تو وہ ایک دوسرے موضوع کی طرف نکل جاتی ہیں۔ ان کا اعتراض اوچھے ہتکنڈوں کی حد تک رہ جاتا ہے۔ غالباً وہ جنسی طلب کو محض جبر سے پورا کرنے کے خلاف ہیں۔ جنسی طلب کی باہمی مگر ناجائز رضامندی پر ان کا اعتراض نہیں ہے۔ جبھی وہ کہتی ہیں کہ "باہمی رضامندی سے محبتوں کو پروان چڑھائیں اور نبھائیں۔ میں عشق کے حق میں ہوں یہ ایک مثبت جذبہ ہے۔ اگر اعتدال میں رہے۔” میرے نزدیک عشق اور اعتدال دو متحارب قوتیں ہیں۔ ویسے ہی جیسے آدم کا بیٹا اور حوا کی بیٹی۔ اعتدال سے کام لیا جائے تو پھر وہ عشق ہی کیا؟
معذرت کے ساتھ، میرا مضمون بہرحال اس موضوع پر نہیں تھا۔ وہ ایک خاتون کی نظری ہراسانی پر مبنی انفرادی فعل پر لکھا گیا تھا۔ اس سے پہلے میرا ایک مضمون "عورتیں بھی کم عمر لڑکوں کو ہراساں کرتی ہیں” شائع ہوا تھا۔ ان واقعات کو ضبط تحریر میں لانے کی بنیادی وجہ کچھ خواتین قلم کاروں کی وہ جابجا تحاریر تھیں جن میں مردوں کو ہراسانی درندہ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ اس مضمون میں صرف میں نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ صرف عورت ہی نہیں بلکہ مرد بھی ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں۔ رہی بات میرے مضامین پر رد عمل کی تو وہ ہر قاری کا حق ہوتا ہے کہ وہ کسی مضمون کو اپنی عقل اور شعور اور پسند نا پسند کے تحت ملاحظہ کرے۔ قاری کے اس حق پر کسی بھی طرح سے قدغن نہیں لگائی جا سکتی اور نہ ہی اس پر تنقید کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ لکھنے والا جس زاویئے سے لکھ رہا ہو، پڑھنے والا اس کے بجائے کسی اور زاویئے سے اس کی تحریر کو پڑھ رہا ہو۔
اب اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو صائمہ ملک صاحبہ اور میں دو مختلف میدانوں کے کھلاڑی ہیں۔ آپ اپنوں کے ہاتھوں ستائی ہوئی ہیں اور اس کو تمام معاشرے میں پھیلا ہوا دیکھتی ہیں جبکہ میں مردوں کے خلاف ہونے والی اس ہراسانی کی طرف اشارے کر رہا ہوں جس پر عام طور سے لب کشائی نہیں کی جاتی۔ یہ اور بات کہ میں نے اپنے گھر میں آج تک ایسی کوئی صورت حال نہیں دیکھی۔ لہٰذا جیسے پنگ پانگ کی گیند سے لان ٹینس نہیں کھیلی جا سکتی بالکل ایسے ہی آپ کا اور میرا اس معاملے میں ساتھ چلنا مشکل ہے۔
جہاں تک حل ڈھونڈنے کی بات ہے تو وہ آپ نے خود ہی تجویز کر دیا ہے کہ "ذرا نفسانی خواہشات پر قابو پائیں۔” ہمارے باپ آدم نے حوا کی فرمائش پر شجر ممنوعہ چکھ لیا تھا۔ آدم کی اولاد کے پاس ان سے سبق حاصل کرنے کا موقع ہے۔ شجر ممنوعہ سے ہر قیمت پر دور رہیں۔ جبر کےساتھ ساتھ ناجائز تعلقات سے بھی پرہیز کریں۔ ایک بار ننگے ہو چکے۔ دوبارہ ننگے ہونے کا تصور ہی روح فرسا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شعر ہی چسپاں ہو جائے۔
شمع روشن ہوئی، محفل میں پتنگے ناچے
واہ رے تہذیب! تیری بزم میں ننگے ناچے!


