ہیوسٹن کی کمسن ماں اور کراچی کا رانگ نمبر عاشق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہاں! مگر تمہیں کیسے پتہ چلا، میں ہنس دی۔ مجھے وہ باتونی لڑکی اچھی لگ رہی تھی۔ لیکن کچھ پر اسرار سی بھی۔ مجھے ان دنوں یہاں کے لوگوں سے گفتگو کا ویسے ہی چسکا تھا۔ اس کی وجہ صرف زبان کی مشق تھی۔ ٹیکساس کے محاورے یہاں کی روز مرہ بول چال ہماری انگریزی سے اس قدر مختلف تھی کہ بعض اوقات تو دوسروں کی بات سر سے گزر جاتی۔ یہ میرے لئے ایک اچھا موقع تھا انتظار گاہ کی کوفت سے بچنے کا اور انگریزی زبان کی مشق وغیرہ بھی لگے ہاتھوں ہورہی تھی۔ ویسے بھی اس نے خود ہی میرا پیچھا پکڑ لیا تھا۔ مجھے حیرت بھی تھی کیوں کہ یہاں اجنبی زیادہ بات نہیں کرتے۔ میں نے خیال کیا کہ شاید اسے میری قمیص اچھی لگ رہی ہے۔ یہاں ہاتھ کی کڑھائی والے کام کے لباس کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔

 “مجھے پاکستان جانے کا بہت شوق ہے”۔ اس نے آہستہ سے کہا۔

 اچھا میں نے تعجب سے کہا۔ !

”میرا بوائے فرینڈ کہتا ہے، کراچی بہت خوبصورت ہے۔ جاوید نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ شادی کے بعد مجھے کراچی لے چلے گا۔ “!!

 میں نے اسے غور سے دیکھا۔

جاوید کہاں ہے؟۔ اب میرے سوال کرنے کی باری تھی۔

 ” میرا چند ماہ کا حمل تھا جب اس کی ماں کی بیماری کی اطلاع ملی تواسے کراچی جانا پڑا۔ “۔ لڑکی نے بھولپن سے جواب دیا۔

فون پر تو تمہاری اس سے بات ہوتی ہوگی۔ ؟ میں نے تشویش سے پوچھا۔

” شروع میں تو وہ برابرفون کرتا تھا۔ پھر اس نے بتایا کہ کچھ دن کے لئے وہ گاﺅں جا رہا ہے فون نہیں کرسکے گا۔ اس نے کہا تھا کہ میرا بھائی یہاں ہوگا کوئی ضروری بات ہو تو تم اسے پیغام چھوڑ دینا۔ وہ بات کرتے کرتے رک گئی۔۔

میں نے محسوس کیا کہ وہ کچھ ضبط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔۔

وہ پھر گویا ہوئی۔۔ شروع میں توسب کچھ ٹھیک تھا۔ لیکن اب اس کا بھائی بھی وہاں نہیں رہتا۔ کچھ عرصے سے اس نمبر پرمیں ٹرائی کرتی ہوں مگر کوئی دوسرا مرد فون اٹھاتا ہے اور رانگ نمبر کہہ کر بند کردیتا ہے۔ تمہیں پتہ ہے کہ کالنگ کارڈ کتنا مہنگا ہے۔ پانچ ڈالر کے کارڈ میں مشکل سے چند منٹ بات ہوسکتی ہے۔ اس پر سے اگر لائن کٹ جائے تو دوبارہ ملانے کے سروس چارجزالگ۔ اس طرح کارڈ بہت جلدی گھل جاتا ہے۔

ہاں مجھے معلوم ہے۔ بہت کوفت ہوتی ہے۔ اکثر تو بات کئے بغیر ہی کارڈ گھل جاتا ہے۔ میں نے بھی اپنا تجربہ بیان کیا۔

ویسے تمہارا نمبر بھی تو اس کے پاس ہوگا۔ میں نے اسے مزید کریدا۔

“شاید وہاں اس کے پاس فون کی سہولت نہیں ہے۔ “اس نے بجھے ہوئے لہجے میں جوب دیا۔

 “۔ ویسے میرے پاس اس کاایڈریس ہے میں چاہتی ہوں کہ اسے اس کی بیٹی کی تصویر بھیج دوں لیکن اب وہ وہاں نہیں رہتا۔ امینہ بالکل جاوید جیسی ہے”۔ اس نے بچی کے چہرے سے کمبل کا کونا ہٹاکر اس کی طرف اشارہ کیا۔

 میرا جی چاہا کہ میں اس سے کہہ دوں کہ اس نے تمہیں دھوکا دیا ہے لیکن میں ایسا کرنہ سکی۔

گاﺅں جانے کے بعد اس نے تم سے کوئی رابطہ کیا؟ میں نے سوال کیا۔

“ہاں شروع شروع میں تو فون آیا تھا۔ وہ اپنی ماں کی بیماری سے بہت پریشان تھا۔ شاید اس لئے پھر فون آنا بند ہوگیا۔ “اس نے سپاٹ سے لہجے میں جواب دیا۔

 تم کیا سمجھتی ہو وہ واپس آئے گا؟ میں نے اسے کریدا۔

“وہ مجھ سے پیار کرتا ہے۔ اور اب تو میرے پاس اس کی بے بی بھی ہے اب تو اسے آنا چاہئے۔ “

 لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ آئے گا۔ آخر مجھے کہنا ہی پڑا۔

جواب میں وہ کچھ دیر خاموش اپنے ناخن کے کناروں کو کریدتی رہی۔ “مجھے یقین ہے کہ وہ آئے گا۔ وہ مجھے دھوکہ نہیں دے سکتا۔ حالانکہ میری ماں یہی کہتی ہے جو بات تم نے کہی ہے۔ مہینوں ہوگئے ہیں فون اور خط آنا بھی بند ہوگیا ہے۔ اس وقت بے بی چار ماہ کی ہے وہ گیا تھا تو تین ماہ کا حمل تھا۔ تم سوچو کتنے دن ہوگئے۔ اس کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ “

میں حیرت سے سوچتی رہی یہاں بھی لڑکیا ں اتنی معصوم ہوتی ہیں یہ تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ مجھے دکھ یہ تھا کہ وہ یہ بھی یقین کرنے کو تیار نہیں ہے کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ کیا سبھی لڑکیا ں دیوانی ہوتی ہیں ؟ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ ؟

 “پلیز تم کراچی جاﺅ تو جاوید کو ضرور ڈھونڈنا۔ تمھیں وہ ملے تو بتانا کہ اس کی بے بی بہت پیاری ہے۔ “

یہ کہتے کہتے اس نے پرس سے قلم اورکاغذ کا پرزہ نکالا۔ تیزی سے لکھا اور میری طرف بڑھا دیا۔ “یہ جاوید کا فون نمبر ہے اور کراچی کا پتہ۔ اور یہ میرا ہیوسٹن کا فون نمبر ہے”۔ اس نے پرچی میرے ہاتھ میں تھما دی۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہہ سکتی نرس نے بچی کا نام پکارا۔ اس نے جاتے جاتے پلٹ کر پر امید نظروں سے مجھے دیکھا، ہاتھ ہلایا اور دروازہ بند ہو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •