اوریا مقبول جان سے ڈانلڈ ٹرمپ ڈر گیا

اوریا مقبول جان صاحب نے اس پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے کہا کہ وہ بندوق یا توپ نہیں چلاتے، صرف گفتگو کرتے ہیں۔ درست ہے۔ اوریا صاحب صرف بات کرتے ہیں، اب بات سن کر کوئی بندوق اور توپ چلانے لگے تو اس کی ذمہ داری اوریا صاحب پر نہیں ہے۔ اوریا صاحب نے نشاندہی کی کہ امریکہ کا بیانیہ ساری دنیا میں فیل ہو چکا ہے اور وہ افغانستان میں بدترین شکست کے قریب ہے، اب اوریا صاحب کو جہاز پر چڑھنے سے روک کر امریکہ اپنی شکست کی خفت مٹانا چاہتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ ویسے بھی انہیں امریکہ جانے کا کوئی شوق نہیں ہے اور انہیں بہت خوشی ہوئی ہے کہ لیٹر لکھا گیا ہے کہ انہیں سوار نہ ہونے دیا جائے۔
اوریا صاحب نے امریکہ کی بدحواسی بیان کرتے ہوئے کچھ اس طرح کہا کہ ”کھل کر سامنے آنا چاہیے، چھپ چھپا کر لیٹر کیوں لکھتے ہیں، مجھے دو سال پہلے پانچ سال کا ویزا کیوں جاری کیا تھا۔ جاری کیا تھا تو اناؤنس کریں کہ ہم نے ویزا کینسل کر دیا ہے، اس طرح تو عالمی طاقتیں نہیں کیا کرتیں، مجھے تو کوئی شوق نہیں نیویارک پر قدم لگانے کا، نہ میرے لئے کوئی مقدس سرزمین ہے کہ وہاں جاوں گا۔ جو حرکت انہوں نے کی ہے وہ ڈپلومیٹک نارمز کے مخالف ہے۔ میں ایک چھوٹا سا آدمی ہوں۔ ایک چھوٹے سے آدمی سے امریکہ خوفزدہ ہے۔ آپ ایک آدمی کے پاؤں کے ناخن کی تلاشی لیتے ہیں۔ اسے نہتا کر کے اپنے ملک میں داخل کرتے ہیں۔ پھر اس سے خوفزدہ ہیں۔ میں نے ابھی تین مہینے پہلے 15 سٹیٹس میں لیکچر دیے ہیں۔ اس کا کوئی اثر ہوا ہو گا۔ اس سچ سے امریکہ گھبراتا ہے“۔
اوریا صاحب کے اس موقف سے اختلاف کرنا ممکن نہیں ہے۔ اوریا صاحب بار بار اپنی خوشی سے امریکہ نہیں جاتے۔ وہ ایک دانشمند شخص ہیں۔ اس لئے داناؤں کے اس مقولے پر عمل کرتے ہیں کہ دوست کو قریب رکھو مگر دشمن کو قریب تر رکھو۔ چنانچہ وہ بار بار امریکہ جا کر نہ صرف امریکہ کی تمام کمزوریوں اور سماجی، اخلاقی و جنسی بے راہ روی اور پستی کے عینی شاہد بن چکے ہیں اور اس کی کمزوریاں جان چکے ہیں بلکہ امریکہ کے اندر گھس کر اس زور سے حق بیان کرتے ہیں کہ امریکہ لرز کر رہ گیا ہے۔
اوریا صاحب کے تین مہینے پہلے پندرہ امریکی ریاستوں میں لیکچر دینے کے بعد ڈانلڈ ٹرمپ ڈر گیا ہو گا کہ کہیں اب امریکہ میں بھی سودی معیشت ڈھے نہ جائے اور اس کی عالمی معاشی برتری ختم ہو جائے، گمراہ مسالک و مذاہب سے زور بازو کے ذریعے نجات پانے کا رواج شروع ہو جائے، دوسرے شہریوں کی بدی کو ہاتھ سے روکنے کی جرات ہر امریکی شہری میں پیدا ہونے لگے، آزادی اظہار کے نام پر اپنی من چاہی بات کرنے کی روایت غتر بود ہو جائے۔ یہ گویا ڈانلڈ ٹرمپ نے اوریا صاحب کی جادو بیانی کو تسلیم کر کے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا ہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ کہیں اوریا صاحب کی تبلیغ کے نتیجے میں امریکہ کا افغانستان نہ بن جائے۔
اسی لئے تو اس نے تمام سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بغیر بتائے ہی اوریا صاحب کا ویزا علانیہ طور پر منسوخ کرنے کی بجائے چپکے چپکے جہاز والوں کو ہدایت دے دی ہے کہ ان کو جہاز میں نہ بٹھایا جائے۔ ورنہ سفارتی آداب تو یہی کہتے ہیں کہ کسی بھی عام شہری کا ملک میں داخلہ مطلوب نہ ہو تو ملکی و بین الاقوامی میڈیا پر اس کی تشہیر کی جائے کہ ہم فلاں ملک کے فلاں شہری کو ویزا نہ ہونے کے باوجود اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ یہ کہاں کی بہادری ہے کہ جہاز والوں سے مل کر اس طرح کی مذموم سازش خاموشی سے کر لی جائے؟

ٹرمپ کو خبر ہو کہ اوریا صاحب نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بندوق یا توپ نہیں چلاتے۔ بظاہر ٹرمپ بھی بندوق یا توپ نہیں چلاتا۔ وہ صرف نفرت آمیز باتیں کرتا ہے۔ اگر یہ باتیں سن کر کوئی دوسرا بندوق یا توپ چلانے لگے تو قانونی طور پر اس کا ذمہ دار ٹرمپ نہیں ہے۔ لیکن اس کی بے شرمی ملاحظہ ہو کہ خود ایسی نفرت آمیز گفتگو کے باوجود وہ اعتراض کس پر کرتا ہے؟ اوریا مقبول جان پر کہ وہ انتہاپسندی پھیلاتے ہیں۔
بہرحال مناظرے میں اگر دونوں برابر رہیں تو ایک آخری حل موجود ہے۔ دونوں کی گوجرانوالہ میں کشتی کرا لی جائے۔ واشنگٹن میں کشتی کرانے کی تجویز اس لئے نہیں دی کہ ادھر امریکیوں کے سامنے دھول چاٹ کر ٹرمپ کھسیانا ہو گا، گوجرانوالے کی ویڈیو پر تو وہ تاویل پیش کر سکتا ہے کہ ویڈیو ایڈیٹنگ کر کے جعلی بنائی ہے۔ ٹرمپ کی شکست پکی ہے کیونکہ وہ اوریا صاحب جیسے کردار والے شخص کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے جو اکیلے ہی ہزار منافق و مکار کفار پر بھاری ہیں اور ٹرمپ کو منٹوں میں دھول چٹا دیں گے۔

