ہم نے جوڈیشل ایکٹوازم کے اصول پر امریکی ہسپتال کا معائنہ کیا
مبشر بھائی جب سفر پر نکلتے ہیں تو لائف بوائے اور لقمانی منجن، بھنے ہوئے چنے اور اسپغول کی بھوسی، ڈسپرین اور کھانسی کا شربت ہینڈ کیری میں رکھ لیتے ہیں۔ کھانسی کا شربت وہ والا نہیں جو بہکی بہکی باتیں کرنے والا ہمارا ایک دوست ناک بند کرکے پیتا تھا اور اس کے بعد ہوش میں آجاتا تھا۔ وہ اسے کبھی کھانسی کا شربت کہتا تھا، کبھی نزلے کا اور کبھی بخار کا۔ لیکن ایک عالم دین سے بیعت ہونے کے بعد اس نے کھانسی کا شربت پینا چھوڑ دیا تھا۔ اب اس غریب کا میٹھے پان پر گزارہ ہے۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ بیگ میں کپڑے رکھنا بھول جاؤں، جوتے رکھنا بھول جاؤں، کتابیں رکھنا بھول جاؤں لیکن لقمانی منجن رکھنا نہیں بھولتا۔ برے وقتوں میں ہم صحافی منجن ہی بیچتے ہیں۔ صابن تو اچھے اچھے بازار میں ہیں لیکن لائف بوائے سے نہا کر بوائے بوائے فیل ہوتا ہے۔ سفر میں کھانا ملنے میں دیر ہوجائے تو چنے بھوک مٹاتے ہیں۔ اور کھانا زیادہ کھالیں تو اسپغول کی بھوسی ہاضمہ درست رکھتی ہے۔ درد سر میں ہم خود کفیل ہیں اس لیے اسپرین، ڈسپرین، پونسٹان، کال پول، پیراسیٹامول، اول فول، سب دوائیں رکھنا پڑتی ہیں۔ ہاں ایک دوا اینزائٹی کی بھی لینا پڑتی ہے۔ کبھی کبھی لیتا ہوں اس لیے کبھی ساتھ ہوتی ہے کبھی نہیں۔
کل خیال آیا کہ ڈھائی ماہ امریکا آئے ہوئے ہوگئے، ہم نے اسپتال نہیں دیکھا۔ خدا نہ کرے کہ اسپتالوں کے چکر لگیں لیکن کبھی جانا پڑگیا تو کچھ سمجھ میں نہیں آئے گا۔ بوکھلائے بوکھلائے پھریں گے۔ آج چھٹی ہے اور ایک چھوٹا سا اسپتال گھر کے پاس ہے۔ کیوں نہ اس کا مطالعاتی دورہ کرلیا جائے۔ اتوار کا دن تھا اور رات کا وقت۔ اسپتال پہنچا تو دیکھا کہ کئی منزلہ پارکنگ پلازا صرف ڈاکٹروں اور مریضوں کے لیے بنا کر کھڑا کیا ہوا ہے۔ بے حد فضول خرچ لوگ ہیں یہ امریکی۔ اسپتال کی عمارت کے باہر کھڑے ہوکر کافی دیر سوچا کہ کون سے دروازے سے داخل ہوں۔ ایک عمارت کا نام چلڈرنز اسپتال تھا، ایک کا نام ویمنز اسپتال۔ ایک دل کے مریضوں کے لیے اور ایک کینسر پیشنٹس کے لیے۔ ایک ایمرجنسی اور ایک کنسلٹنٹس بلڈنگ۔ میں نے سوچا کہ اتوار کی رات اور کون ملے گا۔ ایمرجنسی میں چلتے ہیں۔ وہاں تک پہنچنے کے راستے پُرپیچ تھے۔ یا میں پہلی بار آیا تھا اس لیے مجھے ایسا لگا۔ راستے میں فارمیسی یعنی میڈیکل اسٹور دکھائی دیا، لائبریری دکھائی دی، سووئنیئرز شاپ بھی تھی۔ فوڈ کورٹ بھی موجود تھا۔ بھائی جان میں اسپتال آیا ہوں یا شاپنگ سینٹر۔
گلے میں اسٹیتھ اسکوپ لگائے ایک خوبصورت لڑکی دکھائی دی تو میں نے پوچھا، آپ کا نام کیا ہے؟ عمر کتنی ہے؟ کام کیا کرتی ہیں؟ کھانے میں کیا پسند ہے؟ اور پینے میں؟ وہ کہنے لگی، ڈاکٹر میں ہوں اس لیے یہ تمام سوال میں کروں گی۔ اور وہ بھی وقت آنے پر۔ وہ سامنے استقبالیہ ہے۔ ان سے رابطہ کریں۔ استقبالیہ والی خواتین لگتا ہے کہ میرے ہی انتظار میں بیٹھی تھیں۔ انھوں نے نام پوچھا، پسند ناپسند پوچھی، کھانے پینے کی تفصیلات معلوم کیں اور ایک کاغذ دے کر کہا کہ جلدی سے اس پر دستخط کردیں۔ میں نے کہا کہ دستخط تو یہ لیجیے لیکن یہ تو پوچھیں کہ یہاں کیوں گھوم رہا ہوں؟ انھوں نے کہا کہ وہ سامنے اندر چلے جائیں۔ یہ سوال ادھر پوچھا جاتا ہے۔ میں وہاں پہنچا تو ایک سفید فام خاتون نے بلڈ پریشر چیک کیا اور ایک سیاہ فام خاتون نے درجہ حرارت چیک کیا۔ اس دوران میں ایک گندم فام خاتون نے میرا چشمہ چیک کرلیا۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ کا بلڈ پریشر کیا عام طور پر زیادہ رہتا ہے۔ میں نے کہا، نہیں تو۔ اکثر نارمل رہتا ہے۔ کبھی نوے ایک سو چالیس بھی نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ایک سو پچپن ایک سو پانچ ہے۔ میرے چھکے چھوٹ گئے۔ آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگے۔ جسم پسینے میں نہا گیا۔ حلق میں آواز پھنس آگئی۔
ایک بگ شو جیسا پہلوان میل نرس مجھے ایمرجنسی میں لے گیا اور ایک بستر پر بٹھادیا۔ ایک دم کئی ڈاکٹر حملہ آور ہوئے۔ انڈر ٹیکر نے اسٹیتھ اسکوپ سے پھیپھڑوں کا معائنہ کیا، ہوک ہوگن نے یورین ٹیسٹ کے لیے پوٹ حوالے کیا کہ گردوں کی تکلیف میں بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ آندرے دی جائنٹ نے بلڈ ٹیسٹ کی اجازت لے کر خون نکالا۔ ٹرپل ایچ نے پھر بلڈ پریشر چیک کر کے مطلع کیا کہ اب بھی اوپر والا ایک سو ساٹھ اور نیچے والا سو کے آس پاس ہے۔ ٹیسٹ سیمپل لے کر مجھے بتایا گیا کہ رزلٹ آدھے گھنٹے بعد ملے گا اس لیے اس بستر پر آرام کیجیے۔ میں نے فون نکال کر اسپتال کے وائی فائی سے کنیکٹ کیا اور انٹرنیٹ پر ہائی بلڈ پریشر کی علامات، فوائد اور نقصانات دیکھے۔ پھر آدھے گھنٹے تک وصیت لکھتا رہا۔ اپنے دوست اسد مہدی ایڈووکیٹ کو خانیوال فون کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہ ہوسکا۔ آدھے گھنٹے میں رپورٹس آگئیں۔ بگ شو نے مایوسی کا اظہار کیا کہ سب رپورٹس کلیئر ہیں۔ انڈرٹیکر نے کہا کہ بازار سے مشین لے کر ایک ہفتے تک صبح شام بلڈ پریشر چیک کرو۔ اگر اس دوران انتقال نہ ہوجائے تو پھر آنا، ہم کوئی دوا ضرور دیں گے۔
میں نے گھگیاتے ہوئے پوچھا کہ گھر جانے کی اجازت کب ملے گی؟ ایک حور پری قسم کی لڑکی نے ہنس کر کہا، یو آر فری لائیک آ برڈ۔ میں نے بہت کہا کہ باہر ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے، اڑنے میں خوب لطف آئے گا لیکن اس نے عذر پیش کیا کہ چراغ خانہ ہوں، تیز ہوا میں جانے سے ڈر لگتا ہے۔ دوستوں نے ڈرایا تھا کہ امریکی اسپتال بہت مہنگے ہوتے ہیں۔ علاج کے نام پر لاکھوں روپے فیس لیتے ہیں۔ میڈیکل انشورنس نہ ہو تو ملینیئر بھی علاج نہیں کروا سکتے۔ مجھ سے تو ایک روپیہ نہیں لیا۔ شاید کوئی بیماری نہ ملنے کی وجہ سے شرمندہ ہوگئے۔ واپسی پر راستے میں سی وی ایس فارمیسی پر رکا تاکہ بی پی آپریٹس خرید لوں۔ دیکھا کہ وہاں عوام الناس کی سہولت کے لیے ایک آٹومیٹک مشین رکھی ہے۔ آپ بازو پر پٹا باندھیں اور بٹن دبادیں۔ منٹ بھر میں اعدادوشمار سامنے آجائیں گے۔ میں نے خریداری سے پہلے اس مشین کو جانچنا چاہا۔ اوپر والا ایک سو بیس، نیچے والا اسی۔ میں نے سوچا، اسی ڈالر خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟


