زندگی بستر اور چولہا گرم کرنے کے تصورات سے بڑھ کر ہے


ہمارے ہاں سوچنے سمجھنے اور منطقی سوچ کا چونکہ فقدان ہے اس لئے کوئی بھی ایسا نظریہ جو ہمارے خود ساختہ نظریات سے تال میل نہ رکھتا ہو یا پھر مجموعی فہم و دانش کی بساط سے باہر ہو تو اس کی نفی کرنے کیلِے ٹھٹھے لگانا، جگت بازی کرنا یا پھر فورا دین کی ڈھال کو اپنی برتری کے لئے استعمال کرنا ایک عام فہم اور قابل قبول رسم ہے۔ حال ہی میں خواتین کے حقوق کی ایک ریلی جو لاہور میں منعقد ہوئی اس کے پلے کارڈز پر چند بچیوں اور خواتین نے ”میرا جسم میری مرضی“ اور ”کھانا خود گرم کر لو“ کے سلوگن آویزاں کیے ہوئے تھے۔ ان سلوگنز کو دیکھ کر ہماری آبادی کے ایک کثیر حصے کو ”مردانگی“ کے انتہائی شدید مروڑ اٹھنا شروع ہو گئے اور ایک طوفان بد تمیزی سوشل میڈیا اور نجی محفلوں میں دیکھنے کو ملا۔ ان سلوگنز کا مذاق اڑاتے ہوئے جوابا احمقانہ طرز کے فقرے کسے گئے جس سے اندازہ ہوا کہ ہمارے ہاں مردانگی اور حیا کا محور جسم کے ان حصوں تک محدود ہے جن سے جنسی آسودگی و تسکین حاصل کی جاتی ہے۔

ہم کمال کے منافق لوگ ہیں زندگی سے لطف بھی اٹھاتے ہیں اور اس کی رونقوں اور رعنائیوں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اپنے ارد گرد یا جہاں پر ہمارا زور چلے زندگی کی رنگینیوں کو دوسروں کے لئے ناجائز سمجھتے ہیں۔ شخصی آزادی ہمارے لئے تو ہونی چائیے لیکن صنفی بنیادوں پر اس شخصی آزادی کا حق جنس مخالف کے پاس ہرگز بھی نہیں ہونا چائیے۔ یہ تصور چونکہ ہمیں روایات اور عقائد کی صورت میں گھٹی کی طرح پلا دیا جاتا ہے اس لئے مجموعی طور پر آبادی کی اکثریت شخصی آزادی کو خالصتا مردانہ حق سمجھتی ہے اور خواتین کا اپنے جذبات یا خواہشات کا اظہار ایک گناہ یا پھر ناقابل قبول اور شرم و حیا کے منافی فعل گردانا جاتا ہے۔ بچیوں کو کھانا گرم کرنے اور بستر گرم کرنے والی ایک ایسی مشین سمجھا جاتا ہے جسے قدرت نے صرف مرد حضرات کی اطاعت کے لئے زمین پر اتارا ہے۔ ہمارا سماج آج بھی عربی بدووں کی ثقافت اور روایات کو اپنے اوپر جبری طور پر مسلط کرنے کے نتیجے میں ایک گھٹن کا شکار ہے۔ حالانکہ عربی بدو اب خود اپنی روایات اور ثقافت کو غلط مان کر بتدریج ایک روشن خیال اور لبرل معاشرے کی جانب بڑھنے کا سفر طے کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ستر کی دہائی سے قبل کسی بھی قسم کے پردے یا چادر چار دیواری کا تصور موجود نہیں تھا۔ ستر کی دہائی میں خلیجی ممالک میں جب پاکستان کی مڈل کلاس آبادی کو سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ریاستوں میں روزگار کے مواقع ملے تو درہم و دینار کے ساتھ ساتھ عربوں کی ثقافت بھی پاکستان میں داخل ہو گئی۔

جونہی یہ برآمد شدہ ثقافت ہمارے ہاں داخل ہوئی تو وطن عزیز میں موجود صدیوں پرانی ثقافت کو مذہب کے نام پر مٹانے کا کھیل جاری ہو گیا۔ پہلے خاندانوں میں موجود کزنز اور دیگر رشتے پردے اور حجاب کی آڑ میں ایک دوسرے سے بیگانے ہوئے پھر جامعات اور دفاتر سے ہوتا ہوا یہ سلسلہ مجموعی معاشرتی اقدار کا حصہ بن گیا۔ تنگ نظری کی چادر مزید پھیلی اور ملک میں موجود الکوحل کے سٹوروں کو بند کروایا گیا۔ مخلوط فنکشنوں اور نظام تعلیم کو نشانہ بنایا گیا اور رفتہ رفتہ وطن عزیز کو پاکستان سے الباکستان بنا دیا گیا۔ چونکہ عرب بدووں کی زندگی کا محور صرف عورت اور شراب کے گرد گھومتا تھا اور ان دونوں لوازمات کو وہ ڈھک چھپ کر پردے میں استعمال کرتے ہوئے چودہویں صدی کے افکار و روایات کو زندہ رکھنا چاہتے تھے اس لئے ان کے ہاں ظاہری سطح پر تو عورت کو برقعے اور حجاب میں لپیٹ کر اسے عزت و تکریم کی اوج کہا جاتا رہا لیکن درحقیقت بنیادی انسانی جبلتوں کو نہ دبایا جا سکا۔ نتیجتا وہاں نجی محفلوں میں چوری چھپے شراب اور عورت دونوں سے لطف اندوز ہونے کا رجحان پروان چڑھا جبکہ جو لوگ بیرون ممالک جانے کی استطاعت رکھتے تھے انہوں نے یورپ اور امریکہ میں اپنی جبلتوں کی تسکین کا سامان ڈھونڈ لیا۔

چونکہ پاکستان بھی اس دوران انہی عرب ممالک کی ثقافت کو اپنے اوپر مسلط کر چکا تھا اس لئے وطن عزیز میں بھی اسی ڈبل اسٹینڈرڈ کا رجحان تیزی سے پروان چڑھا۔ خواتین کو مذہب اور پردے کی آڑ میں گھروں میں قید کرنے کو قبولیت کی سند ملی۔ شراب چوری چھپے اسی طرح بکتی اور پی جاتی رہی جیسے الباکستان بننے سے پہلے پی جاتی تھی لیکن فرق یہ پڑا کہ اب بوتل بھی چادر اور چار دیواری میں لپیٹ کر استعمال کی جانے لگی۔

جو حضرات استطاعت رکھتے تھے یا جنہیں مواقع ملے وہ امریکہ و یورپ جا کر بس گئے وہاں کے آزادانہ ماحول اور لبرل پالیسیوں کی بدولت دھن بھی کمایا اور زندگی سے بھی لطف اندوز ہوئے، لیکن وہاں بیٹھ کر بھی وطن عزیز میں چادر چار دیوار ی، شریعت کے نفاذ اور کفار کے نیست و نابود ہونے کے غم میں گھلتے رہے۔ جن افراد کو امریکہ و یورپ جانے کا موقع نہ ملا وہ دبئی یا ہانگ کانگ نکل دیے اور درمیانی عمر میں خضاب لگا کر جوانی کے ادھورے ارمان پورے کرتے پائے گئے۔ یوں وطن عزیز ڈالرز، ریال، درہم اور پاونڈ کی برکتوں سے ایک ایسی تجربہ گاہ بن گیا جہاں ہر کوئی اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق بنیادی جبلتوں پر قدغنوں کو دین اور ثقافت سمجھ کر صدق دل سے شخصی آزادیوں کو سلب کرنے اور عقائد کے سوداگروں کو مضبوط کرنے میں اپنا اپنا حصہ جی جان سے ڈالتا ہے۔

میرا جسم میری مرضی کے نعرے ایسے معاشرے کی سماعتوں پر ناگوار کیوں نہ گزریں جس کا جنت کا تصور بھی عورت اور شراب کے بنا ادھورا ہے۔ کھانا خود گرم کر لو کے نعرے ناگوار تو گزریں گے کہ دیسی مرد بستر اور کچن کو خواتین سے گرم کروانا پیدائشی حق اور خدائی دین جو سمجھتے ہیں۔ چادر چار دیواری کو بنیاد بنا کر بچیوں کو ڈھور ڈھنگروں کی مانند زندگی بسر کروانے والے کیونکر یہ سننا بھی گوارا کریں گے کہ باشعور بچیاں ان قدغنوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہیں۔ منافقانہ پن کی انتہا ہے کہ گندے پانی کے جسم سے نکاس کے عمل کو زندگی کا کل حاصل سمجھتے ہوئے عورت کی شخصی آزادی کو جنس اور جنسی آسودگی کے تناظر میں دیکھا جائے اور مذہب اور روایات کو بطور ڈھال اس شخصی آزادی کے خلاف استعمال کیا جائے۔

زندگی جمود کے جوہڑوں اور قدغنوں کے نالوں میں نہیں پنپتے پاتی۔ اس کی افزائش ایک آزاد ماحول اور بنا کسی زور زبرستی کے عقائد و نظریات کے ممکن ہوا کرتی ہے۔ عورت اپنا جسم کیسے استعمال کرتی ہے یا ڈھانپتی ہے وہ کھانا گرم کرتی ہے یا نہیں اس کی فکر اور غم میں غلط ہونے کے بجائے پہلے جسموں اور جذبات کی زبان کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ زندگی بستر اور چولہا گرم کرنے کے تصورات سے بڑھ کر لا محدود وسعتوں پر مبنی ہے۔ اگر بنیادی جبلتوں پر قدغنیں عائد کرنے کے بجائے ان کے اظہار اور تسکین پر پابندیاں نہ لگائی جائیں تو بستر اور چولہا گرم کرنے کے سلوگنز نہ تو محروم اور ناآسودہ جذبات کو ٹھیس پہنچائیں گے اور نہ ہی مذہب اور روایات کو ڈھال بنا کر بچیوں کی شخصی آزادی کے تصورات کا مذاق اڑا کر اسے اپنی مردانگی اور عقائد پر لگنے والی ضرب کاری سمجھا جائے گا۔

Facebook Comments HS