عورت اور مرد کی برابری: آخر مسئلہ کیا ہے؟
سب سے پہلے ہم شادی کے معاملات کو دیکھتے ہیں دوسرے تین مکتبہ فکر سے ہٹ کر حنفی قانون ایک مسلمان عورت کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے ولی کی مرضی کے بغیر اپنی مرضی کے مرد سے شادی کر سکتی ہے۔ پاکستان میں فقہ حنفی سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت ہے۔ اگر عورت کو بعد میں احساس ہو کہ اس نے جلد بازی سے کام لیتے ہوئے اپنے سماجی و معاشی رتبے سے کم تر شخص سے شادی کر لی ہے اس صورت میں اسی حنفی قانون کے تحت اس کا ولی شادی کی قانونی تنسیخ کے لیے دعوٰی دائر کر سکتا ہے۔
ایک مرد کے لیے اپنی بیوی کو طلاق دینا ایک عام اورآسان سی بات ہے جبکہ بیوی کے لیے شوہر کو چھوڑنا آسان نہیں۔ اصلاحی قانون سازی نے کئی اسلامی ملکوں میں اس معاملے میں شوہروں پر پابندیاں لگائی ہیں لیکن اس حوالے سے اسلام میں بھی عورتوں کے لیے دادرسی کی سہولتموجود ہے۔ مالکی فقہ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی بیوی کومارتا یا زخمی کرتا ہے تو وہ سزا کا حقدار ہے اس کایہ عمل اس کی بیوی کو شادی کے قانونی خاتمے کی بنیاد بھی فراہم کر سکتا ہے۔
ایک عورت اپنے شوہر سے مالی معاہدہ یعنی شادی کے وقت دیئے گئے تحائف واپس کر کے بھی اپنی شادی کو ختم کر سکتی ہے مزید یہ کہ میاں اور بیوی کے درمیان ناقابل مصالحت اختلافات کی صورت میں عدالت شوہر کی مرضی کے خلاف بھی طلاق کی ڈگری جاری کر سکتی ہے
شافعی فقہ کے مطابق اگر شوہر شادی کے موقع پر اپنے بارے میں غلط معلومات فراہم کرے مثلاً اپنے بزرگوں (شجرہ نسب) کے بارے میں غلط بتائے تو شادی منسوخ اور باطل ہو جاتی ہے اور ایسی صورت میں بیوی عدالت سے تنسیخ نکاح کے لیے رجوع کر سکتی ہے کیونکہ اسلام میں شادی ایک معاہدہ ہے۔
ہر فریق اپنی مرضی سے شادی کے اس معاہد ے میں کوئی بھی شرط رکھوا سکتا ہے اگر ایسا ہونے کی صورت میں دونوں فریق اس کے پابند ہوں گے اور امام حنبل کی رائے میں اس شرط کی خلاف ورزی اس شادی کی قانونی منسوخی کی وجہ بن سکتی ہے مثال کے طور پر عورت مرد سے یہ شرط رکھنے کے لیے کہہ سکتی ہے کہ وہ اس شادی شدہ زندگی میں دوسری شادی نہیں کرے گا۔ عورت اسی طرح مرد سے اور عہد بھی (جوکہ غیر قانونی نہ ہوں ) لے سکتی ہے اور بعد میں ان کی پابندی مرد پر لازم ہو گی۔
عورت کو وراثت میں اپنے باپ کی جائیداد سے بھائی سے کم حصہ ملتا ہے لیکن اپنی شادی پر وہ تحائف کی شکل میں کافی کچھ حاصل کرتی ہے جبکہ اس کے بھائی جہیز گھر میں لاتے ہیں جو کہ ان کی بیویوں کے والدین انہیں شادی پر دیتے ہیں۔ مزید برآں ایک باپ اپنے مرنے سے پہلے اپنی ملکیت یا کوئی بھی حصہ اپنی بیٹیوں کو دینے میں آزاد ہے۔ اکثر عدالتی معاملات میں عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے آدھی ہونا درحقیقت ایک تفریق ہے لیکن شاید بہت معمولی سی۔ کسی بھی معاشرے میں عدالت میں بطور گواہ جانا ایک ایسا مشکل کام ہے جس سے اکثر لوگ بچنا چاہتے ہیں۔
بہت سی مسلمان ریاستوں میں ماہرین قانون اور مقننہ عورتوں کے حقوق کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے اور اسے تحفظ دینے کے لیے تمام مکاتب قانون کو مساوی طور پر اسلامی سمجھتے ہوئے ان پر انحصار کرتے ہیں۔ ہم پاکستان میں بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔ اسلامی قانون کسی مسلمان کو کسی خاص مکتبہ فکرتک محدود نہیں کرتا۔ دوسرے الفاظ میں ایک شخص جو کہ حنفی فرقے سے تعلق رکھتا ہے وہ کسی خاص معاملے میں امام مالک کی تعلیمات کو ابوحنیفہ کی تعلیمات پر ترجیح دے سکتا ہے اور پھر بھی وہ پہلے کی طرح ایک اچھا مسلمان رہے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ بطور مآخذ قانون امام مالک اور امام حنبل کی تعلیمات ”عوامی مفاد“ جبکہ امام ابو حنیفہ کی تعلیمات ”ضرورت“ کے زمرے میں آتی ہیں۔ یقینًا ہماری عورتوں کی ترقی ”عوامی مفاد“ اور” ضرورت “دونوں میں شمار ہوتی ہے وہ مرد طلبا کے ساتھ کالجزاور یونیورسٹیوں میں پڑھ سکتی ہیں اور بہت سے مقامات پر وہ مردوں کے ساتھ کام کرتی ہیں اسی حوالے سے ان پر کسی قسم کی کوئی قانونی پابندی نہیں ہے۔ وہ ان معاملات میں آزاد ہیں۔ سوائے ایسی صورت کے کہ ملک کسی قسم کی طالبانائزیشن کے زیر اثر نہ آجائے۔
ہمارے معاشرے کے زیادہ روایتی عناصر اورعام طور پر تیسری دنیا میں ہمیشہ عورتیں ہی مردوں کی ماتحت نہیں ہیں۔ بہت سے گھروں میں بیوی شوہر کی نسبت زیادہ با اثر ہوتی ہے اور اس بات کا انحصار زیادہ تر ان کی شخصیت کی مضبوطی‘ ان کی پیدائشی ذہانت اور ان کے معاشی پس منظر پر ہے۔
بچوں کی پرورش‘ گھر کا انتظام سنبھالنا اور خاندان کے بجٹ کاحساب رکھنے کے علاوہ وہ چند اہم اور دلچسپ کردار بھی ادا کرتی ہیں۔ وہ اپنے اڑوس پڑوس کی خبریں جمع کر کے اپنے شوہروں تک پہنچاتی ہیں۔ بچوں کی شادی کے معاملات میں رشتے جوڑنے اور یہ کہ شادی کے دوران کیا کچھ لیا اور دیا جائے گا اس حوالے سے معاملات بھی عورتیں ہی سنبھالتی ہیں جبکہ مردوں کے پاس ان سارے معاملات کو منظور کرنے کا ایک معمولی سا اختیار ہوتا ہے۔ وہ خاندانوں اور قبیلوں کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پاکستان کے پس ماندہ علاقوں میں آج بھی خواتین پر تشدد کے واقعات عام ہیں بلکہ بڑے شہروں اور قصبات میں یہ شرح دیہی علاقوں کی نسبت مقابلتاً کم ہے۔ شہری علاقوں جہاں پر خواندگی کی شرح زیادہ ہے میں خواتین نے کسی حد تک معاشی خودمختاری حاصل کر لی ہے وہ اپنی شادی شدہ زندگیوں میں تشدد برداشت نہیں کرتیں اور اگر کہیں ایسا ہے تو وہ اپنی ماؤں اور دادیوں کی طرح برداشت کرنے کی بجائے شادی ختم کرنا چاہتی ہیں۔ ایسی صورت میں نہ تو اسلام اور نہ ہی قانون اور عوامی رائے انہیں ایسا کرنے سے روکتے ہیں۔ ایسے معاملات میں جہاں وہ اپنے غیر مہذب شوہروں کو برداشت کرتی ہیں تو وہ زیادہ تر اس وجہ سے کہ ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ بعض معاملات میں معاشی تحفظ پر مبنی رسم و رواج اور غیرت کا طبقاتی تصور عورتوں کو اس تکلیف دہ تعلق کو جاری رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
جوں جوں ملک تعلیمی اور معاشی حوالے سے ترقی کرے گا۔ پاکستانی عورت کی حالت ضرور بدلے گی اس وقت عوامی رائے واضح طور پر ان کے ساتھ ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود کسی کو بھی اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ بہت سی پاکستانی عورتیں مغرب کی طرز پر آزادی کی خواہشمند نہیں ہوں گی۔




