مجھے اپنی بہن کا ریپ کرنا ہے
مجھے یقین ہے آپ ان سات لفظوں پر مشتمل جملہ پڑھ کر میری ذہنیت اور کم ظرفی کا اندازہ لگا رہے ہوں گے۔
میرے دماغ میں اٹھتے تعفن زدہ خیالات کی غلاظت کو ماپ چکے ہوں گے اور مجھے جنسی مریض کا سرٹیفیکیٹ عطا کر چکے ہوں گے۔ ہو سکتا ہے یہ الفاظ آپ کی غیرت کو جھنجھوڑ چکے ہوں۔ اس جملے کے بعد لعنتوں کا انبار اور بے شمار موٹی موٹی گالیاں آپ کے ذہن سے آپ کے دہن کا مختصر سفر طے تک چکی ہوں گی ۔
یہ بھی ہو سکتا ہے آپ کو اس دوران میری پیدئش پر شک پیدا ہو چکا ہو۔اور کس خاندن سے تعلق ہے یہ تو آپ لفظ ریپ تک فیصلہ صادر کر چکے ہوں گے۔ آپ سوچ رہیں ہوں گے کہ یہ الفاظ بازار میں کندھے پر رومال رکھ کے چلتا دلال بھی اپنی بہن کے لئے استعمال نا کرتا ہو۔ مگر یہ ذہنی مریض کس قدر آسانی سے بکواس جاری رکھے ہوئے ہے۔
مگر آپ کو جان کہ حیرت ہو گی کہ میں بھی اس جملے کی اذیت اسی طرح برداشت کر رہا ہوں جس طرح ایک ذی شعور انسان برداشت کرتا ہے، جس طرح آپ کر رہے ہیں۔ جس طرح ایک بھائی ان خیالات کو ذہن میں کسی مقام تک پیدا ہونے کی اجازت نہیں دیتا میں بھی اسی طرح کا ایک بھائی ہوں۔
مگر ٹھہریں ہمارا معاشرہ ایسا ہی سوچتا ہے اور اس پر عمل درآمد کرتا ہے، نا صرف فرد واحد بلکہ خاندان کا خاندان اس عمل میں شریک ہوتا ہے۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہونے والا واقعہ اس کی عکاسی ہے اگر آپ آنکھیں بند کرنا چاہیں تو کر لیں۔ زخم کو اگر آپ رنگ برنگا کپڑا باندھ کے چھپانا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی۔ مگر میں اس کا قائل نہیں۔ یا تو زخم کو رستا دیکھ کر اس کی دوا کا بندوبست کریں یا اس پر مکھیوں کو بھنبھنانے دیں تاکہ غلاظت یا درد کے احساس سے آپ کی آنکھیں کھل سکیں۔
ایک جنسی وحشت کے مارے جانور نے اپنی پیاس کو ایک معصوم لڑکی کی عزت سے تسکین پہنچانے کی کوشش کی۔ معاشرے کے نام نہاد سیانوں نے اس کی سزا بھی کیا تجویز کی کہ اسی طرح کے ایک اور جانور کو اسی طریقے سے اپنی پیاس کو ختم کرنے کا مو قع دیا جائے۔
ایک غیرت مند بھائی کا ایک لڑکی کی عزت لوٹنے کے بدلے اپنی بہن کو قربانی کے لئے پیش کر دینا کیا ہے؟ اس بھائی، اور اس کے خاندان اور نام نہاد پنچایت کا یہ عمل "مجھے اپنی بہن کا ریپ کرنا ہے” والے جملے کی عکاسی نہیں تو اور کیا ہے۔
ایک لمحے کے لئے تصور کریں کہ بدلے میں دی گئی لڑکی کو نہیں لگا ہو گا کہ اس کا ریپ کوئی اور نہیں، اس کا اپنا بھائی کر رہا ہے۔ اس نے مدد کے لئے بھی کس کو پکارا ہو گا۔ بھائی کو جو پہلے ہی اسی کمرے میں کسی اور کی صورت مین موجود ہے، یا خاندان کے بڑے بزرگوں کو جن کے پنچایتی فیصلے کے سبب وہ اس قید میں تھی۔
یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ مجھے حالات و واقعات اجازت نہیں دیتے۔ میں اپنے بہن کا ریپ نہیں کر سکتا مگر مگر تم آزاد ہو۔ تم چاہو تو یہ موقع حاصل کر سکتے ہو۔
آو ہم ایسا سودا کرتے ہیں جس میں ہم محفوظ رہیں مگر بہن جیسے رشتے اپنی موت خود مر جائیں۔ جاؤ جس طرح سے چھونا چاہو، اس کو بھنبھوڑنا چاہو، اجازت ہے۔ وہی سلوک کر لو جو میں کر کے آیا ہوں۔
اور دوسرا غیرت مند بھائی کوئی کمی نا چھوڑے۔ آخر وہ کس طرح پیچھے رہ سکتا ہے اس کو بھی تو اپنے دوستوں، جاننے والوں کو بتانا ہے کہ جس جس جگہ اس نے میری بہن کو چھوا، ٹھیک اس جگہ کی بلندی اور پاتال تک میں بھی ہو کے آ چکا۔ میں ایک باعزت اور غیرت مند بھائی ہوں، اس سے بہتر اور کیا ثبوت دوں۔
کہتے ہیں کہ جب پرانے وقتوں میں جب کوئی بڑی سے بڑی لڑائی یا قتل ہو جاتا تھا تو قاتلوں کے خاندان سے اگر کوئی دھی (بیٹی) مقتولوں کے خاندان کے پاس چل کر یہ واسطہ دینے آجاتی تو بڑے بزرگ اس بیٹی کے سر پر چادر تان کر معاف کر دیا کرتے تھے۔اب حالات تھوڑے تبدیل ہو چکے ہیں ۔
معاف اب بھی کر دیا جاتا ہے اب تو خود بیٹی پیش کر دی جاتی ہے اور غیرت مند خاندان اب یہ فیصلہ مشترکہ طور پر کرتے ہیں ۔ یہلے بہن ،بیٹی کے سر پر چادر تان دی جاتی تھی اب ہم کپڑے ہی نوچ لیتے ہیں۔ اب بہنیں اور بیٹیاں ہم خود ریپ کرتے ہیں۔
ہماری بہن ،ہماری بیٹی، ہماری ملکیت، ہمارا فیصلہ۔۔۔۔۔


