کرکٹ؟ بس کر دو بس!


ورلڈ سپورٹس انسائیکلوپیڈیا کے مطابق دنیا میں کم و بیش آٹھ ہزار مختلف طرح کے کھیل کسی نہ کسی شکل میں کھیلے جاتے ہیں۔ یہ تعداد دنیا میں بولی جانے والی تقریباً سات ہزار مختلف زبانوں سے بھی زیادہ ہے۔ اب اگر ہماری طرح کا کوئی فارغ بندہ دنیا کے بور ترین کھیلوں کی فہرست مرتب کرے تو کرکٹ کو یقیناً پہلے نمبر پر رکھے گا۔

وجہ؟
۔ ایک نہیں کئی ہیں
سب سے پہلے، غضب خدا کا ایسا غیر صحت مندانہ قسم کا کھیل ہے کہ جسمانی فٹنس کے لحاظ سے وہ افراد جو 22 گز کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے وہ کرکٹ کے سپر سٹار کہلاتے ہیں۔ ایسے ایسے اسٹارز سے کرکٹ کی دنیا بھری پڑی ہے جو ایک گھنٹہ بامشکل فٹ بال یا ہاکی جیسا تھکا دینے والا کھیل کھیل سکتے ہیں لیکن کرکٹ میں پانچ پانچ دن کھیل سکتے ہیں۔ کرنا جو کچھ نہ ہوا سواے ڈریسنگ روم میں بیٹھ کر یا گراؤنڈ میں کھڑے ہو کر جگالی کرنے کے۔

دوسرا اعتراض اسی سے منسلک ہے اور وہ ہے وقت کا ضیاع۔ فٹ بال، باسکٹ بال، ہاکی سمیت کتنے ہی شاندار کھیل ہیں جو زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے میں ایسی تفریح فراہم کرتے ہیں کے بندہ پلکیں جھپکنا بھول جاتا ہے۔ کرکٹ ہے کے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ پورا پورا دن ایک میچ اس دور میں وقت جیسی قیمتی دولت کا سنگدلانہ استعمال ہے۔
۔ اب ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے زر یعے کچھ اس کا تدارک ہوا ہے

تیسرا پہلو اس معاملے کا ہے یہ اپنے تیں خود ہی فرض کر لینا کہ چونکہ آپ پاکستانی ہیں تو آپ نے یہ حلف اٹھا رکھا ہے کے جہاں بھی کرکٹ سے متعلق کوئی بھی ہڑبونگ ہو گی اس سے با خبر رہنا آپ کے قومی فرائض میں شامل ہے بلکہ آپ کی حب الوطنی کا ثبوت ہے۔
جی نہیں بلکل ایسا نہیں ہم اپنی حب الوطنی ایسے گیارہ کھلاڑیوں کے ہاتھ میں نہیں تھما سکتے جو کبھی جوئے میں پکڑے جاتے ہیں اور کبھی فٹنس کے مسائل میں پھنسے رہتے ہیں۔

بقول شاعر
(یعنی ہم خود)
اس ملک میں ابھی کچھ لوگ زندہ ہیں
جو کرکٹ نہیں دیکھتے اور نہ ہی شرمندہ ہیں
( واہ واہ! یہ بھی ہم خود ہیں )

سامراجی نظام کی اس آخری نشانی کرکٹ کے خلاف ہم دلائل کا انبار لگا سکتے ہیں لیکن پھر کبھی سہی۔ ویسے تو سرمایہ کاری نظام کی خوبی ہے کہ جس چیز کی مارکیٹنگ پروفیشنل طریقے سے ہوتی ہے وہ ہاتھ ہاتھ فروخت ہو جاتی ہے۔ اب وہ چاہے چائے کی پتی ہو، اگر بتی ہو یا کرکٹ کا کھیل بات ایک ہی ہے۔

پی ایس ایل کی کامیابی سے یہ اعتراف تو کرنا پڑے گا کے اس نے کھیل کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے نتیجتاً خالص گھریلوں خواتین بھی ہانڈی میں نمک ڈالتے ہوے پوچھتی ہیں۔ اجی یہ لاہور قلندر کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

چلو اب جیسے تیسے کر کے اس کھیل کو برداشت کر ہی لیتے ہیں لیکن بندہ یا بندی پوچھے باقی کھیلوں کا کیا قصور ہے؟ کیا پاکستانیوں کی ٹانگیں ٹیڑھی ہیں جو یہ فٹ بال جیسی کامیاب کمرشل سپورٹس نہیں کھیل سکتے یا پھر ڈوبنے سے ڈر لگتا ہے کے تیراکی جیسے کھیل، جس میں اولمپک کھیلوں میں سب سے زیادہ میڈل دیے جاتے ہیں پر کوئی توجہ نہیں دیتا؟

ایک اور ڈھکوسلا قومی کھیل کا ہے۔ یہ قومی کھیل کہاں سے آ گیا بھائی کیا۔ ہاکی کی سٹک ہم نے لورا لائی میں ایجاد کی تھی یا ہاکی عوام میں سب سے زیادہ مقبول کھیل ہے۔ ۔ ہمارے خیال میں ( اور ہم اپنے اس خیال سے پوری طرح متفق ہیں ) ہر سال قومی کھیل تبدیل ہونا چاہیے تاکہ اس ایک کھیل پر کچھ زیادہ توجہ دی جا سکے۔ اب اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ حل یہ ہے کے کرکٹ کو اسلاف کی میراث سمجھ کر گلے لگانے کا کام بند ہونا چاہیے اور دوسرے کھیلوں کی ترویج پر دھیان دینا چاہیے۔

2006 میں کیا شاندار دوڑ لاہور دوڑ کے نام سے میراتھن ہوئی تھی لاہور کی سڑکیں ڈھول کی تھاپ سے گونج اٹھی تھیں اور بچے بچیوں کے غول کے غول ریس میں شریک ہووے تھے۔ کیا مقابلہ اس کھیل کا جس میں تیس ہزار کھلاڑی بیک وقت حصہ لے رہے ہوں اور آدھا شہر سٹڈیم میں تبدیل ہو جائے۔ اگر بیروت اور بوسٹن میراتھن ہو سکتی ہے تو بورے والا اور بہاولپور میراتھن کیوں نہیں ہو سکتی؟

آتے ہیں ٹینس کی طرف کیا سارا بوجھ اعصام الحق اور عقیل خان نے ہی اٹھانا ہے؟ پاکستانی ثانیہ مرزا کب اس کھیل کےمیدان میں اترے گی جس کے گرینڈ سلیم فائنل کھیلنے والا راجر فیڈرر پورے پی ایس ایل کے بجٹ سے زیادہ کما لیتا ہے۔ لہذا فٹ بال لیگ بنائیے اور چترال کی ٹیم کا پشین کی ٹیم سے میچ کروا دیں۔ آپ کو انگلش پریمیئر لیگ بھول جانی پڑے گی۔ یا پھر شمشال کی خواتین کا فٹ بال میچ کنیرڈ کی طالبات سے کروائیں اور دنیا کو دکھائیں کے پاکستان کرکٹ سے بہت آگے نکل آیا ہے۔

جس دن سرمایا کاروں کو سمجھ آ گئی گے نوجوانوں کی اکثریت پر مشتمل 22 کروڑ کا یہ ملک ٹور ڈی فرانس نہیں خنجراب سے کلفٹن تک ٹور ڈی پاکستان کا متظر ہے اور کرکٹ جیسے گھسے پٹے کھیل کے علاوہ شدت سے دوسرے کھیلوں کا انتظار کر رہا ہے اس دن کایا پلٹ جائے گی۔

Facebook Comments HS