خدا کی سلطنت اور ہنستی مسکراتی جاپانی لڑکی

آپ تازہ تازہ یو نیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوں، عمر ہو آپ کی محض تئیس سال، قد پانچ فٹ یعنی نریندر مودی سے بھی آدھا فٹ کم اور چڑھنا پڑے آپ کو پہاڑ تو آپ کیا کریں گی؟ اس کا جواب قحط الرجال کی طرح قحط النسا کے اس دور میں ملنا مشکل ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ جواب مری یا زیادہ سے زیادہ نتھیا گلی کے پہاڑ تو ہو سکتے ہیں، کوئی بھی خاتون بھولے سے بھی کے

Read more

فرانس کی چانٹل کو پاکستانی مردوں سے نفرت کیوں تھی؟

کے ٹو پرکوہ پیمائی کی تاریخ میں 1986 کا سال بے حد اندوہناک تھا۔ اس سال مختلف واقعات میں تین خواتین کوہ پیماؤں سمیت تیرہ افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ اس واقعے کا اثر اتنا گہرا تھا کہ اگلے چھ سال تک دنیا کے کسی کوہ پیما نے کے ٹو کا رخ نہیں کیا۔ پھر 1992 آیا اور کے ٹو پر آنے والوں میں فرانس کی اٹھائیس سالہ چانٹل نامی خاتون کوہ پیما بھی شامل تھی۔ کے ٹو نے خود

Read more

آیا صوفیہ اور تیس سو گز کی تماش گاہ

ثقافتی اور تاریخی لحاظ سے استنبول کا مرکز مسجد سلطان احمد یا نیلی مسجد کے اطراف کا وہ علاقہ ہے، جس سے تین سو گز کے فاصلے پر آیا صوفیہ ہے۔ اس تین سو گز کے فاصلے میں بازنطینی اور عثمانی تاریخ کے کئی اہم پہلو موجود ہیں، جن کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان دونوں تاریخی عمارتوں کے درمیان واقع خوش نما باغ میں مرکزی فوارے کے قریب بیٹھ کر تازہ ابلی ہوئی چھلی کھاتے ہوئے، چھوٹے

Read more

حسن نثار صاحب کے چند کالے قول

حسن نثار صاحب اپنے مخصوص انداز کی وجہ سے بہت معروف ہیں۔ ان کے کاٹ دار جملے اور الفاظ اپنے اندر گہری معنویت رکھتے ہیں۔ کالے قول کے نام سے ان کی ایک کتاب بھی منظرعام پر آچکی ہے۔ حسن صاحب کے کالےاقوال سے انتخاب۔ جسے اپنے حسن پہ ناز ہے وہ مد ھو بالا اور مارلن منرو کی برسی ضرور منایا کرے۔ مہنگائی مصنوعی طریقہ سے بڑھائی تو جا سکتی ہے، گھٹائی نہیں جا سکتی۔ میں اس بات پر

Read more

قائد اعظم اور اتا ترک میں ایک فرق

ارطغرل کی مقبولیت کے اس دور میں جب ڈراموں سمیت ترکی سے متعلق ہر چیز کے بھاؤ چڑھے ہوئے ہیں دونوں ملکوں کے قائدین کا براہ راست موازنہ خطرے سے خالی نہیں۔ خاص طور پر اس وقت تو بالکل بھی نہیں جب ہمارے یہاں راجہ داہر اور محمد بن قاسم میں سے ہیرو اور ولن کا انتخاب مشکل ہو رہا ہو لیکن سلیمان شاہ اور عثمان اول کی عظمت کے گن گانے والوں میں دن دگنا اور رات چوگنا اضافہ

Read more

کالم اور بلاگ میں فرق

پہلا نکتہ تو یہ ہے کہ دونوں الفاظ، کالم اور بلاگ انگریزی کے ہیں۔ بدقسمتی سے ا ن کا متبادل نہ ہونے کی وجہ سے اردو نے ان کو بڑی ہٹ دھرمی سے اپنا لیا ہے۔ چونکہ لفظ ہی بنیادی طور پر کسی اور زبان کے ہیں لہٰذا ن کے مابین فرق جاننے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی قیاس آرائیاں کرنے سے پہلے انگریزی کے ماخذ سے رجوع کیا جائے۔ آکسفورڈ لغت کے مطابق کالم الفاظ کے کسی بھی

Read more

د یکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام

طارق عزیز بلاشبہ پاکستان ٹیلی ویژن کے ان تاریخ ساز لوگوں میں ہیں جنہوں نے پہلی نشریات سے لے کر طارق عزیز شو تک بے شمار کامیابیاں سمیٹیں۔ ان کے معروف الفاظ۔ ۔ ۔ د یکھتی آنکھوں سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام۔ ۔ ۔ کروڑوں پاکستانیوں کی اجتماعی یاداشت کا حصہ ہیں۔ طارق عزیز اب بھی ٹویٹر پر اپنے لاکھوں مداہوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کے موضوعات مذہب، سیرت النبی، عائلی زندگی اور ملکی

Read more

یوکلیپٹس کے درخت جنہوں نے گولان پر اسرائیل کا قبضہ کروا دیا

کئی عشرے پہلے برطانیہ والوں نے اپنی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے حوالے سے ایک خیالی کردار کو جیمز بانڈ کا روپ دے کر فلمیں بنانا شروع کیں جنہوں نے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی۔

پھر شرلاک ہومز کی باری آئی اور یہ کردار کتابوں کی دنیا سے نکل کر سکرین پر چلنے پھرنے لگا۔ امریکا والے کب کسی سے پیچھے رہنے والے تھے انہوں نے بھی اپنی ایف بی آئی اور سی آئی اے کے کارناموں پر مشتمل ٹی وی سیریز، ڈراموں اور فلموں کے کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ نیٹ فلکس پر اسی سلسلے کی تازہ پیشکش ”دی سپائی“ سیریز ہے جسے اردو میں ”ایک تھا جاسوس“ کہا جا سکتا ہے۔

چھ قسطوں پر مشتمل اس منی سیریز کی کہانی الی کوہین نامی شخص کی ہے جسے بعد میں اپنے ملک کے عظیم

Read more

کرونا سے جڑی سازشی تھیوریاں

سازشی تھیوریاں دنیا بھر میں ایک مقبول صنف ہیں۔ ان کو فیکٹ اور فکشن کے درمیان کی کوئی چیز کہا جاسکتا ہے۔ ان کی مقبولیت کو مد نظر رکھتے ہوئے شاید کبھی نہ کبھی انھیں بھی ادب کی کوئی باقا عدہ صنف ہونے کا درجہ مل جائے۔ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی دنیا میں کوئی بھی اہم واقعہ رونما ہوتا ہے جس میں کچھ شک و شبہ کی گنجائش نکلتی ہے اس کے متعلق سازشی تھیوریوں کا انبار لگ

Read more

مولانا مودودی سے زاہد حسین چھیپا تک

ہم جیسوں کی عمر کا بڑا حصہ ایک خاص قسم کے دور جاہلیت سے گزرتا ہے۔ بچپن سے ہی قرآن پاک کا ادب آداب سکھا دیا جاتا ہے۔ ایسے نہیں پکڑنا، اونچی جگہ پر رکھو، غلاف میں لپیٹ کر رکھو، پاک ہو کر ہاتھ لگانا ہے، ادب کے ساتھ بیٹھ کر پڑھو، آہستہ آواز میں پڑھو، ٹھہر ٹھہر کر پڑھو، ستر ڈھانپ کر پڑھو، ٹوپی پہن کر پڑھو وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب اپنی جگہ ضروری، لیکن اس کا ایک نتیجہ

Read more

لاشوں سے لقمے اٹھانے والے گدھ

یہ جملہ نہیں ایک طمانچہ ہے، جو ایک سیاسی رہنما نے بڑی بے رحمی سے نام لے کر ملک کے نامور ترین صحافی کو مارا ہے۔ نہ تو نام ضروری ہیں اور نہ ہی اس بحث کی اہمیت کہ کیا اپنایا گیا لب و لہجہ شائستگی اور تہذیب سے باہر تھا یا فرد کے حق آزادی اظہار رائے کے اندر۔ اصل اہمیت اس مسئلے کی ہے جس کی طرف جانے انجانے میں اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے قومی

Read more

کرنل کی بیوی کے نام خط

السلام علیکم بہن ! امید ہے آپ سب وبا کے ان دنوں میں خیرو عافیت سے ہوں گے۔ یقیناً رمضان کے روزے خیریت سے گزرے ہوں گے اور اب عید کی تیاریاں جاری ہوں گی۔ لیکن اس دوران بھی آپ نے کرونا سے متعلق حفاظتی اقدام کو ملحوظ خاطر ر کھنا ہے کیوں کہ یہ خطرہ ابھی مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔ خط لکھنے میں تاخیر پر معذرت۔ کام کی مصروفیت کافی ہے۔ وبا کے دنوں میں ذہنی امراض

Read more

سلطنت عثمانیہ، خلافت عثمانیہ کب بنی؟

عدالت، بیگم اور تاریخ میں یہ قدر مشترک ہوتی ہے کہ تینوں آپ کے کسی بھی بلند وبانگ دعوے پر آنکھیں بند کر کہ یقین کرنے کی بجائے تفصیل مانگ لیتے ہیں، وہ بھی ثبوتوں کے ساتھ۔ خالی باتوں وغیرہ سے ان کی تسلی نہیں ہوتی۔ لہٰذا بے چارہ ملزم، شوہر اور طالب علم جتنا نکما اور نا تجربہ کار ہوتا ہے اتنا ہی پھنستا چلا جاتا ہے۔ کب، کہاں، کیا، کیوں، کیسے کی طرح کے سب سوالات کے جوابات

Read more

سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کا ایک اور عبرت ناک ورق

استنبول میں آبنائے باسفورس کے نیلگوں پانیوں کے کنارے، دولمہ باہچے خلافت عثمانیہ کے دور کا شاندار محل ہے۔ ماسکو میں کریملن کے اندر روسی زار کا محل یا پیرس کے قریب لوئی چار دہم کا بنوایا ہوا ورسائی محل ہو تو ہو، کم از کم بر صغیر پاک و ہند میں دولمہ باہچے کی شان کو تاج محل سمیت کوئی عمارت نہیں پہنچتی۔

Read more

صدام حسین اور اپنا بستر درست کرنا

بہت سی خوبصورت روایتوں اور اختراعو ں کی طرح امریکی یونیورسٹیوں میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ سالانہ گر یجوشن کی تقریب میں خطاب کرنے کے لئے کسی ایسے مہمان کو بلایا جاتا ہے جو اپنی محنت کے بل بوتے پر زندگی کے کسی شعبے میں نمایاں مقام پر پہنچا ہو۔ یہ خطاب اکثر عملی زندگی میں داخل ہونے والے طلبا کے لئے مشعل راہ بن جاتا ہے۔ ہمارے یہاں کانووکشن کے نام پر ہونے والی تقریبات اتنی ہی

Read more

بہشتی برگیڈ کا حلیمہ سلطان پر حملہ

جس طرح فا ئیر بریگیڈ کا کام کہیں بھی لگی ہوئی آگ کو بجھانا ہے تو ہم پاکستان والوں کے پاس ایک فا ئیر بریگیڈ ایسا ہے جو کہیں بھی آگ لگانے کا کام بخوبی جانتا ہے۔ یہ آگ مخالف کے تن بدن میں بھی ہو سکتی ہے اوراپنے دل و دماغ میں بھی۔ آ گ لگانے کے ساتھ ساتھ یہ جتھہ اپنے تئیں لوگوں کی نقل و حرکت اور افعال پر گہری نظر رکھتا ہے۔ اپنی آسانی کے لئے

Read more

تین ملک اور زندگی کے تین فلسفے

انسانی خوشی، کامیابی، شناخت وہ جہتیں ہیں جن پر تاریخ میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ مختلف ممالک میں انسانی خوشی سے متعلق دلچسپ نظریات ملتے ہیں جو ایک دوسرے سے مما ثلت بھی رکھتے ہیں اور بعض اوقات یکسرمتضاد بھی ہوتے ہیں۔ کوریا، جاپان اورجنوبی افریقہ میں انسانی زندگی اورخوشی سے متعلق معروف مقامی فلسفے اور نظریات کچھ اس طرح سے ہیں۔ جنوبی افریقہ کا فلسفہ یوبنٹو مقامی زبان میں یوبنٹوکے معانی انسا نیت کے ہیں۔ جنوبی

Read more

شاہ فیصل سے ارطغرل تک، پاکستانیوں کے بدلتے تیور

عجیب اتفاق ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے بچپن میں لگائے ہوئے تاریخ کے رٹے سخت مشکلات کی زد میں ہیں اور محمد بن قاسم سمیت ہمارے کئی فیورٹ کردار تنقید کی زد میں ہیں، وطن عزیز میں چپکے چپکے ایک نیا تاریخی بیانیہ تشکیل پا رہا ہے۔ اعلی تعلیم یافتہ، امن پسند قائداعظم کے پاکستانیوں کو یک لخت جنگجو ترک قبائلی سردار ارطغرل میں اپنا نیا ہیرو نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مقبول

Read more

آغا شورش کاشمیری کی شعلہ بیانی کے چند شاہکار

آغا شورش کاشمیری کے بہت سے تعارف ہو سکتے ہیں۔ وہ بیک وقت ایک اسکالر، لکھاری اور سیاستدان تھے۔ مذہب کے حوالے سے کافی متحرک ہونے کے ساتھ ساتھ معروف ہفتہ وار میگزین چٹان کے مدیر بھی تھے۔ ان کا ایک تعارف شعلہ بیان مقرر کا بھی ہے اور بلا شبہ ان کی چار چار گھنٹے کی تقریروں میں مجمعے کو سانپ سونگھ جاتا۔ اپنی شعلہ آفاق تقریروں کی بدولت کئی بار جیل یاترا نصیب ہوئی۔ تاہم زبان و بیان کے حوالے سے ان کی تقاریر میں کچھ چیزیں کمال کی ہوتی تھیں۔

Read more

سوار اور سواری

جن مسلم گھروں میں تین چار سال کے بچے اور با قاعدگی یابے قاعدگی سے نماز اداکرنے والے والدین ہوں وہاں بچوں کے ایک کھیل کی روایت شاید آفاقی ہے۔ کھیل بھی کیا ہے کہ لہو گرم رکھنے کا اک بہانہ ہے۔ ادھر آپ سجدے میں گئے نہیں اور ادھر وہی بچہ جوابھی بظاہر آپ سے لا تعلق سا اپنی دنیا میں مگن تھا لیکن کن اکھیوں سے آپ کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا یک دم کسی

Read more

کرونا کے دنوں میں ایک استانی کا والدین کے نام خط

محترم والدین! السلام و علیکم امید ہے آپ لاک ڈاؤن کے دوران اپنے گھر میں با لکل خیرو عافیت سے ہوں گے ۔ ہم بھی ٹھیک ہی ہیں۔ دیکھیں با ت یہ کہ ہر سال یہی ہوتا ہے کہ آپ سب اپنے بچے کی گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس جمع کرواتے ہیں اور صرف ایک کی نہیں بلکہ دو دو مہینوں کی فیس ایک ساتھ جمع کرواتے ہیں۔ پہلے جون جولائی میں گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھی اور اب کرونا

Read more

نظر بد – اسلامی ممالک میں موجود عقائد

ڈاکٹر علی علومی، نے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، امریکا سے پی ایچ ڈی مکمل کی اور اب پین سلوانیہ اسٹیٹ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور تاریخ پڑھاتے ہیں۔ ان کی دلچسپی کے موضوعا ت میں اسلامی تاریخ، مشرق وسطیٰ کی جدید تاریخ، مذہب کی تاریخ وغیرہ شامل ہیں۔ ڈاکٹر علی ایپل پوڈکاسٹ پر ”ہیڈ آن ہسٹری“ کے نام سے ایک مقبول پروگرام بھی کرتے ہیں۔ کچھ عرصے سے انہوں نے سماجی رابطے کی مشہور ویب سائٹ ٹویٹر پر اسلامی

Read more

تین جانور، تین کہانیاں

ایک دم اور چار ٹانگوں کے علاوہ ان تینوں جانوروں میں جو قدر مشترک ہے وہ ان کی وفاداری اور محبت کے انمول سبق ہیں۔ ایک ایسے دور میں جب یہ چیزیں انسانوں میں۔ چلیں رہنے دیں، کہانیاں پڑھیں۔ شہزادہ سلیم یعنی جہانگیر بادشاہ عرف شیخو سے تو ہم سب بخوبی آگاہ ہیں۔ ایک کہانی کے مطابق موصوف کی نوجوانی کی محبت کی بھینٹ میں بے چاری انارکلی زندہ دیوار میں چنوا دی گئی۔ تاہم اسی بادشاہ کے نام پر

Read more

ترک ڈرامہ ارطغرل : نسیم حجازی سے فاطمہ بھٹو تک

غالب امکان ہے کہ نیٹ فلکس اور یو ٹیوب کے اس دور میں ابھی بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہوں گے جن کے حافظے میں پی ٹی وی کے اور بہت سے شاہکار ڈراموں کی طرح سقوط بغداد کے پس منظر میں نسیم حجازی کا لکھا ہوا ”آخری چٹان“ محفوظ ہوگا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب محترم شریف حسین عرف نسیم حجازی صاحب کے اسلامی اور تاریخی ناول پڑھنے والوں کے لئے دو دھاری تلوار کا کام کرتے تھے۔

Read more

باقر خانی: ایک پیار بھری کہانی

باقر خانی مغلئی دور کی ایک ایسی یادگار ہے جو مشرقی بنگال کے شہر ڈھاکہ میں پہلی دفعہ متعارف ہوئی اور رفتہ رفتہ پورے خطے میں مقبول ہو گئی۔ تاہم وہ شے جسے اس خطے کے طول و ارض میں پھیلے کروڑوں لوگ بلا تفریق رنگ و نسل نہایت ذوق و شوق سے کھاتے ہیں محض کھا کر بھول جانے والی کوئی چیز نہیں۔ یہ ایک ایسی پریم کتھا کی یادگار ہے جو سچ ہو نہ ہو دلچسپ ضرور ہے

Read more

تین بہنیں، تین کہانیاں

قصۂ چہار درویش کی طرح معروف نہ سہی لیکن تین بہنوں کی کہانی، انسانی سماج کی تین مختلف جہتوں ادب، معاشیات اور سیاحت سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ تین جدا اور ایک دوسرے سے بالکل لا تعلق سی کہانیاں ہیں جن میں ایک کے سوا شاید کوئی بھی کہانیوں کے ادبی معیار پر پوری نہیں اترتی لیکن تین بہنوں کی دلچسپ اصطلاح بہرحال ان میں یکساں ضرور ہے۔ ادب کی دنیا کی ”تین بہنیں“ معروف روسی ادیب اور ڈرامہ نگار

Read more

عشرت فاطمہ سے چند سوالات

عشرت فاطمہ جو بعد میں عشرت ثاقب بنیں، پاکستان میں ٹی وی کے اس دور سے تعلق رکھتی ہیں جب صرف اور صرف پی ٹی وی کا راج ہوا کرتا تھا۔ رات نو بجے کا خبرنامہ ملک کے طول و ارض میں نہایت سنجیدگی کے ساتھ سنا اور دیکھا جاتا تھا۔ عشرت فاطمہ کا سادگی اور متانت بھرا انداز، اجلا ہوا لباس، سر پر لیا ہوا سفید دوپٹہ، ناک میں پہنی گئی چھوٹی سی نتھ، کپڑوں کے ساتھ میچنگ قلم،

Read more

کرونا اور پاکستانی یونیورسٹیوں کے بلند و بانگ دعوے

جب سے کرونا کی وبا پھیلی ہے اس سے نبٹنے کے لئے ایک نہیں دو دو جانب سے امید افزا مشوروں اور خبروں کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو وہ ہیں جو کہ زیتون، کلونجی، وضو اور وظیفوں سے کرونا سے نبرد آزما ہونے کے طریقے بتا رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں اہل سائنس نے نت نئے دعووں کی بھرمار کر دی ہے۔ بندہ یا بندی کرے تو کیا کرے۔ ایک تو پاکستانی قوم کو یہ خوش فہمی جو دراصل

Read more

روانڈا میں نسل کشی اور میڈیا کی لگائی ہوئی آگ

آج سے چھبیس سال پہلے، انیس سو چورانوے میں اپریل سے جولائی تک کے تین مہینوں میں مشرقی افریقہ کے ملک روانڈا میں آگ اور خون کا ایک ایسا کھیل کھیلا گیا جس پر آج بھی انسانیت نوحہ کناں ہے۔ اس دلخراش سانحے کے بہت سے محرکات تھے تاہم ایک ایسا رخ جس کا تذکرہ بوجوہ کم ہوتا ہے وہ میڈیا کا گھناونا کردار تھا۔ عروشہ، مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ کے شمال میں ایک چھوٹا سا شہر ہے جو

Read more

خاطر جمع رکھیے، کرونا کہیں نہیں جا رہا

اس کو سازشی تھیوری سمجھیں، پیشن گوئی یا پھر بنیادی سمجھ بوجھ، یہ بات تو اب تقریبا طے ہے کہ ہماری تمام توقعات، خواہشات اور دعاؤں کے برعکس کووڈ۔ انیس کہلانے والا موزی وائرس اتنی جلدی کہیں نہیں جانے والا ہے۔ انسانی تاریخ کی سات بڑی وبائی بیماریوں میں سے چند ایک کی طرح جن میں طاعون، ملیریا، انفلوئنزا، ہیضہ اور ایچ آئی وی شامل ہیں یہ وائرس مستقل طور پر ہمارے ماحولیاتی نظام کا حصہ بن سکتا ہے۔ چنانچہ

Read more

کرونا، مذہب اور سائنس

کرونا سے متعلق باقی مباحث اپنی جگہ لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ اس وبا نے مذہب اور سائنس کے حوالے سے ہمارے بہت سے عقائد اور افعال کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایک معمولی اور بظاھر بے جان سے ذرے نے سائنس کے دعوؤں اور ہمارے عقیدوں کی عمارتوں کو جس بے رحمی سے جھنجوڑا ہے اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ مذہب سے بنی نوع انسان کا ہزاروں سال پرانا اور گہرا تعلق ہے

Read more

! چیختی چنگھاڑتی عورتیں

مہذ ب معاشروں کی طرح مہذب افراد کی بہت سی علامات ہو سکتی ہیں۔ کچھ ظاہری کچھ چھپی ہوئی۔ برسوں پہلے سویڈن کا سفر کرنے والے ایک دوست سے وہاں کی سب سے متاثر کن بات پوچھی تو جواب ملا ”یار! وہاں ٹریفک میں ہارن کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے، کئی دن گزر جاتے ہیں ہارن کی آواز سنے بغیر، کان ترس جاتے ہیں۔ بہت عجیب لوگ ہیں ”۔ میرا خیال ہے عجیب سے اس کی مراد“ مہذب ”تھی

Read more

! ہانگ کانگ کے شعلے

گو کہ فی زمانہ پاکستان میں رحجان مقامی طور پر بنی ہوئی ”کراچی سے لاہور“ ٹائپ فلموں کا ہے لیکن آج سے تیس سال پہلے کے فلمساز، کہانی کو پاکستان کی سرحدوں سے باہر تک پھیلا نے کے قائل تھے۔ اس ضمن میں منیلا کی بجلیاں، بینکاک کے چور اور انٹرنیشنل گوریلے نامی فلمیں قابل ذکر ہیں۔ دلچسپ طور پر اس زمانے میں ڈرامے مقامی بنتے تھے، وقت بدلا تو ڈرامے دبئی اور استنبول شفٹ ہو گئے اور فلمیں کراچی

Read more

80 سال کی دوری پر بننے والی دو آسکر انعام یافتہ خاموش فلمیں

اکیڈمی یا آسکر انعاموں کی نوے سالہ تاریخ میں آج تک صرف دو خاموش فلموں کو بہترین فلم کا حقدار سمجھا گیا۔ چوراسی سال کے فرق سے سامنے آنے والی یہ دونوں فلمیں اپنے اندر کچھ مماثلت بھی رکھتی ہیں۔ ایک دلچسپ مماثلت دونوں خاموش فلموں کا فرانس سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ہے۔ 1927 میں بہترین فلم کا پہلا آسکر انعام پانے والی خاموش فلم ”ونگز“ جنگ عظیم اول میں، فرانس کے محاز پر لڑنے والے دو امریکی ہوا بازوں

Read more

یووال نوح ہراری یہودیوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟

یووال نوح حریری کا نام کچھ چونکا دینے والا سا ہے۔ اس سے تعارف بھی اسی طرح ہوا جیسے بیسٹ سیلر کتابوں کے مصنفین سے ہوتا ہے۔ اگر آپ کتاب دوستی کا دعویٰ کرتے ہیں تو ایسی کتابیں کہیں نا کہیں آپ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو ہی جاتی ہیں۔

بہر کیف یووال کی تین معروف کتابوں میں سے آخری۔ ”اکیسویں صدی کے لئے اکیس سبق۔“ ابھی ختم ہی کی تھی کہ ایک نہایت پڑھے لکھے، مذہبی اور فلسفی قسم کے دوست کی جانب سے پیغام آ گیا کہ موصوف ہم جنس پرست ہیں اور آج کل جس ہم جنس پرست کا دل چاہتا ہے کتاب لکھ کر بیسٹ سیلر بن جاتا ہے۔ پہلی بار ہم پر بیسٹ سیلر کتاب لکھنے کا نسخہ عیاں ہوا۔

Read more

مشاہیر ادب کی رومانی داستانیں

راشد اشرف کی مرتب کردہ کتابیں پڑھنے والوں کی زندگی خاصی آسان کر دیتیں ہیں۔ وہ ماضی کے گم شدہ خزانوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے شاندار جوہر پارے پیش کرتے ہیں کہ دل خوش ہو جاتا ہے۔ دل ہی تو ہے بھی راشد اشرف صاحب کی مرتب کردہ ایک ایسی ہی کتاب ہے جسے ایک بار اٹھا لیں تو مکمل پڑھے بغیر رکھنے کو دل نہیں مانتا۔ مختلف خود نوشتوں، رسائل اور کتب وغیرہ سے اکٹھی کی ہوئی یہ

Read more

یوٹوپیا۔ ایک آئیڈیل ریاست کا خواب یا سراب

ہر لحاظ سے مکمل اور آئیڈیل ترین معاشرے کا قیام انسان کے دیرینہ ترین خوابوں میں سے ایک ہے۔ افلاطون کی ڈھائی ہزار سال قبل لکھی جانے والی کتاب ”ریپبلک“ اس سلسلے کی اولین کڑیوں میں سے ایک تھی۔ امریکا کی صورت میں نئی دنیا کی دریافت، نو آبادیاتی نظام، جرمن نازی ازم کا عروج، اشتراکی اور سرمایا کارانہ نظام، اسلامی خلافت، پاکستان اور اسرائیل سمیت نظریاتی ریاستوں کا قیام اور موجودہ پاکستان میں ریاست مدینہ جیسے نظام کی تمنا

Read more

پاکستان کی تین لیلائیں اپنے مجنوں کی منتظر ہیں

عربی زبان میں لفظ لیلیٰ کے معنی ’رات‘ کے ہیں۔ تاہم مشہور عالم لیلیٰ مجنوں کی عشقیہ داستان کے سبب یہ لفظ محبوبہ کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ تاہم یہاں رات یا عشق و محبت والی لیلیٰ کا ذکر کرنا مقصود نہیں بلکہ لیلیٰ کے نام سے دنیا میں موجود کم از کم ان چار پہاڑی چوٹیوں کا احوال بیان کرنا ہے جن میں سے تین پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔ ان چار لیلاؤں میں سب

Read more

آغا ناصر کی خود نوشت”آغا سے آغا ناصر“۔

طویل عرصے تک کسی بھی سرکاری ادارے سے وابستہ افراد کی آپ بیتی پڑھنا اس دو دھاری تلوار جیسا ہے جس کا ایک سرا کند ہو لیکن یہ پتہ نہ چل سکے کہ وہ کون سا سرا ہے۔ ایک خاص سانچے میں عرصہ دراز تک رہنے کی بدولت محتاط انداز، ڈھکی چھپی بات، خود نمائی کی جھلک، تاریخ کے اہم واقعات کا آنکھوں دیکھا بلکہ ہاتھوں کیا حال اور سب اچھا ہے وغیرہ ایسی خود نوشتوں کا خاصہ ہے۔ شہاب نامہ ہو، فرینڈز ناٹ ماسٹرز یا پھر ان دی لائن آف فائر، اس نوع کی تمام کتب کو ایک خاص تناظر میں دیکھنا قاری کی مجبوری بن جاتا ہے۔ نصف صدی تک پاکستان ریڈیو اور ٹی وی سے وابستہ معروف شخصیت جناب آغا ناصر کی آپ بیتی ”آغا سے آغا ناصر“ بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے جوتمام تر احتیاط سے لکھی ہونے کے باوجود دلچسپی کا بھرپور سامان لئے ہوئے ہے۔

Read more

کے ٹو کی تاریخ کا یادگار سال

یہ سال کوہ پیمائی کے حوالے سے کے ٹو کے لئے ایک یادگار سال ثابت ہوا۔ سال کے آغاز میں دنیا بھر کی نگاہیں کے ٹو پر موجود ان دو ٹیموں پر لگی ہوئی تھیں جو سردیوں میں پہلی بار کے ٹو کو سر کرنا چاہتی تھیں۔ کے ٹو آٹھ ہزار میٹر سے بلند دنیا کی چودہ چوٹیوں میں سے وہ واحد پہاڑ ہے جس کو ابھی تک سردیوں میں مسخر نہیں کیا جا سکا۔ یہ دونوں ٹیمیں معروف کوہ

Read more

کے ٹو پر لگی ہوئی دنیا کی نظریں

میں اور آپ جب یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو سکردو شہر سے آگے پاکستان کے پہلے گاؤں اسکولے سے قریب چھ دن کی مسافت پر کے ٹو اور براڈ پیک کے بیس کیمپ کے قریب کوہ پیمائی کی تاریخ لکھی جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ کوشش اگر اپنے کامیاب انجام کو پہنچی تو اس کی بازگشت کئی دہائیوں تک گونجتی رہے گی اور اگر یہ ناکام ہو گئی تو بھی کوہ پیمائی کی دنیا میں ہمیشہ

Read more

جارج آرویل کا جانور راج

اسے اتفاق ہی کہیے کے سالوں سے پینڈنگ جارج آرویل کا ناول ”اینیمل فارم“ جب ختم کیا تو ہم سب کی ورق گردانی کرتے ہوئے آمنہ مفتی صاحبہ کا اسی ناول کا اردو ترجمہ ”جانور راج“ کے نام سے نظروں سے گزرا۔ چند صفحات پڑھ کر ہی اندازہ ہو گیا کے ترجمے کا حق خوب ادا کیا گیا ہے۔ باکمال ادب کی چند علامات میں سے ایک علامت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ زمان، مکان اور زبان کی

Read more

نوشاد کے مدھر گیتوں جیسی ان کی خودنوشت

نوشاد کی کہانی بھی کیا کہانی ہے پڑھتے جائیے اور سر دھنتے جائیے جیسے لفظ نہ ہوں انہی کی ترتیب کردہ کوئی دھن ہو جو سیدھی دل میں ہی اترتی چلی جائے۔ یہ اندازہ تو اب ہوا کے ہندوستانی سنیما کی تین شاھکار فلموں پاکیزہ، مغل اعظم اور مدر انڈیا میں اگر کچھ کامن ہے تو وہ نوشاد ہے ورنہ کسی فلم میں دلیپ صاحب نہیں اور کسی میں مینا کماری۔ کہیں لتا غائب اور کہیں رفیع حاضر لیکن اگر کچھ نہیں بدلہ تونوشاد صاحب جو ان سب میں بطور موسیقار چھائے رہے۔

Read more

سازش 1951 اور مائنس ون

لاہور سے گوجرانوالہ تک ستاسی کلومیٹر کا سفر دو واضح حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ سفر کا پہلا تہائی موٹروے پر آرام دہ اور پرسکون اور بقیہ دو تہائی جی ٹی روڈ کی بے ہنگم ٹریفک اور خراب راستے پر مشتعمل تھا۔ حسن معراج کا لکھا ہوا ڈرامہ سازش 1951 بھی ہمارے موٹر وے اور جی ٹی روڈ کے اس سفر کی طرح ”کبھی خوشی کبھی غم والے“ دو متضاد تجربات سے بھرپور تھا جو گوجرانوالہ کے مقامی آڈیٹوریم میں پیش کیا گیا

Read more

پریشاں سا پریشاں ۔ عام آدمی کی خاص کتاب

اب کی بار تو یقین ہو چلا ہے کہ رزق اور موت کی طرح اپنے حصے کے لفظ بھی آپ کو خود ہی ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ تب ہی تو رمضان کے آخری عشرے میں انگلستان میں بیٹھے ہوۓ حسن معراج نے، ماسکو میں رہنے والے ڈاکٹر مجاہد مرزا صاحب کی خود نوشت، ہری پور میں رہنے والے زاہد کاظمی صاحب کے توسط سے بھیجی تو گویا حیرتوں کا ایک جہاں وا ہو گیا۔  اس قدر ضغیم کتاب اگر آپ کو

Read more

جاپان کا کوہ فیوجی اور چھتیس تصویریں

جاپان کی بلند ترین چوٹی کوہ فیوجی ( 3776 میٹر) ہمارے یہاں ضلع مانسہرہ میں واقع مکڑا پیک ( 3586 میٹر ) سے کچھ زیادہ اور کاغان کی چوٹی موسیٰ کا مصلہ ( 4080 میٹر) سے کچھ کم بلند ہے۔ جاپان میں تقریباً بیس پہاڑ، تین ہزار میٹر سے بلند ہیں تاہم یہاں کے تین پہاڑ وں کو باقاعدہ مقدس ہونے کا درجہ حاصل ہے اور کوہ فیوجی ان میں سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔

Read more

سیالکوٹ کے فٹ بال ورلڈ کیپ کھیلنے کے لئے تیار ہیں

کرکٹ کے طلسم نے ہماری قوم  کو  اس  برے  طریقے سے جکڑ رکھا ہے کہ آسمان  ٹوٹے یا زمین پھٹے کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ تاھم  مایوسی کی اس فضا میں کرکٹ کے  علاوہ کسی اور کھیل سے متعلق کوئی نہ کوئی اچھی خبر اپنی جگہ بنا ہی لیتی ہے۔ اگلے  چند دنوں میں جب دنیا کی بتیس بہترین فٹ بال کھیلنے والی ٹیمیں تقریباً  ایک  صدی سے  قائم فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے کے لئے میدان میں اتریں گی تو ان کی تمام کاوشوں کا محور  اور مرکز اس فٹ

Read more

ایک خمیدہ لکیر اور پانچ کروڑ کا پہاڑ

اگر نقشے میں مشرقی افریقہ کے دو اہم ممالک تنزانیہ اور کینیا کو دیکھیں تو ان کے درمیان سرحد ایک سیدھی لکیر کی مانند نظر آتی ہے جو شمال مغرب میں یوگنڈا میں جھیل وکٹوریہ سے شروع ہوتی ہے اور جنوب مشرق میں کینیا کے ساحلی شہر ممباسا پر ختم ہو جاتی ہے۔ تقریباً آٹھ سو کلومیٹر لمبی یہ سرحدی لکیر ترچھی آتے آتے اچانک ایک مقام پر اس طرح سے خم کھاتی ہے گویا کسی نے ادا ے دلبرانہ

Read more

پاکستان کی مدر ٹریسا اور اسلام آباد کا نیا ائیرپورٹ

سکندر اعظم اور پوپ جان پال دوم میں اور کوئی قدر مشترک ہو یا نہ ہو تاہم اتنا ضرور ہے کہ یہ دونوں وہ منفرد شخصیات ہیں جن کے نام سے دنیا کے دو مختلف ممالک میں ائیرپورٹ موجود ہیں۔ سکندر اعظم کے نام پر یونان اور مقدونیہ جب کے پوپ کے نام پر پرتگال اور پولینڈ میں ہوائی اڈے موجود ہیں۔ معروف شخصیات کے نام پر ہوائی اڈوں کے نام رکھنا اب ایک روایت کا حصہ بن چکا ہے۔

Read more

Ministry of Lessons Learnt

فروری 2016 میں دبئی کے حاکم اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم شیخ محمّد بن راشد المختوم نے ایک انوکھا اعلان کیا انہوں نے اہود بنت خلفان نامی خاتون سیاستدان کو ”خوشی کی وزارت“ کا قلمدان سونپا جو اپنی طرز کا دنیا میں ایک نیا تجربہ تھا۔ ابتدائی طور پر اس وزارت کے دس اہداف مقرر کیے گئے اور ساٹھ کے قریب افراد اس وزارت میں کام پر مامور ہوئے گزشتہ سال معروف بھارتی مصنفہ ارندھتی راے کا ناول

Read more

کیا مرد اور عورت دوست ہو سکتے ہیں؟

معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں۔ ہمارے ہاں اس سوال کی جڑیں انسانی حقوق اور شخصی آزادی سے ہوتی ہوئی ریاست اور مذہب کو علحیدہ رکھنے تک جا پہنچتی ہیں۔ اب ظاہر ہے یہ سوال کہ عورت اور مرد دوست ہو سکتے ہیں یا نہیں اگر بہن بھائی، ماں بیٹے، میاں بیوی، باپ بیٹی کے تناظر میں کیا جائے تو جواب بالکل آسان سا ہے جی بالکل مرد اور عورت بہت اچھے دوست ہو سکتے ہیں بلکہ ان رشتوں کی خوبصورتی

Read more

عدنان خان کاکڑ کی آٹھ سو تحریریں اور ہم سب

ہم سب پر عدنان خان کاکڑ  کی پہلی تحریر 9 جنوری 2016 کو آن لائن ہوئی۔ یہی دن ہم سب کی سالگرہ سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔  ….اس لحاظ سے آج تک کی تاریخ میں ہم سب کی  عمر تقریباً آٹھ سو پچیس دن بنتی ہے عدنان صاحب کی آٹھ سو ویں تحریر حال ہی میں آن لائن ہوئی۔ دوسرے لفظوں میں ہم سب کے پہلے دن سے آج تک عدنان صاحب نے روزانہ ایک تحریر لکھی. اگر ہر

Read more