! ہانگ کانگ کے شعلے

گو کہ فی زمانہ پاکستان میں رحجان مقامی طور پر بنی ہوئی ”کراچی سے لاہور“ ٹائپ فلموں کا ہے لیکن آج سے تیس سال پہلے کے فلمساز، کہانی کو پاکستان کی سرحدوں سے باہر تک پھیلا نے کے قائل تھے۔ اس ضمن میں منیلا کی بجلیاں، بینکاک کے چور اور انٹرنیشنل گوریلے نامی فلمیں قابل…

Read more

80 سال کی دوری پر بننے والی دو آسکر انعام یافتہ خاموش فلمیں

اکیڈمی یا آسکر انعاموں کی نوے سالہ تاریخ میں آج تک صرف دو خاموش فلموں کو بہترین فلم کا حقدار سمجھا گیا۔ چوراسی سال کے فرق سے سامنے آنے والی یہ دونوں فلمیں اپنے اندر کچھ مماثلت بھی رکھتی ہیں۔ ایک دلچسپ مماثلت دونوں خاموش فلموں کا فرانس سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ہے۔ 1927 میں…

Read more

یووال نوح ہراری یہودیوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟

یووال نوح حریری کا نام کچھ چونکا دینے والا سا ہے۔ اس سے تعارف بھی اسی طرح ہوا جیسے بیسٹ سیلر کتابوں کے مصنفین سے ہوتا ہے۔ اگر آپ کتاب دوستی کا دعویٰ کرتے ہیں تو ایسی کتابیں کہیں نا کہیں آپ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو ہی جاتی ہیں۔

بہر کیف یووال کی تین معروف کتابوں میں سے آخری۔ ”اکیسویں صدی کے لئے اکیس سبق۔“ ابھی ختم ہی کی تھی کہ ایک نہایت پڑھے لکھے، مذہبی اور فلسفی قسم کے دوست کی جانب سے پیغام آ گیا کہ موصوف ہم جنس پرست ہیں اور آج کل جس ہم جنس پرست کا دل چاہتا ہے کتاب لکھ کر بیسٹ سیلر بن جاتا ہے۔ پہلی بار ہم پر بیسٹ سیلر کتاب لکھنے کا نسخہ عیاں ہوا۔

Read more

مشاہیر ادب کی رومانی داستانیں

راشد اشرف کی مرتب کردہ کتابیں پڑھنے والوں کی زندگی خاصی آسان کر دیتیں ہیں۔ وہ ماضی کے گم شدہ خزانوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے شاندار جوہر پارے پیش کرتے ہیں کہ دل خوش ہو جاتا ہے۔ دل ہی تو ہے بھی راشد اشرف صاحب کی مرتب کردہ ایک ایسی ہی کتاب ہے جسے…

Read more

یوٹوپیا۔ ایک آئیڈیل ریاست کا خواب یا سراب

ہر لحاظ سے مکمل اور آئیڈیل ترین معاشرے کا قیام انسان کے دیرینہ ترین خوابوں میں سے ایک ہے۔ افلاطون کی ڈھائی ہزار سال قبل لکھی جانے والی کتاب ”ریپبلک“ اس سلسلے کی اولین کڑیوں میں سے ایک تھی۔ امریکا کی صورت میں نئی دنیا کی دریافت، نو آبادیاتی نظام، جرمن نازی ازم کا عروج،…

Read more

پاکستان کی تین لیلائیں اپنے مجنوں کی منتظر ہیں

عربی زبان میں لفظ لیلیٰ کے معنی ’رات‘ کے ہیں۔ تاہم مشہور عالم لیلیٰ مجنوں کی عشقیہ داستان کے سبب یہ لفظ محبوبہ کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ تاہم یہاں رات یا عشق و محبت والی لیلیٰ کا ذکر کرنا مقصود نہیں بلکہ لیلیٰ کے نام سے دنیا میں موجود کم…

Read more

آغا ناصر کی خود نوشت”آغا سے آغا ناصر“۔

طویل عرصے تک کسی بھی سرکاری ادارے سے وابستہ افراد کی آپ بیتی پڑھنا اس دو دھاری تلوار جیسا ہے جس کا ایک سرا کند ہو لیکن یہ پتہ نہ چل سکے کہ وہ کون سا سرا ہے۔ ایک خاص سانچے میں عرصہ دراز تک رہنے کی بدولت محتاط انداز، ڈھکی چھپی بات، خود نمائی کی جھلک، تاریخ کے اہم واقعات کا آنکھوں دیکھا بلکہ ہاتھوں کیا حال اور سب اچھا ہے وغیرہ ایسی خود نوشتوں کا خاصہ ہے۔ شہاب نامہ ہو، فرینڈز ناٹ ماسٹرز یا پھر ان دی لائن آف فائر، اس نوع کی تمام کتب کو ایک خاص تناظر میں دیکھنا قاری کی مجبوری بن جاتا ہے۔ نصف صدی تک پاکستان ریڈیو اور ٹی وی سے وابستہ معروف شخصیت جناب آغا ناصر کی آپ بیتی ”آغا سے آغا ناصر“ بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے جوتمام تر احتیاط سے لکھی ہونے کے باوجود دلچسپی کا بھرپور سامان لئے ہوئے ہے۔

Read more

کے ٹو کی تاریخ کا یادگار سال

یہ سال کوہ پیمائی کے حوالے سے کے ٹو کے لئے ایک یادگار سال ثابت ہوا۔ سال کے آغاز میں دنیا بھر کی نگاہیں کے ٹو پر موجود ان دو ٹیموں پر لگی ہوئی تھیں جو سردیوں میں پہلی بار کے ٹو کو سر کرنا چاہتی تھیں۔ کے ٹو آٹھ ہزار میٹر سے بلند دنیا…

Read more

کے ٹو پر لگی ہوئی دنیا کی نظریں

میں اور آپ جب یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو سکردو شہر سے آگے پاکستان کے پہلے گاؤں اسکولے سے قریب چھ دن کی مسافت پر کے ٹو اور براڈ پیک کے بیس کیمپ کے قریب کوہ پیمائی کی تاریخ لکھی جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ کوشش اگر اپنے کامیاب انجام کو…

Read more

جارج آرویل کا جانور راج

اسے اتفاق ہی کہیے کے سالوں سے پینڈنگ جارج آرویل کا ناول ”اینیمل فارم“ جب ختم کیا تو ہم سب کی ورق گردانی کرتے ہوئے آمنہ مفتی صاحبہ کا اسی ناول کا اردو ترجمہ ”جانور راج“ کے نام سے نظروں سے گزرا۔ چند صفحات پڑھ کر ہی اندازہ ہو گیا کے ترجمے کا حق خوب…

Read more