پنجابی عشق کا مارا بدو جوگی
ہمارے ہاں بیٹھے وہ اپنی لڑکی کی تعریف کئے جا رہے تھے۔ اتنی تعریف سن سن کر کن لال سے نیلے ہو کر اب گرنے والے ہو گئے تھے ۔ یہ پکا سمجھ آ گئی تھی کہ ان ولائتی مہمانوں نے باہر رہ کر بھی اپنی لڑکی کو اک مولوی سا بنا کر جوان کیا ہے ۔اب اپنی اس لیڈی ملا کے لئے رشتہ ڈھونڈنے پاکستان پہنچے ہوئے تھے ۔ رشتے داروں کی طرف خجل ہوتے پھر رہے تھے۔ مقصد ایک عدد لڑکے کی تلاش تھی جس کو اتنی احتیاط سے پلی ہوئی وہ لڑکی عطیہ کی جا سکے۔
میں نے مشورہ بھی دے دیا تھا بن مانگے کہ اتنی نیک لڑکی کے لئے آپ پھر کوئی مولوی ہی دیکھ لیں ۔ بڑی بری نظروں سے گھورا تھا لڑکی کی ماں نے مجھے۔ اس کے ابا جی نے بھی مجھے غور سے دیکھ کر اپنی عینک کو ناک پر درست کیا تھا ۔ پھر گھورتے ہوئے ملا سے امت کو لاحق خطرات پر اک چھوٹی سی تقریر کر دی تھی ۔ میں نے تقریر سن کر کہا کہ انکل پھر کوئی گورا دیکھ لیں ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے میں نے خود ہی وضاحت کر کے جان چھڑائی کہ میرا مطلب جہاں رہتے ہیں وہیں سے کوئی مسلمان لڑکا دیکھ لیں ۔
تایا نے الگ لے جار کر عزت کرنے کی بجائے وہیں بزتی کرنی شروع کر دی تھی ۔ مہمانوں سے کہا کہ اس کی بکواس کو نظر انداز ہی کریں۔ لعنتی قسم کے سوال پوچھنا اور جگتیں مارنا اس کا شعبہ ہے ۔ مہمان نے پوچھا بیٹا آپ فنکار ہو ، کہنا شائد وہ مراثی چاہتے تھے ۔ تایا نے بتایا کہ نہیں یہ صحافی ہے ۔ مہمان پوری طرح میری طرف متوجہ ہو گئے تھے۔ ان کی توجہ لگن دیکھ کر دل میں آئی تھی کہ ظالمو جب اتنا ہی تم لوگوں حالات جاننے کا کیڑا ہوتا تو باہر جاتے ہی کیوں ہو ۔ مجھے لگا میں پھنس گیا ہوں ۔ اب مجھے پاکستان کے حالات پر مسلسل خطاب کرنا ہو گا ۔
مہمان نے یہ جان کر کہ میں اک آن لائین ویب سائٹ سے متعلق ہوں ۔ مجھ سے کہا کہ بیٹا میرا اک کام کر دو ۔ میری بیٹی کو ای میل کر دو ۔ کچھ ڈاکیومنٹس ہیں وہ پہلے سکین کرنے ہیں پھر میل کر دینا ۔ اچھا تو یہ بات تھی انہیں میں ٹیکنالوجی کا سیانا لگا ہوں ۔
کوئ کہانی شروع کرنے میں دیر لگتی ہے بھلا ۔ اے پتر جٹاں دے نہیں رک دے ۔ بہانہ تو کڑی کے گھر والوں نے خود ہی فراہم کر دیا تھا۔ ہفتے کے اندر ہی ہم دونوں میل و میل ہوتے پھر رہے تھے ۔ لڑکی ہر گز ویسی نہ بن سکی تھی جیسے اس کے والدین کا خیال و گمان تھا ۔ وہ ایک چھٹی ہوئی ریڈر تھی کہ اس نے ایسی ہر تحریر اور رائٹر پڑھ رکھا تھا، جسے سنگسار کرنے پر طالبان حکومت فخر کرتی ۔ اک معصوم صورت لوفر سے مل کر مجھے تو دلی مسرت ہوئی تھی ۔
البانہ نام بتایا تھا اس نے مجھے اپنا ۔ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ مل کر جشن آزادی منا رہی تھی جب تک اس کے والدین پاکستان آئے ہوئے تھے۔ وہ چار دن کی آزادی کا اتنا ذکر کرتی تھی کہ ایک دن میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ تم نے اس آزادی کا کیا کرنا ہے تمھارا کوئی بوائے فرینڈ ہے کیا۔ اس نے کہا ہاں نہ ہے ایک عرب ۔
بوائے فرینڈ کا سن کر ایسی جلن ہوئی کہ پیروں کی انگلیوں سے بھی تکے بن گئے ۔ جلن اتنی زیادہ تھی کہ بو اس ظالم کو بھی پہنچ گئی ۔ اس نے پوچھ لیا بھائی دل زیادہ تو نہیں جل گیا ۔ بس یہ بھائی کہنا تھا ، امیدیں مٹی ہونی تھیں کہ بے پرواہ ہو کر اسے اک کہانی سنا دی ۔ اک جوہری نے عرب گاہک پر قیمتی پتھروں کی ایک لاٹ بیچی ۔اس ایک سودے میں جب لمبے ڈالر کمائے تو وہ حاتم تائی کا تایا بن گیا ۔اس نے کمال سخاوت فرمائی دو مشہور ڈانسر منگوائیں ۔ اپنے عرب گاہک کو مجرا دکھایا خود بھی دیکھا ۔
ہمارا تاجر جب سوٹے لگا کر جہاز بنا تو سو گیا ۔ عربی شیخ نے ڈانسر حضرات پر جادو کر دیا ۔ عربی تو جادو کر کے چلا گیا ۔ ہمارے جوہری نے جو کمایا تھا وہ ان ڈانسروں کے علاج پر لگا کر اپنا دیوالیہ نکلواتا رہا ۔
یہ عبرتناک کہانی ہی ایسی تھی ، سنائی بھی اس لیے تھی کہ اگلی کو اگ لگے ۔ وہ اگر غصے میں اب تپ کر گالیاں بھی دیتی تو دل خوش ہی ہوتا ۔ وہ نہ صرف سمجھ گئی بلکہ الٹا یہ کہہ کر کہ اوئے پینڈو ایسا کچھ نہیں ہوتا جلنے میں جو کسر رہتی تھی وہ بھی پوری کر دی ۔ اس نے ایسی تفصیل بتائی ، جادوگریاں کرتے بال کھینچے جانے کا مزہ بیان کیا ۔ ہماری شرم سے شرمندگی سے لال ہوتی شکل دیکھ دیکھ کر وہ ہنستی رہی، مزاق اڑاتی رہی ۔
البانہ کو میں نے بتایا کہ جس طرح تمھاری مشہوری تمھارے گھر والے کر رہے ہیں بہت سارے ڈنگر سن سن کر ہی زبان نکالے تمھارے اپنے ہاتھ لگنے کی دعا مانگ رہے۔ اس نے کہا آنے دو پتہ لگ جائے گا کہ کتنے ڈنگر ہیں۔ میں نے اس کے جواب سے حیران ہو کر پوچھا او ظالم حسینہ وہ عربی بدو کا کیا بنے گا۔ اس نے کمال بے نیازی سے کہا اوئے پینڈو وہ بوائے فرینڈ ہے کوئ ساری عمر تو سر پر نہیں سوار کرنا اسے۔ البانہ کے بقول ویسے بھی کالج میں اپنے صحرائی گیت گاتا تھا تو اسے اچھا لگا تھا۔ وہیں سے بات بڑھ گئی تھی جس میں البانہ سنجیدہ نہیں تھی۔
پھر پتہ لگا کہ ا سکے والدین نے فائنل کر ہی لیا ایک جوان بطور داماد۔ حیرت سارے نوجوانوں کو یہ ہوئی کہ جس کا انتخاب ہوا تھا وہ باقاعدہ اپنے حلقہ احباب می ڈنگر مشہور تھا۔ ڈنگر مشہور ہونے کی وجہ تھی ۔ ڈنگر سارا دن لڑکوں کے پیچھے پھرتا رہتا تھا ۔ اک دن ایک لڑکے کے ساتھ ہی پکڑا گیا ۔ اس پکڑے جانے میں اس کے اثاثے ظاہر ہوئے تو نام ڈنگر پڑ گیا ۔ اس شہرت کی وجہ سے بھی پھر اس رجحان لڑکوں سے ہٹ کر ٹھیک جگہ ہو گیا ، خیر۔
مجھے کبھی سمجھ نہ آئی کہ کیوں البانہ شادی پر تیار ہوئ وہ ایک آزاد سوچ کی بندی تھی ۔ ارینج میرج اس کی سوچ میں فٹ ہی نہ ہوتی تھی۔ والدین کو خوش راضی رکھنا اس کا ہرگز مسئلہ نہ تھا۔ اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اوئے پینڈو اپنے کلچر سے جڑ کر ہی سکھی رہ سکتا بندہ کسی دوسرے کلچر میں جا کر تتر بٹیر بننے کا فائدہ ۔ یوں اس ڈھیلے سے جواز کے ساتھ اسکی یہ شادی ہو گئی ۔ شادی کے بعد البانہ کو نہ صرف اپنا شوہر پسند آیا بلکہ اس کا پنڈ دیکھنے کا شوق بھی بڑھ گیا۔
شادی سے پہلے عرب بدو نے البانہ کو راضی کرنے کی اس کے گھر والوں کو منانے کی بڑی کوشش کی۔ البانہ بھی کہنے لگ گئی کہ اس ظالم کا عشق سچا ہی لگتا ہے۔ اس سچے عشق کا اندازہ اسے یوں ہوا کہ بدو نے نوکری چھوڑی اور جوگی سا بن کر گٹار گلے میں ڈالا اور پیدل نکل کھڑا ہوا دھرتی کو اپنے قدموں تلے روندنے ۔
البانہ سے رابطہ رہا ۔ اس کا ڈنگر خاوند کافی زن مرید ثابت ہوا۔ ہمارا جب بھی رابطہ ہوتا بدو جوگی کی بات کرتے۔ پھر میں اس کہانی سے نکل آیا بس پتہ لگتا رہا تو اتنا کہ دونون خوش ہیں دو بچے بھی ہوگئے ہیں۔ ایک دن کال آئی البانہ کی کال سمجھ کر فوری اٹھائی اس کا خاوند تھا کہنے لگا کہ اسے کچھ ہو گیا ہے ۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی سب رپورٹ ٹھیک ہیں بس یہ ٹھیک نہیں ہے۔آپ کو وہ اپنا دوست بتاتی ہمیشہ آپ ہی بات کر کے دیکھیں۔
بڑی مشکل سے اس کے ساتھ بات ہوئی وہ آمادہ ہی نہیں تھی۔ اس نے بتایا تو بس اتنا کہ اک دن اس نے راہ جاتے ایک پنجابی گیت سنا کھینچ لینے والی اس درد بھری آواز کو ڈھونڈتے اس کی جانب گئی تو بدو جوگی گا رہا تھا ہیرے نی رانجھا جوگی ہو گیا ۔ البانہ جب اس کے سامنے ہوئی تو اس نے تیرا رانجھا جوگی ہو گیا کی تان لگائی اور گٹار اٹھا کر چلتا بنا۔
یار وسی وہ چلا گیا میں وہیں کھڑی رہ گئی ہوں ۔ اس نے کب پنجابی سیکھی ۔ کب یہ گانا سیکھا ۔ کب وہ جوگی ہوا مجھے کچھ پتہ نہیں ۔ اسے کہا البانہ اس سے کر لے شادی ۔ اس نے جواب دیا وسی اب بہت دیر ہو گئی ہے ۔ وہ حرامی جوگی ہو گیا ہے اور میں کسے جوگی نہیں رہی ۔
پہلے لکھی ہوئی اک اور پرانی کہانی


