فقیر جانن چن کی مشین کی ضرورت اب آصف زرداری کو ہے


فقیر جانن چن لاڑکانہ کی مشہور و معروف شخصیت تھے۔ حصول تعلیم کے لیے آپ کے والد کو مدرسے میں داخل کروایا مگر چند دنوں بعد مولوی صاحب نے فقیر جانن چن کے والد کو کہا کہ ان کو جا کر چرواہا بناؤ پڑھائی اس کے کسی کام کی نہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے فقیر جانن چن پہلے چرواہا پھر چرواہے سے چور بن گیا۔ ایک رات وہ کسی کے بیل چرا کر جار رہے تھے کہ راستے میں کسی درویش نے آواز دی کہ تم برتن تو بہت اچھے بنے ہوئے ہو مگر پانی تمھارا کھارا ہے۔ یہ سن کر فقیر جانن چن وہ چوری کیے ہوئے بیل واپس چھوڑ آیا اور اسی درویش کے پاس دوبارہ پہنچ گیا کہ وہ اس کو اپنا مرید بنا لے۔ اس درویش نے کہا ایک شرط ہے تم چور ہو اس لیے تمھیں بیڑیاں پہننا پڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ شرط منظور ہے پھر اس درویش نے جن کا نام سید مہدی شاہ تھا اپنے پاؤں سے گھنگرو اور گلے سے گھنٹی اتار کر فقیر جانن چن کو پہنا دی۔

بس پھر صوفی فقیر جانن چن کی زندگی انسانیت، پسے ہوئے طبقات کی خدمت میں صرف ہوگئی۔ آپ نے کسانوں کے حقوق کے لیے کامریڈ حیدر بخش جتوئی کے ساتھ مل کر جدوجہد کی اور کسانوں کے حقوق اور وڈیروں کے مظالم کے خلاف اپنی شاعری میں آواز اٹھائی اس لیے علاقے کے زمیندار، وڈیرے آپ کے خلاف ہو گئے اس کے باوجود بھی فقیر اپنے حق اور سچ کا پیغام عوام تک پہنچاتا رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو انہوں نے لاڑکانہ کی گھاڑ نہر کی فریاد سے لے کر سیاست اور انسانیت پر مبنی نظمیں سنا کر لاجواب کر دیا تھا

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے اشتہارات میں سندھ کے ہسپتالوں، اسکولوں، گلیوں کوچوں کو پیرس سے تشبہہ دیتے نہیں تھکتی مگر پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ لاڑکانہ کو گندگی کے ڈھیر اور لاچار اور بے بس عوام کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ آئے روز احتجاج، شکایتیں، کرپشن اور عوامی مشکلات کا آئینہ سندھی میڈیا دکھاتی رہتی ہے۔ سندھ کے اکثر علاقوں میں نہ بجلی ہے نہ پینے کے لیے صاف پانی نہ پختہ سڑکیں نہ ہی اچھے ہسپتال۔ اگر کوئی سخت بیمار ہو تو راستوں کی نا ہمواریوں کی وجہ سے ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی انسان زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔ اور ایوانوں میں بیٹھے نمائندے عوام کی پہنچ سے بہت دور ہوتے ہیں کہ ان کے مشکلات کا ازالہ کر سکیں۔ اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی برائے نام ہونے کے سبب عوامی مسائل کے حل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

افسوس کی بات ہے کہ بھٹو صاحب اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں وہ عوامی رابطہ، فقیروں اور درویشوں سے وہ صحبت ختم ہو چکی ہے۔ جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے فقیر جانن چن سے ملاقات کی تو ان سے کہا آپ کو کیا چاہیے انہوں نے جواب دیا کہ ہم فقیروں کے پاس سب کچھ ہے بس آپ عوام اور انسانیت کی خدمت کریں اور میری تحفے میں دی ہوئی مشین کو ٹھیک طرح چلانا۔

پیپلز پارٹی جس کو کسانوں، مزدوروں اور غریبوں کی پارٹی سمجھا جاتا تھا جو پسے ہوئے طبقات کی ترجمان تھی اور روشن خیالی، اعتدال پسندی کے گیت گاتی تھی وہ آہستہ آہستہ صرف اور صرف کرپشن کے دفاع کرنے تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ زرداری صاحب نے سینٹ میں ڈپٹی چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر کی سیٹ تو ساز باز کر کے لے لی مگر یہ پیپلز پارٹی کی ماضی میں جمہوریت اور آمریت کے خلاف جدوجہد کو مٹی میں ملا دینے کے برابر ہے۔

آج پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر الزمات لگ رہے ہیں کہ وہ اقتدار میں آنے کے لیے فرشتوں کو ساتھ ملا کر وہ جمہوریت کو کمزور کرنے کے لیے چھرے تیز کر رہے ہیں۔ ماضی میں جن باتوں پر پاکستان پیپلز پارٹی مختلف سیاسی، غیر سیاسی اور ٹانگہ پارٹیوں پر تنقید کرتی تھی آج وہ خود ان کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ آج پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور ان کی بہن فریال ٹالپر کو فقیر جانن چن کی مشین کی اشد ضرورت ہے جس مشین کو فقیر نے ایک نظم کے روپ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے حوالے کیا تھا۔

“مشین ملی تھئی موتن لاء
پچھا تھیندئی ہتے پرزن جی
مچھ چوپ وارے مزے منجھایو
تیل اجایو تو آ ساڑیو
ھنبار ہیرن جا تو منجھ آہن
اکھری میں پیو ان نہ کماء
پچہا تھنیدئی اتی پرزن جی
کوڑ کمائے تو کوڑ کمائے
دھوڑ کمائے تھو دھوڑ کمائیں
مشین ملی تھئی موتن لاء
پچھا تھیندئی ہتی پرزن جے”

(یہ مشین نما جسم جس کا ہر پرزہ بیش بہا قیمتی ہے
اور ہر پرزہ جواب دہ ہے اپنے ہر عمل کا
مگر ان کے صحیح استعمال کو چھوڑ تم جھوٹ لالچ اور بے ایمانی میں لگ گئے ہو
مگر جس مال دولت کی حرص میں تم پڑ گئے ہو وہ سب مایا ہے)

Facebook Comments HS