فوج کی ضروری اور بروقت وضاحت
اس لئے ملک میں جمہوریت کے تسلسل کے لئے یہ بات کہنا اور تسلیم کرنا بے حد اہم ہے کہ اگر ملک میں جمہوریت سیاستدانوں کی نالائقیوں یا کمزوریوں کی وجہ سے ناکام ہوئی ہے تو وہ انہی کی کوششوں سے کامیاب بھی ہوگی۔ کوئی بھی ملک میں جاری جمہوری انتظام کو نقائص سے پاک نہیں سمجھتا لیکن یہ نقص بھی جمہوری عمل سے ہی دور ہو سکتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بات بھی سمجھنے اور کہنے کی ضرورت ہے کہ فوج اگر ملک میں جمہوریت کو قبول کررہی ہے تو وہ کسی پر کوئی احسان نہیں کرتی بلکہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتی ہے۔ فوج کی جانب سے اس بات کو ذو معنی الفاظ میں کہنے کی بجائے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہنے کی ضرورت ہے۔ فوج کو بطور ادارہ یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ملکی انتظام میں ایک اہم ادارہ ہے لیکن وہ ملک میں نافذ آئین کے تحت منتخب حکومت کے تابع فرمان ہے اور اس کا حصہ بھی ہے۔ اس کی اپنی خود مختار حیثیت وفاقی حکومت کے اختیار کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے ہی تسلیم کی جاسکتی ہے۔ ماضی قریب میں میمو گیٹ ، ڈان لیکس اور فیض آباد دھرنا کے حوالے سے فوج کی طرف سے سامنے آنے والے اشاریے یہ ظاہر کرتے ہیں گویا فوج خود کو حکومت کے متوازی یا اس سے بڑھ کر کوئی ’قوت‘ سمجھتی ہے۔ فوج کو بطور ادارہ اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا۔ میجر جنرل آصف غفور کی آج سامنے آنے والی وضاحت اس حوالے سے ایک اچھی کاوش ہے۔
اسی طرح اگر جمہوریت کے نام پر بدعنوانی برداشت نہیں کی جاسکتی تو یہ رویہ بھی قابل قبول نہیں ہے کہ کسی سیاستدان کو صرف الزامات کی بنیاد پر مطعون کیا جائے۔ یا کسی ایک فرد کی غلطی کا الزام سب سیاست دانوں پر عائد کیا جائے۔ یہ بلاشبہ ہمارے جمہوری اور عدالتی نظام کی کمزوری ہے کہ آج تک کسی سیاست دان کو اختیارات کے غلط استعمال اور کرپشن کے الزام میں سزا نہیں دی جاسکی حالانکہ درجنوں سیاست دانوں پر مقدمات بھی قائم ہوئے اور انہیں قید بھی رکھا گیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ احتساب کے نام پر فوج یا عدالت کو ملک کے انتظامی معاملات چلانے کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ کسی بھی شخص کو خواہ وہ کسی بھی ادنیٰ یا اعلیٰ عہدے پر فائز ہو ملک کے عدالتی نظام کے ذریعے ہی سزا دی جاسکتی ہے۔ الزام کی بنیاد پر فرد کے علاوہ نظام پر کیچڑ اچھال کر ماحول کو آلودہ کرنا، اس ملک کی خدمت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ماضی میں فوج نے احتساب کے نام پر اقتدار سنبھالا اور پھر انہی ’بدعنوان‘ سیاستدانوں کے ذریعے اپنی حکومتوں کو طول دینے کی کوشش کی ۔ یہ طریقہ اب متروک ہو چکا ہے۔ اسے استعمال میں لانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی۔ اس لئے فوج کو بھی نوشتہ دیوار اچھی طرح پڑھ کر یہ قبول کرلینا چاہئے کہ عدالتی نظام کے استحکام، بدعنوانوں کے احتساب اور شفاف جمہوریت کو یقینی بنانے جیسے نعرے اب فرسودہ ہیں اور عوام اس قسم کے بیانات کی حقیقت سے آگاہ ہو چکے ہیں۔
فوج کے علم میں ہونا چاہئے کہ ملک میں فوج کے سیاسی کردار کے بارے میں مباحث صرف آرمی چیف سے چند چیدہ چیدہ صحافیوں اور اینکرز کی آف دی ریکارڈ ملاقات کے بعد شروع نہیں ہوئے بلکہ تسلسل سے یہ لکھا اور کہا جاتا ہے کہ فوج کو نواز شریف کو قبول نہیں، اس کی صوابدید سے ہی سینیٹ چیئرمین کا انتخاب اپوزیشن پارٹیاں جیت پائی ہیں یا فوج بعض پارٹیوں کی پشت پناہی کررہی ہے اور عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی حیثیت کو ختم کرنےکی خواہشمند ہے ۔ جب تک یہ افواہ نما قیاس آرائیاں پھیلتی رہیں گی فوج پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی۔ اس لئے ملکی سیاسی معاملات سے لاتعلق ہونے کا اعلان کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان افواہ ساز فیکٹریوں کو بند کرنا بھی ضروری ہے جو عوام اور سیاست دانوں کو تسلسل سے یقین دلاتی رہتی ہیں کہ فوج کے کیا سیاسی عزائم ہیں اور کہاں پر کون سا اسکرپٹ لکھا جارہا ہے۔
اس مقصد کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ فوج اب یہ تسلیم کرلے کہ اس کے سیاسی کردار ادا کرنے کا وقت بیت چکا ہے۔ اب اسے ایک معزز پروفیشنل ادارے کے طور پر حکومت کے فرمان کے مطابق کام کرنے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔

