فوج کی ضروری اور بروقت وضاحت
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائیریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے نام نہاد ’باجوہ ڈاکٹرائن ‘ اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جنرل قمر جاوید باجوہ کے مبینہ تحفظات کے بارے میں وضاحت کی ہے۔ یہ وضاحت بروقت اور بے حد ضروری تھی۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ فوج کے ترجمان نے ملک کے سیاسی ماحول میں افواہ سازی کے ماحول اور قیاس آرائیوں کی روک تھام کے لئے ایک پریس کانفرنس میں یہ واضح کیا ہے کہ باجوہ ڈاکٹرئن کا تعلق صرف عسکری اور سیکورٹی معاملات سے ہے ، اس کا ملک کے سیاسی امور سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا ہے کہ فوج اٹھارویں ترمیم کے خلاف نہیں اور اس بات کو مثبت طور سے دیکھتی ہے کہ صوبوں کو زیادہ اختیارات تفویض کئے گئے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ‘سکیورٹی ایک وفاقی معاملہ ہے اور اگر صوبوں کو وسائل اور ضروری میکانزم فراہم کئے جائیں تو وہ بھی سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے انتظامات کر سکتے ہیں۔ لیکن ان میں ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی۔’ جنرل آصف غفور کی یہ وضاحت قابل قبول ہونی چاہئے اور اس سے موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے سے پہلے اور سال رواں کے دوران انتخابات سے قبل سامنے آنے والی نت نئی قیاس آرائیوں کو ختم کرنے میں مدد ملنی چاہئے۔
اگر یہ ہمارے ملک کی ایک سچائی ہے کہ فوجی ادارے کسی نہ کسی طرح ملکی سیاست میں ملوث رہے ہیں تو اب یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ ملک کا الیکٹرانک میڈیا بعض معاملات میں نہایت غیر ذمہ داری اور سنسنی خیزی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ سیاست دانوں پر کیچڑ اچھالنے کے لئے عدالتوں اور فوج کے بارے میں نت نئی خبریں سامنے لائی جاتی ہیں۔ ملک میں خوف اور بے یقینی کی فضا قائم کردی گئی ہے جس میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ دونوں ادارے جمہوریت کے نام پر قائم ہونے والی سیاسی حکومتوں سے عاجز آچکے ہیں اور اپنے اپنے طور پر بد عنوان سیاست دانوں سے ملک و قوم کو نجات دلانا چاہتے ہیں۔ بد قسمتی سے اس بحث کو بدعنوانی بمقابلہ جمہوریت کا عنوان دے دے دیا گیا ہے جس میں لامحالہ عام آدمی کی رائے اور جذباتی وابستگی بدعنوانی کے خلاف ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کے علاوہ مین اسٹریم میڈیا میں بھی یہ مباحث عام ہیں کہ کیا جمہوریت بدعنوان سیاستدانوں کو اختیار دینے کا نام ہے۔ کوئی ذی شعور یہ نہیں کہہ سکتا کہ بدعنوان لوگوں کو ملک کا اختیار سونپ دیا جائے۔ لیکن کسی بھی معاشرے میں آئینی انظام کا دعویٰ کیا جائے تو اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہوتا ہے کہ سارے معاملات آئین و قانون کے مطابق طے پائیں۔ نہ عدالتیں اپنے دائرہ سے باہر نکلیں اور عدالتی فیصلوں یا ریمارکس کی صورت میں سیاسی بیان جاری کریں اور نہ فوج یہ تاثر پختہ ہونے دے کہ وہ ملک کے سیاسی معاملات میں غیر ضروری دلچسپی رکھتی ہے۔
پاکستان کو اس وقت مشرقی اور مغربی سرحدوں سے جس قسم کے عدم تحفظ کا سامنا ہے، اس کی روشنی میں بلاشبہ یہ ضروری ہے کہ فوج کی قیادت اور حکومت وقت کے درمیان مواصلت کا سلسلہ جاری رہے۔ قومی سلامتی کونسل کے ذریعے یہ رابطہ استوار بھی کیا گیا ہے۔ پارٹی وابستگی سے قطع نظر ملک کے سیاست دان سیکورٹی اور اس سے متعلق خارجہ معاملات میں فوج کی رائے لینے اور اس پر عمل کرنے میں مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ تعاون کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے اور دنیا بھر کی سول حکومتیں عسکری قیادت کے مشورہ اور رائے کی روشنی میں ہی اہم فیصلے کرتی ہیں۔ فوج کو ایک پروفیشنل ادارہ ہونے کی وجہ سے سرحدوں کے تحفظ اور قومی سیکورٹی کے دیگر معاملات میں فنی اور عملی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ اس طرح ان معلومات کی بنیاد پر سیاسی قیادت معاملات کی پوری تصویر دیکھتے ہوئے فیصلے کرسکتی ہے۔
تاہم پاکستان میں اس تعاون کو بھی ہمیشہ شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس میں بلاشبہ میڈیا اور تبصرہ نگاروں کی طرف سے قوی کئے جانے والے اس تاثر نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے کہ فوج سول حکومت کی مدد کرنے کی بجائے اس کی رہنمائی کرتی ہے اور منتخب سیاسی حکومت کو فوج کی رائے اور فیصلوں کو بہر حال ماننا پڑتا ہے۔ لیکن اس میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ملک کے کمزور سیاسی نظام میں سیاست دان ابھی تک مختلف شعبوں میں اس دسترس اور صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے جن کی ان سے توقع کی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ سیاست پر خاندانوں کی اجارہ داری اور جمہوری سیاست میں اقربا پروری کا عمل دخل بھی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کی فوج نے گزشتہ پینسٹھ ستّر برس میں ملک پر براہ راست یا بالواسطہ حکومت کی ہے۔ چار بار فوجی سربراہوں نے سیاست دانوں کو مطعون کرتے ہوئے بدعنوان عناصر کا احتساب کرنے کے نام پر اقتدار پر قبضہ کیا ۔ اور اس آمریت کے دوران ملک کے جمہوری ڈھانچے اور مزاج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے علاوہ ملکی معیشت، خارجہ تعلقات اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات کو بھی شدید متاثر کیا۔ ملک دو لخت ہؤا اور اسے افغانستان کے معاملات میں غیر ضروری طور ملوث کرکے ایک ایسی مشکل میں ڈال دیا گیا جس سے وہ آج تک باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اسی لئے جنرل قمر جاوید باجوہ ان مشکلوں کا ذکر کرتے ہوئے گزشتہ تین دہائیوں کی غلطیوں کی اصلاح کرنےکی بات کرتے ہیں۔ لیکن اس اصلاح کے لئے جس اعتماد اور اداروں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے ، وہ بوجوہ فراہم نہیں ہو سکا۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


