پرائیویٹ سکول فیڈریشن والے مرزا صاحب ملالہ نہیں ہیں

بعض افراد یہ بھی اعتراض کریں گے کہ مرزا صاحب کو یہ اعلان کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے کہ وہ ملالہ نہیں ہیں۔ انہیں تو دور سے دیکھ کر ہی پتہ چل جاتا ہے کہ وہ ملالہ نہیں ہیں۔ کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ نہ تو مرزا صاحب زنانہ کپڑے پہنتے ہیں، نہ ان کے لمبے بال ہیں، نہ وہ نیل پالش یا لپ اسٹک وغیرہ لگاتے ہیں۔ کم از کم پبلک میں وہ ایسا کرتے دکھائی نہیں دیے ہیں۔ تو پھر ان کو اتنے اصرار سے یہ کیوں کہنا پڑا کہ ”آئی ایم ناٹ ملالہ“۔ ظاہری شباہت کا معاملہ ایک طرف لیکن کوئی ذی شعور شخص غور کرے تو وہ سمجھ جائے گا کہ صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکول فیڈریشن مرزا صاحب ملالہ کیوں نہیں ہیں۔ بلکہ ملالہ نہیں ان کی ایک تصویر میں تو ہمیں رومانیہ کے علاقے ٹرانسلوینیا کے ایک کاؤنٹ کی سی وجاہت دکھائی دیتی ہے۔
لیکن ماہرینِ اطفال یہ کہتے ہیں کہ بچوں کو صرف تعلیم ہی نہیں دینی چاہیے۔ ان کے لئے غیر نصابی سرگرمیاں اہم ہوتی ہیں۔ اس لئے پرائیویٹ سکول بچوں سے ان سرگرمیوں کے لئے سال کے شروع میں ہی ہزاروں روپے لے لیتے ہیں اور اس رقم کے بدلے بچوں کو کاغذ کترنا، رنگ کرنا اور سوانگ بھرنا وغیرہ سکھاتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے علاوہ سال میں دو چار فنکشن کیے جاتے ہیں جن میں بچوں کو خرگوش، بھالو یا بندر وغیرہ بنایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے سکول کھلے دل سے رقم خرچ کرتا ہے جو والدین تنگ دل سے دیتے ہیں۔
اب بچے کو ہر وقت زیرنگرانی رکھنے، اسے سکھانے پڑھانے اور بھالو بندر بنانے پر پیسے تو لگتے ہیں۔ یہ پیسے سکول والے بہت محنت سے پورے کرتے ہیں تاکہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہ سکے۔ وہ بچارے بہت محنت سے بیس روپے کی کاپی اپنے سکول کے کور کے ساتھ ساٹھ روپے کی بیچتے ہیں، تین سو روپے قیمت کا یونیفارم ہزار روپے میں دیتے ہیں، پانچ سو کا بستہ بارہ سو میں فراہم کرتے ہیں۔ طرح طرح کے حیلے سے حق حلال کی کمائی والدین سے لیتے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ کرنا آسان ہے؟
بعض پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کے گریڈز کا خاص خیال رکھا جاتا ہے تاکہ والدین بد دل ہو کر اپنے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ کر دیں۔ حقیقت یہی ہے کہ بعض والدین بہت نازک مزاج بلکہ سڑیل ہوتے ہیں۔ بچے کی تعلیمی کارکردگی اچھی نہ ہو تو سکول پر عیب دھر کر بچہ سکول سے اٹھا لیتے ہیں۔ اب پرائیویٹ سکول والوں کو کیا خبر کہ وہ بچے کو کسی دوسرے سکول میں ڈالیں گے یا پڑھائی چھڑوا کر اسے ورکشاپ پر بٹھا دیں گے۔ اس لئے وہ بچے کے مستقبل کے لئے اسے اے اور اے سٹار وغیرہ دے دیتے ہیں خواہ بچہ دوسری تیسری جماعت میں پہنچ جائے اور اسے دس تک گنتی نہ آتی ہو۔ اپنے ملازم کے بچوں کے ساتھ یہ ہوتے ہم نے خود دیکھا ہے۔ حالانکہ وہ صرف پندرہ سو روپے ماہانہ فیس دیتا تھا لیکن فرمائش اس کی یہ تھی کہ اس کے بچے پڑھائی میں اچھے ہوں۔ ایک ریزلٹ کے بعد وہ سکول والوں سے لڑ پڑا کہ بچے کے گریڈ اتنے گندے کیوں ہیں، میں بچہ سکول سے اٹھا لوں گا۔ اس کے بعد سکول والوں نے بچے کا اتنا زیادہ خیال رکھا کہ اس کے گریڈ کبھی گندے نہ ہوئے۔
لیکن بجائے اس بات کے کہ پرائیویٹ سکول والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے، ملالہ جیسے افراد ان کی زندگی مشکل بنا دیتے ہیں۔ کبھی ستر کروڑ روپے حکومت پاکستان کو دے دیتے ہیں کہ سرکاری سکولوں کو بہتر کرو، کبھی پاکستانی بچیوں کو سکالرشپ دے دیتے ہیں کہ ملک میں یا باہر جا کر پڑھو، کبھی نوبل انعام کے کروڑوں روپے ایک فلاحی سکول بنانے پر لگا دیتے ہیں تاکہ علاقے کے پرائیویٹ سکول بند ہو جائیں، کبھِی دنیا بھر سے پیسے اکٹھے کر کے لانے شروع کر دیتے ہیں تاکہ ایسے ٹپ ٹاپ والے سکولوں کا جال ملک بھر میں پھیلا دیں۔

ملالہ ایسے سکول بنا رہی ہے جو بہترین تعلیمی خدمات دینے والے پرائیویٹ سکولوں کو تباہ کر دیں تو کاشف مرزا صاحب کیا یوم سیاہ نہیں منائیں گے؟ مرزا صاحب کسی سے ڈرتے ورتے نہیں ہیں۔ جسے غلط سمجھتے ہیں اس کے خلاف ڈٹ جاتے ہیں۔
مثلاً ابھی مارچ 2018 کے شروع میں ہی پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بچوں کے خلاف جنسی جرائم کو کنٹرول کرنے کی نیت سے تمام پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں میں بچوں کی ڈانس پرفارمنس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زاہد بشیر گورایہ صاحب نے ڈان ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ڈانس پرفارمنس پر پابندی کا اطلاق تقسیم انعامات، پیرنٹس ڈے، ٹیچرز ڈے اور دوسرے ایونٹس پر ہو گا، اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے سکولوں کا لائسنس معطل کر دے گا۔
مرزا کاشف علی صاحب کو یہ پابندی بچوں کی صحت کے لئے ضرر رساں لگی ہو گی تو انہوں نے الحمرا ہال میں لاہور سکول سسٹم اور آل پاکستان پرایٔیویٹ سکولز فیڈریشن کے زیر اہتمام تقسیم انعامات کی سالانہ تقریب کا انعقاد کیا جس میں بچیوں اور بچوں نے خوب ڈانس کیا۔ اس ڈانس کو مرزا کاشف علی اور سکول کے پرنسپل مرزا عاطف علی نے ذاتی طور پر ملاحظہ کیا۔ بلکہ سٹی 42 چینل کی ویڈیو کے مطابق اس سرکاری پابندی کو اس کی اوقات دکھانے کے لئے سرکاری افسران کو بھی اس تقریب میں بطور گواہ مدعو کیا گیا۔ آپ خود بتائیں کہ یہ دن یوم سیاہ نہیں کہلائے گا تو کیا کہلائے گا؟
الحمرا ہال میں لاہور سکول سسٹم اور آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے زیر اہتمام تقسیم انعامات کی سالانہ تقریب کا انعقاد
https://www.city42.tv
Posted by City42 on Thursday, March 29, 2018

