خود کھانا گرم کر لو ۔۔۔۔ خود پکانا بھی سیکھ لو


’ہم سب‘پر اس موضوع پر چھپنے والے ایک کالم کے کمنٹس ہمارے معاشرے کے اس ذہن کی نہایت اچھی عکاسی کرتے ہیں۔ ان میں کچھ سے مندرجہ ذیل اقتباس لیے گئے ہیں۔

’’خدا مشرق میں بنے سنورے رشتوں کی لاج سلامت رکھے۔ عورت اگر مرد کی برابری کی کوشش میں مرد بننے لگے تو اس کا عورت پن کہاں جائے گا؟‘‘

 ’’اللہ نے مرد اور عورت کی فطری جبلت الگ الگ رکھی ہے اور قدرت سے انحراف ہی ہماری تباہی کا باعث ہے۔ ‘‘ َ

 ’’ایک عورت ہمیشہ عورت ہی رہتی ہے چاہے وہ دنیا ہی فتح کر لے۔ یہ عورت کا کردار ہی ہے جو اسے دل میں بساتا ہے یا دل سے اتارتا ہے۔ عورت باپ کا رول پلے تو کر سکتی ہے باپ بن نہیں سکتی۔ ‘‘

محبت سے آزادی کی تلاش ہے، رشتوں سے آزادی کی طلب ہے۔ نہ جانے یہ آزادی کی کون سی قسم ہے۔ جس میں تعلق سے آزادی درکار ہے۔ ‘‘

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کھانا پکانا عورت کی جبلت ہے اُن سے سوال ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے شیف (باورچی)کی اکثریت مرد کیوں ہے؟ہمارے ملک میں بھی باورچی، دیگیں پکانے والوں کی اکثریت مردوں کی ہے۔

جو لوگ اس بات کو مشرقی اقدار پر مغرب کی یلغار سمجھ رہے ہیں اُن سے عرض ہے کہ وہ کبھی مغربی اقدار کو تعصب کی عینک اتار کر دیکھ لیں۔ مغرب میں بھی میاں بیوی ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ میں نے امریکہ میں یہ بھی دیکھا ہے کہ اگر بیوی دائمی بیمار ہوجائے تو شوہر بیمار بیوی کی اُسی طرح سال ہا سال خدمت کرتا ہے جس طرح بیوی اپنے دائمی بیمار شوہر کی کرتی ہے۔ ہمارے ہاں عورت کی دائمی بیماری کی وجہ سے دوسری شادی کرنے یا طلاق دینے کو غلط نہیں سمجھا جاتا۔

یہ درست ہے کہ طلاق کی شرح مغربی معاشرے میں زیادہ ہے کہ یہاں شادی کی بنیاد محبت اور ہم آہنگی سمجھی جاتی ہے اور خوشی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا شادی کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ کبھی کبھار محبت اور خوشی کی تلاش میں طلاق ہوجاتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی معاشرہ بھی مکمل طور پرجنت کا نمونہ نہیں ہے۔ مگر مغربی معاشرے کی ہر قدر کو برا کہنااور صرف اپنے معاشرے کو ہی برتر جاننا حقیقتوں کو جھٹلانا ہے۔

مغربی معاشرے میں بھی دوسری جنگ ِ عظیم سے پہلے عورت اور مرد کے فرائض الگ الگ تھے۔ عورت کا کام گھر کے اندر اور مرد کا فرض معاشی حصول تھا۔ مگر بدلتے وقت کے ساتھ اب بہت ساری خواتین کو گھر سے باہر کام کرنا پڑتا ہے۔ مرد پر معاش کی ساری ذمہ داری ـڈالنا انصاف کا تقاضہ نہیں ہے۔ اسی طرح عور ت پر دہری ذمہ داری ڈالنا بھی ناانصافی ہے۔

ہمارے معاشرے کو بھی وقت کے ساتھ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی گھر کے کاموں میں مدد کرنے سے مردانگی پر کوئی ضرب نہیں پڑتی۔ جس طرح عورت کے باہر کام کرنے سے اُس کے عورت پن پر کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اس وقت جس طرح ہم اپنی لڑکیوں کو پڑھاتے ہیں کہ وہ مشکل وقت پڑنے پر کسی کی محتاج نہ ہوں۔ اسی طرح اپنے لڑکوں کو بھی کھانا پکانا، بٹن لگانا، صفائی کرنا، برتن دھوناسکھانا چاہیے کہ وہ بھی وقت پڑنے پر کسی کے محتاج نہ ہوں۔ اور اکیلے رہنے کی صورت میں صاف ستھرے رہیں اور صحت مند کھانے پکا سکیں۔

ایک دوسرے پر انحصار کرنا غلط بات نہیں ہے اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے مگر رشتے اور تعلق کی بنیاد محتاجی اور ضرورت نہیں ہونی چاہیے،محبت اور عزت ہونی چاہیے۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ اپنی خوشی اور مرضی سے رہنا چاہیے اس لیے نہیں کہ اُنہیں کھانا گرم کرنے کی ضرورت ہے یا پیسوں کی محتاجی ہے۔

 امید ہے اس بحث کے بعد ہم اپنی مشرقی اقدار میں ترمیم کرکے مردوں کے گھر کے کاموں کو برے لفظوںکا لیبل لگانے کی بجائے خوش آمدید کہیں گے۔ اور جب کوئی ہمارے مردوں سے یہ کہے گا کہ خود کھانا گرم کر لو تو وہ فخر سے جواب دیں گے کہ مجھے نہ صرف کھانا گرم کرنا آتا ہے میں تو بہت اچھا کھانا پکا بھی لیتا ہوں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

ڈاکٹر غزالہ قاضی

Dr. Ghazala Kazi practices Occupational Medicine (work related injuries and illnesses) in USA. She also has a master’s degree in Epidemiology and Preventive Medicine.

dr-ghazala-kazi has 36 posts and counting.See all posts by dr-ghazala-kazi