سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اس وقت کوٹ لکھ پت جیل میں ہیں۔ پاکستان کی اکثریت کو معلوم ہے کہ وہ سیاسی قیدی ہیں اور کرپشن کا الزام صرف دکھاوا ہے۔ پاکستانی عوام کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ پاکستان میں صرف ایک وہ ہی کرپٹ ہیں کیا؟ جو لوگ پاکستان کی سیاست اور تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ میاں صاحب ضمیر کے قیدی ہیں۔ میاں صاحب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ پاکستان آکر انہیں قید کر لیا جائے گا۔وہ الیکشن میں بھی حصہ نہیں لے سکتے تھے مگر وہ اپنے اصولوں کی خاطر بستر مرگ پر پڑی اپنی بیوی کو چھوڑ کر وطن واپس چلے آ ئے۔ اس وقت بھی میاں صاحب پاکستان کے اصل حکمران، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ غیر اصولی سمجھوتہ کرنے پر تیار نہیں ہیں اس لیے انہیں قید میں رکھ کر اس بات کی سزا دی جارہی ہے۔ میاں محمد نواز شریف شوگر اور دل کے مریض ہیں۔ ایک ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے مجھے معلوم ہے کہ ان دونوں بیماریوں کا امتزاج کسی وقت بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
Read more