فلم ”ابو“ :ہم جنس پسند پاکستانی نژاد بیٹے اور باپ میں عداوت کی کہانی
سماجی موضوعات پر بننے والی دستاویزی فلمیں ہمیشہ ہی سے میری توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ پچھلے کچھ ماہ سے ایسی ہی ایک فلم ”ابو“ کا تذکرہ زوروں پر رہا ہے۔ اس فلم نے ریل آؤٹ فلم اور ویڈیو فیسٹیول (2018ء) میں بہترین ڈاکیومنٹری کا ایوارڈ حاصل کرنے کے علاوہ بھی 2017ء میں کئی ایوارڈز اور انعامات وصول کئے ہیں۔ اس فلم کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اسے مانٹریال میں رہنے والے پاکستانی نژاد امیگرنٹ ارشد خاں نے بنایا۔ ارشد خان پہلے مسلمان، ہم جنس پسند پاکستانی امیگرنٹ ہیں کہ جنہوں نے پوری سچائی اور جراتمندی کے ساتھ اپنی جنسی ترجیحات کو نہ صرف کمیونٹی میں آشکار کیا بلکہ ایک فلم کے قالب میں بھی ڈھالا۔ 42 سالہ زندگی کو 80 منٹ کی دستاویزی فلم میں سمونے میں انہیں پانچ سال کا طویل عرصہ لگا مگر وہ مطمئن ہیں کہ ”اس فلم نے میرے لئے تھراپی کا کام انجام دیا“۔ بطور تھرپسٹ میں نے اپنے بے شمار کلائنٹس کی زندگی کی کہانیاں سن رکھی ہیں اور حتی المقدور تھرپی بھی کی لیکن میری دلچسپی اس فلم میں اس لئے بھی بڑھی کہ آخر وہ کونسی گرہیں تھیں کہ جن کو اس فلم کے بنانے کے دوران کھولا گیا کہ جس نے زخموں کے اندمال کا کام انجام دیا لہٰذا میں نے ارشد خان صاحب سے درخواست کی کہ وہ اپنی فلم کا اردو ورژن مجھے بطور لنک بھیج دیں۔ واضح ہو کہ اس انگریزی سے اردو میں نیلم احمد بشیر نے ڈھالا ہے۔ اس طرح میں اسے دیکھنے والی پہلی فرد تھی۔
فلم ”ابو“ ارشد خان کی زندگی کا وہ سفر ہے جسے ان کے ابو نے ان کی ”ہم جنس پسندی“ کے سبب کبھی بھی قبول نہ کیا۔ ان کے نزدیک ایسا شخص قاتل اور منشیات کے عادی افراد ہونے کے مترادف تھا اور نفسیاتی عارضہ کا نتیجہ ہے جس کو نفسیاتی معالج کا علاج درکار ہے۔ باپ بیٹے کے درمیان نظریاتی اختلاف نے ایک دوسرے کے خیالات کو ہی نہیں وجود کو بھی یکسر مسترد کردیا تھا۔ رنجش، عداوت، نفرت اور انا کی دیوار ان کے درمیان پوری زندگی حائل رہی تاہم ابو کی زندگی کے اختتامی سفر نے ارشد کے وجود کے داخلی سفر کا آغاز کیا۔ طویل اور پیچیدہ سفر، جس کا اختتام فلم ”ابو“ کی تکمیل کی صورت میں ہوا۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ بظاہر باپ بیٹے کے مابین ”ہم جنس پسندی“ کی بنا پر عداوت اور رنجش ہی فلم کی بنیاد نہیں بلکہ ارشد کی زندگی کی اس کتاب میں کئی اور باب بھی ہیں جسے انہوں نے ورق در ورق کھولا ہے، مثلاً اپنے والدین کی انڈیا سے پاکستان جبری ہجرت کا المیہ، ان کے خاندان کی پاکستان سے کینیڈا نقل مکانی کا ٹراما، ارشد کے بچپن میں اپنے جاننے والے عزیز کے ہاتھوں جنسی استحصال کا سلسلہ اور اس سے وابستہ فرسٹریشن، خوف اور تنہائی کا شدید احساس، خاندان کے مخفی تاریک راز، سماجی رویوں کا تضاد، پھر 1980ء کی دہائی میں روشن خیال اور ایک دوسرے کے درمیان محبت اور رواداری کی فضا سے مذہبی انتہاپسندی اور تنگ نظری کا آسیب زدہ ماحول کہ جس نے ایک ہی ملک کے رہنے والے افراد کے درمیان نفرت اور نفاق کی فصل اگائی۔ دہشت گردی کو جنم دیا، کلاشنکوف کلچر کو فروغ دیا، غرض اس داستان کا ہر باب پاکستان سے مغربی ممالک بالخصوص ضیاء کی آمریت کے دور میں، نقل مکانی کرنے والوں کو اپنی زندگی سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
ارشد نے مجھے بتایا ”اس فلم کو بنانے کا فیصلہ آسان نہ تھا۔ میری امی نے کہا فلم مت بنانا اس سے بے عزتی ہوگی“ ارشد نے کہا ”میں نے کوشش کی کہ اس فلم سے کسی کا دل نہ دکھے“ تاہم اس کے باوجود ارشد (جنہوں نے کم دورانیہ کی بے شمار فلمیں بنائی ہیں) اس طویل دستاویزی فلم میں اپنے حصہ کا پورا سچ کہہ دینا چاہتے تھے۔ ارشد کے نزدیک ”ہجرت“ ایک بڑا المیہ ہے لہٰذا انہوں نے اپنے والد کی ہندوستان سے پاکستان ہجرت کا ذکر کیا جو 1947ء میں محض 10 سال کے یتیم بچے تھے اور جنہوں نے سخت محنت کے بعد پاکستان میں انجینئرنگ کی اعلیٰ ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی۔ فوج میں اعلیٰ ملازمت کی اور پھر کس طرح اپنی شادی شدہ، خوش باش زندگی کا آغاز کیا کہ جہاں خوشحالی، روشن خیالی، مشرقی اور مغربی تہذیبوں کے امتزاج سے مرصع دعوتیں اور گھریلو تقاریب میں ناچ اور گانے پر قدغن نہ تھی بلکہ خود اپنے والدین بھی اس میں حصہ لیتے۔ یہ ضیاء الحق کی آمریت کے دور سے قبل کا زمانہ تھا۔ فلم میں اس کھلے ذہنوں والے دور کو اس گانے کے بول میں استعارہ کی صورت پیش کیا ہے۔
”کبھی ہم خوبصورت تھے“
ارشد نے تاسف سے کہا کہ ”ہماری ثقافت ہائی جیکڈ (یرغمال) کرلی گئی ہے۔ ہم نے گانا اور رقص کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم سعودی کلچر کے پیچھے لگ گئے ہیں۔ میں اس فلم سے بتانا چاہتا تھا کہ دنیا کو پتہ چلے کہ ہم دہشت گرد نہیں، ہمارے درمیان پیار، محبت اور رواداری تھی“۔
دوسری ہجرت ان کے خاندان نے اس وقت کی کہ جب ملکی حالات دگرگوں اور خاندانی و معاشی حالات ابتری کی جانب رواں تھے۔ بحیثیت گے (Gay) 15 سال کی عمر میں کینیڈا نقل مکانی پورے خاندان بالخصوص ارشد کیلئے المیہ ثابت ہوئی۔ پاکستان میں تو صرف Gay ہونے کے باعث تفریق تھی، یہاں مسلمان اور براؤن رنگت کی وجہ سے امتیازی برتاؤ بھی تھا۔ 1991ء میں ہجرت کے بعد 2001ء میں نائن الیون کا واقعہ جس نے شناخت کو مزید مشکوک اور متزلزل بنا دیا۔ انہیں احساس ہوا کہ ”پاکستانی ہونے سے تو کتّا ہونا بہتر ہے“۔ شناخت کی دوڑ میں امی، ابو نے مذہب اور بنیاد پرستی میں پناہ ڈھونڈی اور ابو کی جانب سے مسلسل ہدایت نامے ملنے لگے، ساتھ ہی ”ابو کی داڑھی اور حرام و حلال کھانوں کی لسٹ بڑھنے لگی“ گھر میں فرحت ہاشمی کے ”قومِ لوط“ سے متعلق لیکچرز اور اخلاقیات کے درس ہونے لگے ”ابو سب کیلئے سائبان اور میرے لئے کچھ بھی نہیں تھے“۔
غرض فلم ”ابو“ محض ایک فرد کی شناخت اور اس کے مسترد ہونے کے المیہ سے کہیں بڑھ کر ہے جو فردِ واحد اور پھر خاندان کے دکھ سے شروع ہو کر پورے سماج سے ہم رشتگی قائم کرتا ہے۔ اس داستان کو ارشد نے اپنے والد (جو فلم ٹیکنالوجی کے ماہر انسان تھے) کی سالہا سال لی جانے والی خاندانی فلمز اور تصاویر کی مدد سے ”ابو“ میں منتقل کیا۔ اس فلم کا کمال یہ ہے کہ باوجود ارشد اور اس سے وابستہ خاندان کے افراد کی زندگیوں کے المیہ، تاسف، غم اور غصہ کے فلم کا تاثر جذباتی طور پر بوجھل نہیں کرتا۔ ارشد خان کی تحریر اور آواز میں رجائیت ان میں اثر کرتی ”تھرپی“ کا پتہ دیتی ہے جو بلاشبہ ان کی بچپن کی خوبصورت یادوں سے وابستہ ہے کہ جنہیں ”ابو“ نے بڑی محنت اور لگن کے ساتھ کیمرہ کی آنکھ سے محفوظ کیا۔ آنے والے کل میں اپنے بیٹے کے مستقبل کے اہم منصوبہ ”ابو“ کیلئے چاہے نادانستگی میں ہی سہی، مگر اس تمام عمل میں ارشد کو اپنے زخم کے اندمال میں جو مدد ملی اس نے بلاشبہ اپنے ابو سے ایک نیا مضبوط رشتہ ضرور جوڑا۔ غیرمشروط قبولیت اور انمٹ محبت کا۔




