کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے (اپریل فول)


کچھ روز سے ناسازی طبع کے باعث لکھنے لکھانے پر طبیعت مائل نہیں ہو رہی تھی۔ بہت سے لوگ شکر ادا کر رہے تھے۔ مگر آج حسب معمول صبح اٹھ کر ”ہم سب“ پر مطالعہ کا آغاز کیا تو مزہ ہی آ گیا۔

پہلی تحریر جس پر نظر پڑی وہ صائمہ ملک صاحبہ کا تصوف پر مبنی مضمون تھا جس میں انہوں نے جدید سائنسی ایجادات پر مردانہ نقطہ نظر کے حوالے سے بحث کی تھی۔ مضمون پڑھ کر طبیعت بحال ہو گئی۔ کیا عمدہ مضمون تھا۔ فصاحت اور بلاغت کے گویا سمندر ہلکورے لیتے محسوس ہو رہے تھے۔ ان کی گذشتہ تحاریر کی نسبت اس تحریر نے نہایت بور کیا۔ انتہائی کوفت کے عالم میں تقریباً زبردستی تحریر ختم کی تو اگلا سرپرائز حاضر تھا۔ اگلا مضمون عدنان خان کاکڑ صاحب کا تھا۔ انتہائی سنجیدہ مضمون جس میں انہیں نے ٹھوس دلائل اور ثبوتوں کی بنیاد پر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس صدی کا سب سے نیک اور با کردار انسان قرار دیا تھا۔ یہ مضمون چشم کشا تھا۔

ابھی حیرت کے سمندر سے نکلے ہی نہ تھے کہ اگلا شدید جھٹکا ہمارا منتظر تھا۔ تحریم عظیم صاحبہ مردوں کے حقوق کی مہم چلاتی نظر آئیں۔ ان کے مضمون میں مردوں پر خواتین کی جانب سے روا رکھے جانے والے دل خراش مظالم اور زیادتیوں کے دل دہلا دینے والے قصے بیان کیے گئے تھے۔ ہم نے آنکھیں مل مل کر دیکھا کہ کہیں غلطی سے ہماری کسی تحریر پر تحریم عظیم کا نام تو نہیں لکھا گیا مگر یہ تحریر ان کی ہی تھی۔ اگلا مضمون ہمارے ایک اور پسندیدہ لکھاری ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے تو کمال ہی کر دیا۔ خدائے واحد کی حقانیت اور موجودیت پر اس قدر شاندار مضمون لکھا کہ ہم عش عش کر اٹھے۔ اس قدر مضبوط اور مربوط دلائل شاذ ہی ہمارے مطالعے میں آئے ہوں گے۔ ڈاکٹر صاحب کے زور قلم کی داد دینے کے بعد ہم نے محترم وجاہت مسعود صاحب کے کالم کی تلاش شروع کی مگر ”ہم سب“ پر ان کا نہ تو کوئی نیا کالم موجود تھا اور نہ ہی پرانے کالم دستیاب تھے۔ پتا چلا کہ اختلافات کی بنیاد پر وجاہت مسعود صاحب نے ”ہم سب“ سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے اور صحافت چھوڑنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ان کا نام ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ انتہائی افسوس ناک خبر تھی۔ اس خبر کے بعد ہم نے ”ہم سب“ کی ویب سائٹ بند کر دی۔ سوچا اس صدمے سے سنبھل کر دوبارہ مطالعہ شروع کریں گے۔

ہماری عادت ہے کہ اپنے پنسدیدہ لکھاریوں کے مضامین پڑھنے کے بعد اخبارات کا معالعہ کرتے ہیں تاکہ ملکی اور بین الاقوامی خبریں حاصل ہو سکیں۔ جو خبریں ہمیں حاصل ہوئیں انہوں نے ہمارے چودہ طبق روشن کر دیے۔ پہلی ہی خبر نے منہ کا ذائقہ خراب کر دیا۔

خبر کے مطابق کل رات نواز شریف اور عمران خان کے درمیان لاہور کے چیئرنگ کراس پر اتفاقیہ ملاقات ہو گئی۔ نواز شریف لاہور چڑیا گھر کی سیر کو جا رہے تھے جبکہ عمران خان بھی چڑیا گھر کے دروازے پر تحریک انصاف کی ممبر سازی مہم کے لیے خطاب کر رہے تھے۔ ایسے میں جب نواز شریف وہاں پہنچے تو عمران خان نے فوری طور پر اپنا خطاب روک لیا۔ نواز شریف عمران خان کو دیکھ کر بے اختیار ہو گئے اور ان کی طرف بڑھے۔ عمران خان بھی گاڑی کی چھت سے اتر کر نواز شریف کی طرف بھاگے اور عین مال روڈ کے بیچوں بیچ دونوں بغل گیر ہو گئے۔ دونوں کے حامیوں نے فلک شگاف نعرے لگانے شروع کر دیے۔ عینی شاہدین کے مطابق دونوں کے حامی بھی برسرعام بغل گیر ہو گئے۔ اس میں مرد اور خواتین حامیان کی تمیز بھی نہیں روا رکھی گئی۔ ایک عینی شاہد کے مطابق نواز شریف نے چٹا چٹ عمران خان کے تین بوسے بھی لیے۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ شرم سے عمران خان کا رنگ سرخ پڑ گیا تھا۔

ملک بھر میں اس خبر کے بعد مایوسی کا عالم پایا جاتا ہے۔ عوام کو یقین تھا کہ نواز شریف اور عمران خان کی لڑائی میں دونوں یا ان میں سے ایک کا سیاسی مستقبل لازماً تاریک ہو جائے گا مگر اس بغل گیری نے بغل میں چھری رکھنے والوں کے منہ سے رام رام بھی نکلنا بھلا دیا ہے۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

اگلی خبر اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والی تھی۔ خبر کے مطابق پاکستان کی وفاقی کابینہ نے امریکہ کے لیے تین ٹریلین ڈالرز کی امداد کی منظوری دے دی تھی البتہ امداد کو امریکہ میں موجود لبرل اور سیکولر گروپوں کے خلاف ثمر آور کارروائی سے مشروط کر دیا تھا۔ یہ خبر پڑھ کر ہم نے یا ہو! کا نعرہ لگایا۔ اور ایک زوردار جمپ لگایا۔ دوسرے ہی لمحے ہمارے منہ سے کراہ نکل گئی۔ ساتھ ہی ہمارے کانوں میں خوشی کی دھیمی دھیمی شہنائی کی آواز آنی شروع ہو گئی۔

آنکھیں ملتے اور اپنے سر کو سہلاتے ہوئے ہم نے فرش پر سے اٹھتے ہوئے دیکھا تو سرہانے موجود میز پر دھری گھڑی کا الارم اپنی منحوس اور کرخت آواز میں بج رہا تھا اور گھڑی میں موجود برقی کیلنڈر پر یکم اپریل کا ہندسہ جگمگا رہا تھا۔

Facebook Comments HS

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad