شہید ساز
جی ہاں، میں کس کس کی حاجت روا کرتا جب سو میں سے سو ہی حاجت مند تھے۔ میں نے پھر یہ بھی سوچا کہ خیرات دینا کوئی اچھا کام نہیں۔ ممکن ہے آپ مجھ سے اتفاق نہ کریں۔ لیکن میں نے مہاجرین کے کیمپوں میں جا جا کر جب حالات کا اچھی طرح جائزہ لیا تو مجھے معلوم ہوا کہ خیرات نے بہت سے مہاجرین کو بالکل ہی نکماّ بنا دیا ہے۔ دن بھر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ تاش کھیل رہے ہیں۔ جُگا ہو رہی ہے۔ (معاف کیجیے گا ’جُگا‘ کا مطلب ہے جُوا یعنی قمار بازی) گالیاں بک رہے ہیں اور فوگٹ یعنی مفت کی روٹیاں توڑ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ ایسے لوگ بھلا پاکستان کو مضبوط بنانے میں کیا مدد دے سکتے ہیں۔ چنانچہ میں اسی نتیجے پر پہنچا کر بھیک دینا ہر گز ہر گز نیکی کا کام نہیں۔ لیکن پھر نیکی کے کام کے لیے اور کون سا راستہ ہے؟
کیمپوں میں دھڑا دھڑ آدمی مر رہے تھے۔ کبھی ہیضہ پھوٹتا تھا کبھی پلیگ۔ ہسپتالوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ مجھے بہت ترس آیا۔ قریب تھا کہ ایک ہسپتال بنوا دوں مگر سوچنے پر ارادہ ترک کر دیا۔ پوری سکیم تیار کر چکا تھا۔ عمارت کے لیے ٹنڈر طلب کرتا۔ داخلے کی فیسوں کا روپیہ جمع ہو جاتا۔ اپنی ہی ایک کمپنی کھڑی کر دیتا اور ٹنڈر اس کے نام نکال دیتا۔ خیال تھا ایک لاکھ روپے عمارت پر صرف کروں گا۔ ظاہر ہے کہ ستّر ہزار روپے میں بلڈنگ کھڑی کر دیتا اور پورے تیس ہزار روپے بچا لیتا مگر یہ ساری سکیم دھری کی دھری رہ گئی۔ جب میں نے سوچا کہ اگر مرنے والوں کو بچا لیا گیا تو یہ جو زائد آبادی ہے وہ کیسے کم ہو گی۔
غور کیا جائے تو یہ سارا لفڑا ہی فالتو آبادی کا ہے۔ لفڑا کا مطلب ہے جھگڑا، وہ جھگڑا جس میں فضیحتا بھی ہو۔ لیکن اس سے بھی اس لفظ کی پوری معنویت میں بیان نہیں کر سکا۔
جی ہاں غور کیا جائے تو یہ سارا لفڑا ہی اس فالتو آبادی کے باعث ہے۔ اب لوگ بڑھتے جائیں گے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ زمینیں بھی ساتھ ساتھ بڑھتی جائیں گی۔ آسمان بھی ساتھ ساتھ پھیلتا جائے گا۔ بارشیں زیادہ ہوں گی۔ اناج زیادہ اُگے گا۔ اس لیے میں اس نتیجے پر پہنچا۔۔۔ کہ ہسپتال بنانا ہرگز ہرگز نیک کام نہیں۔
پھرسوچا مسجد بنوا دوں۔ لیکن اﷲ بخشے شولا پور کی امینہ بائی چلتے کر کا گایا ہوا ایک شعر یاد آگیا
نام منجور ہے تو فیج کے اسباب بنا
وہ منظور کو منجور اور فیض کو فیج کہا کرتی تھی۔ نام منظور ہے تو فیض کے اسباب بنا۔ پٖل بنا چاہ بنا مسجد و تالاب بنا۔
کسی کم بخت کو نام و نمود کی خواہش ہے۔ وہ جو نام اُچھالنے کے لیے پُل بناتے ہیں، نیکی کا کیا کام کرتے ہیں؟ خاک! میں نے کہا نہیں یہ مسجد بنوانے کا خیال بالکل غلط ہے۔ بہت سی الگ الگ مسجدوں کا ہونا بھی قوم کے حق میں ہرگز مفید نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ عوام بٹ جاتے ہیں۔
تھک ہار کر میں حج کی تیاریاں کر رہا تھا کہ اﷲ میاں نے مجھے خود ہی ایک راستہ بتا دیا۔ شہر میں ایک جلسہ ہوا۔ جب ختم ہوا تو لوگوں میں بدنظمی پھیل گئی۔ اتنی بھگڈر مچی کہ تیس آدمی ہلاک ہو گئے۔ اس حادثے کی خبر دوسرے روز اخباروں میں چھپی تو معلوم ہوا کہ وہ ہلاک نہیں بلکہ شہید ہوئے تھے۔
میں نے سوچنا شروع کیا۔ سوچنے کے علاوہ میں کئی مولویوں سے ملا۔ معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو اچانک حادثوں کا شکار ہوتے ہیں انہیں شہادت کا رُتبہ ملتا ہے۔ یعنی وہ رتبہ جس سے بڑا کوئی اور رتبہ ہی نہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر لوگ مرنے کی بجائے شہید ہوا کریں تو کتنا اچھا ہے۔ وہ جو عام موت مرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کی موت بالکل اکارت جاتی ہے۔ اگر وہ شہید ہو جاتے تو کوئی بات بنتی۔
میں نے اس باریک بات پر اور غور کرنا شروع کیا۔
چاروں طرف جدھر دیکھو خستہ حال انسان تھے۔ چہرے زرد، فکر و تردّد اور غمِ روزگار کے بوجھ تلے پسے ہوئے، دھنسی ہوئی آنکھیں بے جان چال، کپڑے تارتار۔ ریل گاڑی کے کنڈم مال کی طرح یا تو کسی ٹوٹے پھوٹے جھونپڑے میں پڑے ہیں یا بازاروں میں بے مالک مویشیوں کی طرح منہ اُٹھائے بے مطلب گھوم رہے ہیں کیوں جی رہے ہیں۔ کس کے لیے جی رہے ہیں اور کیسے جی رہے ہیں۔ اس کا کچھ پتا ہی نہیں۔ کوئی وبا پھیلی۔ ہزاروں مر گئے اور کچھ نہیں تو بھوک اور پیاس ہی سے گھل گھل کر مرے۔ سردیوں میں اکڑ گئے، گرمیوں میں سُوکھ گئے۔ کسی کی موت پر کسی نے دو آنسو بہا دیے۔ اکثریت کی موت خشک ہی رہی۔
زندگی سمجھ میں نہ آئی، ٹھیک ہے۔ اس سے حظ نہ اُٹھایا، یہ بھی ٹھیک ہے۔۔۔ وہ کس کا شعر ہے۔ اﷲ بخشے شولا پور کی امینہ بائی چلتے کر کیا درد بھری آواز میں گایا کرتی تھی
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
میرا مطلب ہے اگر مرنے کے بعد بھی زندگی نہ سدھری تو لعنت ہے سُسری پر۔
میں نے سوچاکیوں نہ یہ بیچارے، یہ قسمت کے مارے، درد کے ٹھکرائے ہوئے انسان جو اس دنیا میں ہر اچھی چیز کے لیے ترستے ہیں، اس دنیا میں ایسا رتبہ حاصل کریں کہ وہ جو یہاں ان کی طرف نگاہ اُٹھانا پسند نہیں کرتے وہاں ان کو دیکھیں اور شک کریں۔ اس کی ایک ہی صورت تھی کہ وہ عام موت نہ مریں بلکہ شہید ہوں۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


