شہید ساز


اب سوال یہ تھا کہ یہ لوگ شہید ہونے کے لیے راضی ہوں گے؟ میں نے سوچا، کیوں نہیں۔ وہ کون مسلمان ہے جس میں ذوقِ شہادت نہیں۔ مسلمانوں کی دیکھا دیکھی تو ہندوؤں اور سکھوں میں بھی یہ رتبہ پیدا کر دیا گیا ہے۔ لیکن مجھے سخت نااُمیدی ہوئی جب میں نے ایک مریل سے آدمی سے پوچھا۔ ’’کیا تم شہید ہونا چاہتے ہو؟‘‘ توا س نے جواب دیا ’’نہیں‘‘۔

سمجھ میں نہ آیا کہ وہ آدمی جی کر کیا کرے گا۔ میں نے اُسے بہت سمجھایا کہ دیکھو بڑے میاں زیادہ سے زیادہ زیادہ تم ڈیڑھ مہینہ اور جیو گے۔ چلنے کی تم میں سکت نہیں۔ کھانستے کھانستے غوطے میں جاتے ہو تو ایسا لگتا ہے کہ بس دم نکل گیا۔ پھوٹی کوڑی تک تمہارے پاس نہیں۔ زندگی بھر تم نے سُکھ نہیں دیکھا۔ مستقبل کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر اور جی کر کیا کرو گے۔ فوج میں تم بھرتی نہیں ہو سکتے۔ اس لیے محاذ پر اپنے وطن کی خاطر لڑتے لڑتے جان دینے کا خیال بھی عبث ہے۔ اس لیے کیا یہ بہتر نہیں کہ تم کوشش کر کے یہیں بازار میں یا ڈیرے میں جہاں تم رات کو سوتے ہو، اپنی شہادت کا بندوبست کر لو۔ اس نے پوچھا ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

میں نے جواب دیا۔ ’’یہ سامنے کیلے کا چھلکا پڑا ہے۔ فرض کر لیا جائے کہ تم اس پر سے پھسل جاؤ۔۔۔ ظاہر ہے کہ تم مر جاؤ گے اور شہادت کا رُتبہ پاؤ گے۔‘‘ پر یہ بات اُس کی سمجھ میں نہ آئی کہنے لگا ’’میں کیوں آنکھوں دیکھے کیلے کے چھلکے پر پاؤں دھرنے لگا۔۔۔ کیا مجھے اپنی جان عزیز نہیں‘‘۔۔۔ اﷲ اﷲ کیا جان تھی۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ۔ جھریوں کی گٹھری!!

مجھے بہت افسوس ہوا اور اس وقت اور بھی زیادہ ہوا۔ جب میں نے سُنا کہ وہ کمبخت جو بڑی آسانی سے شہادت کا رُتبہ اختیار کر سکتا تھا۔ خیراتی ہسپتال میں لوہے کی چارپائی پر کھانستا کھنگارتا مر گیا۔

ایک بڑھیا تھی منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت۔ آخری سانس لے رہی تھی۔ مجھے بہت ترس آیا۔ ساری عمر غریب کی مفلسی اور رنج و غم میں گزری تھی۔ میں اُسے اُٹھا کر ریل کے پاٹے پر لے گیا۔ معاف کیجیے گا۔ ہمارے یہاں پٹری کو ’پاٹا‘کہتے ہیں۔ لیکن جناب جونہی اس نے ٹرین کی آواز سنی ہوش میں آگئی اور کُوک بھرے کھلونے کی طرح اُٹھ کر بھاگ گئی۔

میرا دل ٹوٹ گیا۔ لیکن پھر بھی میں نے ہمت نہ ہاری۔ بنیے کا بیٹا اپنی دُھن کا پکا ہوتا ہے۔ نیکی کا جو صاف اور سیدھا راستہ مجھے نظر آیا تھا، میں نے اس کو اپنی آنکھ سے اوجھل نہ ہونے دیا۔

مغلوں کے وقت کا ایک بہت بڑا احاطہ خالی پڑا تھا۔ اس میں ایک سواِ کا ون چھوٹے چھوٹے کمرے تھے۔ بہت ہی خستہ حالت میں۔ میری تجربہ کار آنکھوں نے اندازہ لگا لیا کہ پہلی ہی بڑی بارش میں سب کی چھتیں ڈھے جائیں گی۔ چنانچہ میں نے اس احاطے کو ساڑھے دس ہزار روپے میں خرید لیا اور اس میں ایک ہزار مفلوک الحال آدمی بسا دیے۔ دو مہینے کرایہ وصول کیا، ایک روپیہ ماہوار کے حساب سے۔ تیسرے مہینے جیسا کہ میرا اندازہ تھا۔ پہلی ہی بڑی بارش میں سب کمروں کی چھتیں نیچے آرہی اور سات سو آدمی جن میں بچے بوڑھے سبھی شامل تھے… شہید ہو گئے۔

وہ جو میرے دل پر بوجھ بوجھ سا تھا کسی قدر ہلکا ہو گیا۔ آبادی میں سے سات سو آدمی کم بھی ہو گئے۔ لیکن انہیں شہادت کا رتبہ بھی مل گیا۔۔۔ ادھر کا پلڑا بھاری ہی رہا۔

جب سے میں یہی کام کر رہا ہوں۔ ہر روز حسبِ توفیق دو تین آدمیوں کو جامِ شہادت پلا دیتا ہوں۔ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، کام کوئی بھی ہو انسان کو محنت کرنا ہی پڑتی ہے۔ اﷲ بخشے شولا پور کی امینہ بائی چتلے کر ایک شعر گایا کرتی تھی۔ لیکن معاف کیجیے گا وہ شعر یہاں ٹھیک نہیں بیٹھتا۔ کچھ بھی ہو، کہنا یہ ہے کہ مجھے کافی محنت کرنا پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی کو جس کا وجود چھکڑے کے پانچویں پہیّے کی طرح بے معنی اور بیکار تھا۔ جامِ شہادت پلانے کے لیے مجھے پورے دس دن جگہ جگہ کیلے کے چھلکے گرانے پڑے۔ لیکن موت کی طرح جہاں تک میں سمجھتا ہوں شہادت کا بھی ایک دن مقرر ہے۔ دسویں روز جا کر وہ پتھریلے فرش پر کیلے کے چھلکے پر سے پِھسلا اور شہید ہوا۔

آج کل میں ایک بہت بڑی عمارت بنوا رہا ہوں۔ ٹھیکہ میری ہی کمپنی کے پاس ہے۔ دو لاکھ کا ہے۔ اس میں سے پچھتّر ہزار تو میں صاف اپنی جیب میں ڈال لوں گا۔ بیمہ بھی کرا لیا ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ جب تیسری منزل کھڑی کی جائے گی تو ساری بلڈنگ اڑاڑا دھم گِر پڑے گی۔ کیونکہ مصالحہ ہی میں نے ایسا لگوایا ہے۔ اس وقت تین سو مزدور کام پر لگے ہوں گے۔ خدا کے گھر سے مجھے پوری پوری اُمید ہے کہ یہ سب کے سب شہید ہو جائیں گے۔ لیکن اگر کوئی بچ گیا تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ پرلے درجے کا گناہگار ہے۔ جس کی شہادت اﷲ تبارک و تعالیٰ کو منظور نہیں تھی۔

(سعادت حسن منٹو کے اس افسانے کی کمپوٹر کتابت کے لئے ادارہ محترم فرخ منظور کا شکر گزار ہے۔)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3