زندہ ماں باپ کی یتیم بچیاں

شیلٹر ہوم کی ایک تقریب میں جب تینوں بہنوں نے ہم آواز ہو کر اپنا درد گنگنایا ’میں وہ کس طرح سے کروں بیاں، جو کیے گئے ہیں ستم یہاں‘ تو یقین جانیے، پنڈال میں موجود ہر آنکھ رو پڑی۔ باہر سورج جھلس رہا تھا اور اندر مینہ برس رہا تھا۔ حبس زدہ معاشرے کا ایک فرد ہونے کے ناتے بچیوں سے نظر ملانے کی ہمت میرے اندر نہ تھی۔ اور نظریں ملتیں، تو ملتیں بھی کس سے؟ وہ بچیاں تو اطراف سے بے خبر خلا میں نامعلوم کسے تک رہی تھیں۔ بھلا ننھے ننھے معصوم دلوں میں صبر کا اتنا بڑا خزانہ کیسے دفن ہو سکتا ہے کہ زخم کھا کر بھی مسکرائیں! نغمے کے آخر تک تینوں کا ضبط جواب دے گیا وہ ایک دوسرے کی بانہوں میں بکھر کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔
بچیوں کے باپ نے طلاق تو بیوی کو دی مگر منہ بیٹیوں سے بھی موڑ لیا۔ بچیاں ماں کے ساتھ زمانے کے حوادث کیا کم سہہ رہی تھیں کہ ایک دن اچانک وہ بدبخت بچیوں کو بیچنے کے ارادے سے زبردستی چھین کر لے گیا۔ ماں نے شیرنی بن کر بچوں کو اس کے پنجوں سے تو چھڑا لیا لیکن مزید کوئی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہ ہوئی اور یوں شقی القلب باپ سے خوف زدہ ہو کر بچیوں کو مامتا بھری چھاؤں سے دور کرکے تین سال قبل صارم برنی کی محفوظ آغوش میں ڈال گئی۔
ان بچیوں کی کہانی سنتے ہوئے میرے ذہن میں وہ نر جانور گھومنے لگے جو اپنے ہی بچوں کو کھا جاتے ہیں۔ پہاڑی شیر، بھالو، ریچھ، جنگلی کتے، بلے اور کتنے ہی جانوروں کا پسندیدہ کام اپنے بچوں پر ہی ہاتھ صاف کرنا ہوتا ہے۔ میں سوچنے لگی کہ انسان کو اشرف المخلوقات بنانے والے نے، نہ جانے کیوں بعض مردوں میں بھی جانوروں کی یہ صفت بعینیہ ڈال دی ہے، وہ پہلے جانوروں کی طرح بنا سوچے سمجھے بچوں کو جنم دیتے ہیں اور پھر ساری ذمہ داریوں سے آزاد ہونے کی حرص میں اپنے جیتے جی ان کو یتیم چھوڑ جاتے ہیں۔ ان جانور صفت مَردوں کی مادہ یعنی بچوں کی ماں، جانور مادہ کی طرح اپنے بچوں کی حفاظت اور ان کی پرورش کے آزار سہتی ہے، دُکھ اٹھا کر انہیں پالتی ہے اور اُف تک نہیں کرتی۔ لیکن کہانی کے آغاز میں میری قائم کردہ یہ رائے آخر میں غلط ثابت ہونے جا رہی تھی! اس کا مجھے ذرا بھی ادراک نہ تھا۔ آگے تو اور صدمے میرے منتظر تھے۔
ان بچیوں کی زندگی کیا ہے؟ ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ دورانِ گفتگو جب میں نے شیلٹر ہوم کی نگراں سے یہ سوال کیا تو ان کا جواب سن کر میں سکتے میں آگئی۔ اور یہ وہ موڑ تھا کہ مجھے ماں کے ایثار کے بارے میں قائم کردہ اپنی رائے کو نہایت تاسف کے ساتھ بدلنا پڑا۔ نگراں نے بتایا کہ ماں نے تو دوسری شادی بھی کرلی اور اس کی کوکھ پھر اسے ایک بیٹی کا زرد گلاب سونپ گئی۔ سوتیلا باپ ان تینوں بچیوں کو رکھنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ لہٰذا ماں نے درخواست کی ہے کہ ان بچیوں کو کسی بے اولاد جوڑے کو گود دے دیا جائے۔ میرا دل کسی نے مٹھی میں لے کر مسل دیا۔ لیکن جن پر بیتی ان کے ننھے دل خوف سے کسی پتے کی طرح لرزتے ہوں گے کہ آنے والا کون سا پَل ان تینوں بہنوں کو ایک دوسرے سے جدا کردے، جو ابھی کم از کم ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو تو لیتی ہیں۔ پہلے باپ نے چھوڑا، پھر ماں نے دنیا بسائی، اب کون جانے کہ ماں جائی کا ساتھ بھی کب چھوٹ جائے؟ یہ سب سن کر میں جہاں تھی وہیں بیٹھی رہ گئی۔ میرے کانوں میں باریک باریک آوازیں سیسہ انڈیلنے لگیں۔ یہ اکیلا پن۔ یہ اداسیاں۔ میری زندگی کی ہیں ترجماں۔ میری ذات ذرہ بے نشاں۔
ہمارے معاشرے میں نہ جانے ایسے کتنے بچے ہیں جو پیدا کرنے والوں کے ہاتھوں ہی زندگی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ یہی تلخ سوال بار بار میرے اندر سر ابھار رہا ہے کہ ماں اور باپ کیا اب بھیڑیے بن چکے ہیں؟ خیالوں میں اس وقت میرے اپنے تین بچوں کے چہرے ہیں جن کے نصیب میں بھی ایسا ہی باپ تھا جس نے بچوں کو ہر قدم پر دھتکارا اور آخر رسوا ہونے کے لیے تنہا چھوڑ دیا۔ انسان نما نر جانو ر یہ کیوں نہیں جانتے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو چھوڑ کر وقت کی کمان کے سارے تیر ضایع کردیے ہیں۔ اس نقصان کا اندازہ ہڈیوں کی جان سلامت رہنے تک نہیں ہوتا اور اس کے بعد۔ وقت کبھی ان کا نہیں ہوتا۔
لیکن ماں! ماں کے نام پر ایک ٹیس سی سینے میں کہیں اٹھ رہی ہے۔ سیکڑوں مثالیں ننگی آنکھ سے دیکھنے کے باوجود ماں کے لفظ کے ساتھ شقی القلب، بے حس اور خود غرضی جیسی صفات جوڑنے کی ہمت اپنے اندر میں لا نہیں پا رہی۔ شاید میں جانب دار ہو رہی ہوں۔ لیکن ایک لکھاری اگر جانب دار ہو جائے تو سچ کے گلے پر چُھری چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے۔ میں اپنی زنانہ اور مادرانہ انا کو کچلتے ہوئے اس بات کا اعتراف کرتی ہوں کہ زمانہ واقعی بدل رہا ہے، بہت تیزی سے بدل رہا ہے، اب صرف نر ہی نہیں بہت سی مادائیں بھی اپنے بچے کھا رہی ہیں۔
دور کہیں سے صدا بلند ہو رہی ہے۔ ’ مگر ایک پل ہے امید کا، ہے مجھے خدا کا جو آسرا۔ نہ ہی میں نے کوئی گلہ کیا۔ نہ ہی میں نے دی ہیں دہائیاں‘!
کہیں لاشعور میں وہ بچیاں اب تک نغمہ سرا ہیں، اور وقت کا چکر میرے سامنے کھڑا بے حسی سے مجھے تک رہا ہے۔

