ملالہ کی ماں کو صرف اپنا سوات والا گھر واپس چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملالہ یوسفزئی کے والد نو اکتوبر 2012 میں مینگورہ میں اپنے گھر سے نکلے تب وہ اس گھر کے اصل مکین تھے لیکن جب ساڑھے پانچ سال بعد واپس لوٹے تو اسی گھر کی چوکھٹ پر ان کا استقبال بطور مہمان کا ہوا۔

عموماً لوگ اپنے مکان کو خود ہی تالا لگاتے ہیں اور خود ہی کھولتے ہیں۔
مگر ملالہ کے خاندان کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ مکان کو تالا بھی کسی اور نے لگایا اور کھولا بھی کسی اور نے۔
ملالہ کو تقریباً ساڑھے پانچ سال قبل بے ہوشی کی عالم میں سٹریچر پر لٹا شہر سے نکالا گیا۔
اب اپنے پیروں پر چل کر واپس لوٹی۔

ان کے اپنے الفاظ میں کہ مجھے جب شہر سے نکالا گیا تو اس وقت میری آنکھیں بند تھیں اور اب کھلی آنکھوں کے ساتھ واپس لوٹی ہوں۔
ملالہ اور ان کا اہل خانہ جب اپنے پرانے مکان کو دیکھنے کے لئے گاڑی سے اترے تو وہاں پر موجود ضیا الدین یوسفزئی کے دیرینہ دوست فرید الحق ان کے ساتھ بغل گیر ہوئے۔

وہی دوست، وہی گلی، وہی مکان، وہی درودیوار۔ سب کچھ وہی تھا اور سب کچھ وہی بھی نہیں تھا۔
ملالہ اور ان کی والدہ تورپیکی گاڑی سے اترے اور اترتے ہوئے آنکھیں اشکبار ہوئیں۔
ان کے ارد گرد کھڑے استقبالیوں کی آنکھوں میں بھی آنسو اتر اتر آئے۔
اشکوں سے استقبال۔

ملالہ کے لہجے میں وزیراعظم ہاؤس میں بھی تقریر کے دوران آنسو اتر آئے تھے مگر آج کے آنسو ان اشکوں سے مختلف تھے۔
ان آنسووں میں شاید ملالہ کی لاچاری اور اپنوں کی دھتکار کی جھلک تھی۔
اور مکان کی چھوکٹ پر گرے ان آنسووں میں بچپن اور معصوم یادیں قید تھیں۔

ضیا الدین یوسفزئی حجرے کی طرف بڑھے اور ملالہ، ان کی ماں اور دونوں بھائی مکان کے اندر گئے۔
ضیا الدین لوگوں سے ملے۔ زمیں پر دونوں ہتھیلیاں رکھ دیں اور مٹی اٹھا کر پلکوں سے بوسہ دیا۔
وطن کی ریت ہے ذرا ایڑیاں رگڑنے دیں۔
ہمیں یقین ہے پانی یہاں سے نکلے گا۔

فرید الحق 2013 میں بطور کرایہ دار اس مکان میں منتقل ہوئے تھے۔
ان کے بقول جب مکان میں داخل ہوئے تو ہر چیز ویسے ہی پڑی تھی جس حال میں ضیا الدین، ملالہ، ان کی ماں اور بھائی چھوڑ کر گئے تھے۔
انہوں نے چیزیں سنبھال کے رکھ دیں مگر اس وقت ملالہ سلیبرٹی بن چکی تھی اور فرید الحق کو ملالہ کی چیزوں کو دیکھنے میں دلچسپی پیدا ہوئی۔
انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ملالہ نے ہر سکول کے ہر ٹیسٹ میں سو کے سو نمبر لئے تھے۔
ایوارڈ، میڈلز اور کپ ایک قطار میں پڑے تھے۔
انہوں نے یہ تمام چیزیں ایک الماری میں سنبھال کے رکھ دیں لیکن جب ملالہ ساڑھےپانچ سال بعد اس گھر میں لوٹیں تو انہوں نے اس الماری پر ایک طائرانہ نظر ڈالی اور اس کے ساتھ کھڑے ہوکر تصویر بنائی۔

فرید الحق نے گھر کا رنگ و روغن کیا مگر دیواروں پر ملالہ اور ان کے بھائیوں کے لکھے ہوئے نام نہیں مٹائے۔
ملالہ کی اس وقت کی ایک پیٹنگ بھی دیوار پر چسپاں ہے جس میں دو پہاڑ دکھائے گئے جن کے بیچ ایک ندی بہہ رہی ہے۔
ملالہ اور دونوں بھائی خوشحال خان اور اتل خان دیوار کے سامنے کھڑے اس بارے میں باتیں کرنے لگے۔

ملالہ ان درختوں کے پاس گئیں جن کے پھل وہ کھایا کرتی تھیں۔
یہ آلوچے، نارنجی اور امرود کے درخت ہیں۔
ازراہ مذاق پوچھا، میرا حصہ کہاں ہے ؟
فرید الحق نے جواب دیا جب پھل پوری طرح سے پک جائیں گے تو بھیج دوں گا۔
لیکن ایک شخص جو اس دوران کھویا کھویا رہا۔ بول بھی نہیں رہا تھا۔ آنسو ان کی زبان تھی۔
وہ تھی ملالہ کی والدہ تورپیکی۔

فرید الحق نے تسلی دی بھابھی! آپ نہ روئیں۔ اللہ نے آپ کو شہرت، دولت، عزت سب کچھ دیا ہے۔ آپ لوگ پوری دنیا میں گھومتے پھرتے ہیں۔ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔
تورپیکی نے جواب دیا، مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے بس اپنا یہ گھر چاہیے۔
(عبدالحئی ریڈیو مشال کے ساتھ منسلک ہیں اور یہ تحریر مشال ریڈیو کی ویب سائٹ پر پشتو زبان میں چھپ چکی ہے)۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عبدالحئی کاکڑ

عبدالحئی کاکڑ صحافی ہیں اور مشال ریڈیو کے ساتھ وابستہ ہیں

abdul-hai-kakar has 40 posts and counting.See all posts by abdul-hai-kakar