مختار عالم کو پتہ نہیں تھا کہ آج ان کی زندگی میں ایک ایسا حادثہ ہونے والا ہے جس کی یاد عمر بھر اس کا پیچھا کرتی رہے گی۔ ان کی رات محفل موسیقی میں گزری، رات کے ایک بجے سوئے، صبح جاگے، کپڑے بدلے، پرفیوم لگایا اور کتابیں اٹھا کر کلاس لینے عبدالولی خان یونیورسٹی کی طرف روانہ ہو گئے لیکن پہنچتے ہی وہاں پر درس و تدریس کی بجائے کشیدگی کا سماں تھا۔
کچھ مشتعل طلبا نے اپنے ہم جماعت عبداللہ نامی لڑکے کو اپنی حصار میں لیا تھا اور ان پر یہ کہہ کر توہین مذہب کا الزام لگاتے رہے کہ چونکہ تم مشال خان کے قریبی دوست ہو لہذا تم بھی ”مرتد“ ہو۔
عبداللہ نے خوف کے عالم میں کرسی پر چڑھ کر باآواز بلند کلمہ طیبہ پڑھا، پھر گویا ہوئے کہ ”میں الحمدللہ مسلمان ہوں، میرے والدین حال ہی میں عمرے کر کے لوٹے ہیں اور وہ باقاعدگی کے ساتھ تبلیغ پہ بھی آتے جاتے ہیں۔“ لیکن کچھ دیر ایک ایمبولینس آئی اور عبداللہ کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچا دیا۔
Read more