کیف کی ایک شام، جنگ اور بزرگ کا پیانو

مجھے اب یہ احساس ہونے لگا ہے کہ خزاں کے زرد پتوں میں لپٹی کیف کی وہ شام میری یادوں میں رچ بس چکی ہے۔ میرا گماں تھا کہ شاید وہ شام گزرے وقت کی قبر میں دفن ہو چکی ہے۔ لیکن جب سے روس نے یوکرائن پر حملہ کیا ہے تب سے وہ شام ایک یاس بن کر ذہن کے پردے پہ نمودار ہوتی رہتی ہے۔ جنگ شاید بجھی ہوئی یادوں کا ایندھن ہے۔ اکتوبر کا مہینہ تھا، تیز

Read more

ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی گرفتاری کے لئے اڑتے جہاز کو اتارا گیا

بلوچ سیاستدان ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ 77 سال کی عمر میں جمعہ 25 فروری 2022 کے روز گاڑی کے حادثے میں انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی زندگی یا تو سیاست یا راہ چلتے ہوئے ہر جانے انجانے کو سلام کرتے ہوئے گزری۔ وہ دونوں ہاتھ جوڑتے یا سینے پر رکھتے، ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاتے اور ذرا سا جھک کر بلوچوں کو واجہ اور باقیوں کو جناب کہہ سلام کرتے یا کچھ دیر کے لئے رک جاتے۔ حال احوال کا

Read more

مشال کے قتل کے چار سال بعد عبدالولی خان یونیورسٹی میں کون سی بات نہیں کرنی؟

مختار عالم کو پتہ نہیں تھا کہ آج ان کی زندگی میں ایک ایسا حادثہ ہونے والا ہے جس کی یاد عمر بھر اس کا پیچھا کرتی رہے گی۔ ان کی رات محفل موسیقی میں گزری، رات کے ایک بجے سوئے، صبح جاگے، کپڑے بدلے، پرفیوم لگایا اور کتابیں اٹھا کر کلاس لینے عبدالولی خان یونیورسٹی کی طرف روانہ ہو گئے لیکن پہنچتے ہی وہاں پر درس و تدریس کی بجائے کشیدگی کا سماں تھا۔

کچھ مشتعل طلبا نے اپنے ہم جماعت عبداللہ نامی لڑکے کو اپنی حصار میں لیا تھا اور ان پر یہ کہہ کر توہین مذہب کا الزام لگاتے رہے کہ چونکہ تم مشال خان کے قریبی دوست ہو لہذا تم بھی ”مرتد“ ہو۔

عبداللہ نے خوف کے عالم میں کرسی پر چڑھ کر باآواز بلند کلمہ طیبہ پڑھا، پھر گویا ہوئے کہ ”میں الحمدللہ مسلمان ہوں، میرے والدین حال ہی میں عمرے کر کے لوٹے ہیں اور وہ باقاعدگی کے ساتھ تبلیغ پہ بھی آتے جاتے ہیں۔“ لیکن کچھ دیر ایک ایمبولینس آئی اور عبداللہ کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچا دیا۔

Read more

کوئٹہ کی ایک بیٹی اور ماں جو غم سے ہر روز مرتی ہیں

عتیقہ صادق کے لئے اپنے والد کی آواز اب بھی زندہ ہے لیکن جب پلٹ کر پیچھے دیکھتی ہے تو ان کو نہ پاکر دکھ کے سیاہ چادر تلے لمبی سانس لے لیتی ہے۔ وہ اس لئے پیچھے پلٹ کر دیکھتی ہے کہ والد نے ہمیشہ گھر میں داخل ہو کر پیچھے سے آواز لگا کر اس کو بلایا ہے۔ آٹھ سال بیت چکے ہیں کہ اس کا والد ہزارہ ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے میں چل بسا ہے لیکن عتیقہ نے اپنے فون سے والد کا نمبر ڈیلیٹ نہیں کیا ہے۔ اب بھی وہ کبھی کبھار نمبر ڈائل کرتی کہ شاید دوسری طرف سے اس کی آواز سنائی دی۔ جنم لیتے ہی عتیقہ کو جن ہاتھوں نے اٹھا کر سینے سے لگایا تھا وہ انسانی جسم دھماکے میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گیا تھا۔ بیٹی کو اپنے باپ کا صرف ایک ہاتھ آستین سے چپکا ہوا ملا اور یہ بھی یقین نہیں کہ ہاتھ اس کا تھا بھی کہ نہیں؟

Read more

باچا خانی، خوشحال خانی اور ترقی پسندی کے رنگوں میں رنگا اجمل خٹک

اجمل خٹک پشتونوں میں ایک قدآور سیاستدان اور انقلابی شاعر اور ادیب کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ ان چند شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے پشتو شاعری اور سیاست میں ترقی پسندی کے رجحان کو متعارف کروایا ہے۔ وہ انیس ستر دہائی کے اوائل میں نیشنل عوامی پارٹی کے جنرل سیکریٹری تھے اور جب 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف لیاقت باغ میں اپوزیشن کے ہونے والے جلسے پر حملہ ہوا تو اس کے ردعمل میں وہ افغانستان چلے گئے جہاں پر انہوں نے تقریباً 18 سال بسر کیے۔ وہ 1989 میں پاکستان واپس آئے۔ بعد میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر بن گئے۔ پشتون سیاست اور ادب پر گہری چھاپ کی وجہ سے ہر سال سات فروری کو ان کی برسی منائی جاتی ہے۔ وہ 1925 میں پیدا ہوئے تھے اور سات فروری 2010 میں وفات پا گئے تھے۔

ان کی دسویں برسی کے موقع پر ”ہم سب“ اپنے قارئین کے لئے ان کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو شائع کر رہا ہے۔ یہ انٹرویو عبدالحئی کاکڑ نے 2005 میں بی بی سی ریڈیو کے لئے اکوڑہ خٹک میں اجمل خٹک کی رہائش گا پر کیا تھا۔

Read more

کریمہ بلوچ کی بہن ماہ گنج کی خود کلامی میں گزری ایک رات

کریمہ بلوچ کو جاننے کے لئے ان کی ماں کو جاننا ضروری ہے اور ان کی ماں کو جاننے کے لئے بلوچستان کو سمجھنا ہوگا اور بلوچستان کو جاننے کے لئے اس المیہ کو جاننا ضروری ہے جو گزشتہ تقریباً سات دہائیوں سے لحد کی شکل میں، گولیوں سے چھلنی دیواروں صورت میں، دشت و صحرا میں نصب گدان (خیمہ) ، مزاحمتی گیت، افسانے، بلوچوں کی خیریت پوچھنے کی رسم میں سانسیں لے رہا ہے۔ سات دہائیوں کے دوران پیدا ہونے والے بچوں نے جنگ دیکھی ہے، مظلومیت کی کہانی سنی ہے اور پھر یہی بچے مظلومیت کی شب سے نجات پانے کے لئے بلوچوں کی پولٹیکل باڈی میں پیوست سیاسی بیانیے کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔

Read more

کوئٹہ کے ہزارہ اپنے شہر کے قیدی

رضا وکیل ہزارہ کوئٹہ کی گلی کوچوں میں کھیلے کھودے، تعلیم حاصل کی، سماجی کام کیا، سیاست کی، بلوچ اور پشتون دوستوں کے غم اور خوشی میں شریک رہے مگر دہشت گردی کی لہر نے ان کے شہر کے ساتھ سارے ناتے توڑ دیے۔ اب وہ اپنے گھر اور محلے میں محصور ہو کر ایک قیدی کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔

موسیقی ان کا شوق ہے اور یہی شوق ان کا کاروبار بن گیا۔ کوئٹہ کے عبدالستار روڈ پر ان کی کیسٹوں کی دکان تھی لیکن جب اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قوم پر دہشت گرد حملے بڑھ گئے تو پولیس نے ان تک یہ خبر پہنچائی کہ وہ نشانے پر ہیں اور یہ مشورہ دیا کہ دکان بند کر کے گھر پر بیٹھنے میں ہی ان کی عافیت ہے۔

Read more

مجھے بابا کی خبر پہلے مل گئی

کسی زمانے میں میری بڑی خواہش یہی تھی کہ کاش میں ان کی دماغ میں داخل ہو کر وہاں موجود ہر لفظ اور ہر فکر کو چرا کر ان سے اپنی ذات کی تاریک دنیا کو منور کر سکوں۔ یہ شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ ان کی آنکھوں نے بیٹے ہونے کے ناتے مجھے اتنی بار نہیں دیکھا ہوگا جتنی بار انہوں کتابوں پر نظریں دوڑائی ہوں گی۔

میری گالوں سے زیادہ انہوں نے کتاب کی ورق کو اپنی انگلیوں سے چھوا تھا۔ میں ان کا بیٹا بھی تھا اور شاگرد بھی۔ میں نے زندگی کے 16 سال سکول، کالج اور یونیورسٹی میں گزارے لیکن میرا پہلا اور آخری مکتب ان کی صحبت تھی۔ عملی زندگی میں یونیورسٹی کی ڈگری محض سی وی میں لکھنے کے کام آئی۔ ان کی صحبت میں میں خوشحال خان خٹک، رحمان بابا، حمید بابا، فارسی شعرا بیدل، عمر خیام، حافظ شیرازی، شیخ سعدی، ان کے ہم نام عبدالرحمن جامعی، اقبال کی فارسی شاعری سے آشنا ہوا۔

Read more

ذوالفقار علی بھٹو نے فرزند کوئٹہ سے کیا پوچھا؟

کورونا کی وبا نے فرزند کوئٹہ اور ہمارے محسن سید منصور بخاری کو ستر سال کی عمر میں ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا کر دیا ہے۔ بلوچستان میں جس کسی کا بھی ورق گردانی اور قلم کی روانی سے رشتہ رہا ہے بخاری صاحب ان کے حافظے، علمی تشنگی اور وجدان میں زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔ ان کی خوبصورت آنکھیں اور قند میں گندھی ہوئی نفاست سے بھری بھاری آواز آج بھی ہم سب کی سماعتوں میں گونج رہی ہے۔ کتاب سے ان کا پہلا رشتہ بھلے کاروباری ہو لیکن وقت کے ساتھ یہ رشتہ عشق میں ڈھل گیا۔

ان کے والد سید منظور بخاری کوئٹہ میں اپنے وقت کے نامور ڈرامہ رائٹر اور تھیٹر آرٹسٹ تھے جنہوں نے تقریباً چار ہزار ریڈیو ڈرامے لکھے لیکن عارضہ قلب نے فقط 32 سال کی عمر میں ان کی جان لے لی۔ ان کا بیٹا منصور بخاری بارہ سال کی عمر میں ہی باپ کی شفقت سے محروم ہوا لیکن ان کا علمی سایہ آخری سانس تک بیٹے کے سر پر رہا۔

Read more

کوئٹہ کے گورکن کی ساری قبریں بک چکی ہیں

اسلم گزشتہ آٹھ سالوں سے دن قبرستان میں اور رات گھر پر بسر کرتے ہیں۔ ان کے بچوں کا نان نفقہ قبرستان سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے ہمسائے صبح گھر سے بازار کی طرف چل پڑتے ہیں اور وہ بیلچہ اور کدال کاندھے پر اٹھائے قبرستان کی جانب نکل جاتے ہیں۔

اسلم اور ان کے دیگر تین ساتھی صبح سے لے کر شام تک قبریں کھودتے ہیں۔ کبھی آرڈر پر قبر کھود لی تو کبھی پہلے سے تیار شدہ قبر بیچ ڈالی۔ میرے دوست فون پر میری بات اسلم سے کروانے کے لئے ان کے پاس گئے تو اس وقت مجھے بیلچے اور کدال کے زمین کو چیرنے اور پتھر ہٹانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

Read more

عارف وزیر: جیل ان کا دوسرا گھر اور قبرستان آخری آرام گاہ

پشتون تحفظ موومنٹ جنوبی وزیرستان کے رہنما عارف وزیر کو گولیاں وانا میں لگیں اور زندگی کی آخری سانس اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں لی۔ بھٹو خاندان کی طرح عارف وزیر کو نہ صرف غیر طبعی موت مرنا بلکہ ان کے قاتلوں کو سزا نہ ملنا بھی میراث میں ملا ہے۔ وہ محض بیس سال کے تھے کہ اسی وانا بازار میں ان کے والد، بھائی، چچا اور چچا زاد بھائی کو ہلاک کیا گیا لیکن ان کے خاندان

Read more

احمد نواز کے لئے سال کا ہر دن سولہ دسمبر ہے

جب سے پشاور آرمی پبلک سکول کا دہشت گرد حملہ ہوا ہے تب سے صبح خیزی کے عادی محمد نواز ہر سال سولہ دسمبر کو دوپہر تک سونے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ رنج و غم کی شدت کم از کم آدھے دن تک گھٹ کر رہ جائے۔

محمد نواز سولہ دسمبر 2014 سے ایک دن پہلے اپنے سسرال میں فوتگی کی وجہ سے اپنی بیوی کے ہمراہ سوات گئے تھے۔ وہ اپنے تینوں بیٹوں کو پشاور میں گھر پر چھوڑ چکے تھے۔ محمد نواز کو بچوں کی فکر تھی اور رات کو ہی پشاور واپس روانہ ہوئے۔ جوں ہی نیم شب کو گھر پہنچے تو دیکھا کہ ان کا تیرہ سالہ بیٹا حارث ٹی وی پر کرکٹ کی جھلکیاں دیکھ رہا ہے۔ محمد نواز نے اس سے ڈانٹ کر سونے کا کہا۔

Read more

خون کے بلبلوں نے اس کی جان بچا لی

(آرمی پبلک سکول کے اس حوصلہ مند بچے کی کہانی جو چہرے پر چھے گولیاں کھا کر بھی زندہ رہنے کی جدوجہد کرتا رہا۔ ایک ہفتے بعد اس کی شناخت ہوئی اور اس کے گھر والوں کو بھی ایک نئی زندگی ملی۔ ولید کہتا ہے کہ پہلے اپنے لئے جیتا تھا اور حملے کے بعد اب دوسروں کے لئے جیتا ہے)۔

مردہ خانے میں جگہ کم پڑ جانے کی وجہ سے بچوں کی لاشیں برآمدے میں رکھی گئی تھیں۔
ہر لاش سفید چادر سے چھپائی گئی تھی۔ اس وقت آرمی پبلک سکول کے حملے میں مارے گئے تقریبا 80 بچوں کی لاشیں ایک قطار کی صورت میں پڑی تھیں۔

Read more

پشتون تحفظ موومنٹ کے شہید رہنما ارمان لونی کون تھے؟

بلوچستان کے شہر لورالائی میں پشتون تحفظ موومنٹ کی کور کمیٹی کے رکن ارمان لونی کی ہلاکت موومنٹ کے قیام کے ایک سال پورا ہونے کے دن ہی ہوئی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے قیام کے ایک سال کے دوران ارمان لونی نے اپنا زیادہ وقت گھر پر نہیں بلکہ یا تو دھرنوں میں یا جلسوں کی تیاری میں گزارا ہے۔ پی ٹی ایم کا لاہور سے لے کر سوات، پشاور، کراچی، لاہور، بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ژوب، قلعہ

Read more

سمسیرہ (صحرائی چھپکلی) پختون سیاسی بیانیہ کا حصہ بن گئی

شمالی وزیرستان کے خیسور علاقے میں ایک لڑکے نے سٹیج پر آ کر منظور پشتین کے کان میں کھسر پھسر کی اور رازدارانہ انداز میں جو کچھ کہا، وہ تھوڑی دیر بعد راز نہیں رہا۔ اب وہ زبان زد عام ہوچکا ہے۔ لڑکے نے منظور پشتین کو ان ملکان اور افراد کے بارے میں بتایا جنہیں پر مقامی لوگ حکومت یافتہ ملکان کہتے ہیں۔ لڑکے نے کہا کہ ان ملکان کو داوڑ قبیلے کے لوگ سمسيرہ یعنی گوہ یا صحرائی

Read more

سینکڑوں ماؤں کا بیٹا عالم زیب محسود: سلاخوں کے پیچھے

عالم زیب محسود کی فیسبک ٹائم لائن پر نظر دوڑائی جائے تو 2017 تک ان کی تحریروں، تصویروں اور ویڈیوز میں تحریک انصاف سے محبت اور نواز شریف سے نفرت جھلکتی ہے۔ ظاہر ہے جب وہ عمران خان پر دل و جان سے فدا تھے تو سیاسی بیانیہ بھی وہی ہوگا جس سے خان صاحب دھرنوں، جلسوں اور میڈیا پر بیان کرتے رہے۔ دیگر انصافیوں کی طرح عالم زیب بھی شاید نواز شریف کو جیل میں دیکھنا چاہ رہے تھے۔ ان کا یہ خواب پورا بھی ہوا۔ لیکن شاید انہوں نے سوچا نہیں تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت ہی میں انہیں بھی جیل جانا ہوگا۔

Read more

پشتون تحفظ موومنٹ کے 22 کرداروں کی کہانیاں

سوال کا جواب دینے کے بعد کچھ دیر کے لئے ادھر اس کی زبان اور لفظوں کا رابطہ ٹوٹ گیا اور ادھر میں اتنا بے بس ہوا کہ اس کے ٹوٹتے لفظوں کو اپنے لفظوں کا پیوند لگا کر منقطع کلام کو دوام بخش سکوں۔ میں نے اس کے لہجے کو آنسووں سے تر ہوتے محسوس کیا اور یہاں میری آنکھوں میں آنسووں نے انگڑائی لی۔ جواب جو ان آنسووں کا محرک بنا کچھ یوں تھا۔ ”ہم پر اپنے خاندان

Read more