4 اپریل: جب خوابوں کا قتل ہُوا
1985 میں انہیں برطانوی نشریاتی ادارے نے بھٹو حکومت ختم کئے جانے اور انہیں پھانسی دیئے جانے کے حوالے سے تین ڈرامے لکھنے کی پیشکش کی گئی تھی، انہوں نے یہ ڈرامے تحریر کیے اور بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ کو بھٹو صاحب کا کردار اور ضیاء محی الدین کو جنرل ضیاء الحق کا کردار کرنے کے لئے منتخب بھی کر لیا گیا کہ غیر متوقع طور پر ڈرامے کے سکرپٹ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے منگا لیے جس کے بعد اس منصوبے پر خاموش ہوگئی۔ طارق علی اپنے انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ میرے استفسار پر مجھے بتایا گیا کہ مارک ٹیلی (معروف برطانوی صحافی) آپ سے ملنے کے لئے آرہے ہیں آپ ان سے بات کریں۔ میری مارک ٹیلی سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے گفتگو کے دوران ایک موقع پر کہا کہ طارق تم نے اپنے سکرپٹ میں ایک جگہ برہنہ لفظوں میں تحریر کیا ہے کہ واشنگٹن کی رضا مندی اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی اجازت کے بغیر جنرل ضیاء الحق بھٹو کو پھانسی نہیں دے سکتے تھے۔
مارک ٹیلی کا کہنا تھا کہ بھٹو کی پھانسی کےو قت میں بھی پاکستان میں ہی تھا لیکن میں نے ایسی بات نہیں سنی جس پر میں نے اسے کہا کہ کیا تم نے اس حوالے سے امریکی سفارتخانے کے کسی باخبر سے رابطہ کیا تھا۔
میرے انکار پر اس نے بحث ختم کرنے کے لئے مطلب کی بات کی اور مجھ سے پوچھا کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تم اپنے سکرپٹ میں سے یہ حصہ حذف کر دو کیونکہ امریکنز کا خیال ہے جنرل ضیاء الحق جس طرح ان کی مدد کر رہے ہیں اور بالخصوص افغانستان میں ان کے مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں واشنگٹن انہیں کسی طرح ناراض نہیں کرسکتا۔
تاہم میں نے انکار کرتے ہوئے اس موضوع کو ختم کر دیا۔ اس کے بعد طارق علی نے ان سکرپٹس کو کتابی شکل دی جو The Leapord and the Fox کے نام سے شائع ہوئی اس میں ذوالفقار علی بھٹو کو لیپرڈ کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
اپنے ایک انٹرویو میں طارق علی نے جنرل ضیاء الحق پر امریکی آشیرآباد کے حوالے سے یہ بھی کہا تھا کہ جنرل ضیاء الحق کی عسکری تربیت کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزرا اور پھر بحیثیت بریگیڈئیر ان کی تعیناتی بطور خاص اردن میں کی گئی جہاں انہوں نے مبینہ طور پر فلسطینیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی جسے وہ آج تک نہیں بھولے۔
باقی حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

