ذوالفقار علی بھٹو، سی آئی اے اور جنرل ضیاء الحق

سی آئی اے کی حال ہی میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق جاری کی گئی اکتوبر1978 ء کی دستاویز کے مطابق جنرل ضیاء الحق کے اقتدار میں رہنے کا واحد جواز ذوالفقار علی بھٹو کو کیفرِ کردار تک پہنچانا تھا۔ امریکی حکومت کو یہ پیغام دیا گیا کہ جنرل ضیا کا اقتدار میں رہنا افواجِ پاکستان میں ان کی مقبولیت پر منحصر ہے۔ ڈان اخبار میں شائع شدہ سی آئی اے کی جائزہ رپورٹ کے مطابق اگر ذوالفقار

Read more

تخلیقی ذہن پہ تبلیغی اثرات ۔۔۔۔ جنید جمشید اور دوسرے مشاہیر کا نفسیاتی جائزہ

دسمبر 2016 میں جنید جمشید کا اپنی دوسری بیوی نیہا سمیت جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہونا بہت سے لوگوں کے لئے شدید صدمے کا باعث بنا۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو جنید جمشید کو اس کی جوانی کے دنوں میں اس کے خوبصورت خد و خال اور میوزک گروپ کی وجہ سے چاہتے تھے۔ وہ بھی تھے جن کا تعلق اس مذہبی جماعت سے تھا جس نے اسے ایک ”تبلغی سکالر“ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کچھ کا تعلق ائر فورس سے تھا جنہوں نے اس کی میت کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر اس کی آخری رسومات ادا کیں۔

جنید جمشید کا سوگ منانے والوں میں اس کی پہلی بیوی عائشہ اور اس کے رشتہ دار بھی شامل تھے۔ اور اس ہجوم میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے نے آج سے 20 سال پہلے ہی ایک آرٹسٹ جنید جمشید کا سوگ منا لیا تھا جب اس نے اپنے خوبصورت لمبے بال کاٹ کر، لمبی سی داڑھی رکھ کر اور تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کر کے اپنا حلیہ بدل لیا تھا۔

ایک دوپہر میرے سماجی کارکن دوست منیر سامی کا فون آیا اور انہوں نے پوچھا کہ ڈاکٹر خالد سہیل کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ معروف و مقبول لوگ مذہبی شدت پسند کیوں بن جاتے ہیں؟

Read more

یہ شام غریباں نہیں، شام زینب ہے!

شام آئی، ڈھلی اور تاریک ہو گئی! سورج اپنی روشنی پھیلانے پہ شرمندہ ہوتے ہوئے ڈوب گیا! چاند نہیں نکلا!  رات کی سیاہ تاریکی ہر طرف نگاہیں چراتے پھیلتی رہی! رات جانتی تھی کہ وحشت و بربریت کا بازار گرم ہونے کو ہے! جری مردوں کا ٹولہ اور نہتی عورتیں! صحرا میں گڑے خیموں کو آگ لگا کے تماشا دیکھتے سرکش مرد اور جان بچاتی عورتیں اور بچے! بچیوں کے منہ پہ طمانچے مارنے والے بہادر مرد اور کانوں سے

Read more

حسین صرف پیاس کا نام نہیں!

”بیٹا مجلس میں جانے کے لئے تیار ہو جائیے“ ہم محرم میں منعقد ہونے والی یومیہ مجلس میں شرکت کے لئے جا رہے تھے اور چاہتے تھے کہ بچے بھی ساتھ چلیں۔ دونوں بچوں کے پاس نہ جانے کی ہزار تاویلیں تھیں۔ ”مولوی حضرات بہت چیخ چیخ کے بولتے ہیں جس سے کچھ سمجھ نہیں آتا اور سر میں درد الگ سے ہوتا ہے“ ”رسومات کا ایک ڈھیر ہے، علم اور ضریح تو ٹھیک ہے لیکن مہندی کی رسومات، حضرت

Read more

کارل مارکس کون تھا؟

وہ کلیم بے تجلی، وہ مسیح بے صلیب نیست پیغمبر و لیکن دریغل دارد کتاب – (اقبال ) 5 مئی 1818 کو پرشیا (موجودہ جرمنی) کے شہر ٹریئر (Trier) میں ایک وکیل کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام کارل رکھا گیا۔ سیاست اور سیاسی تبدیلیوں نے کارل کی زندگی پر اوائل ہی سے سایہ کیے رکھا۔ اس کی پیدائش سے ایک سال قبل اسکے والد کو یہودییت چھوڑنی پڑی کیونکہ 1815 میں پرشیا کی حکومت نے یہودیوں

Read more

جنرل (ریٹائرڈ) ذوالفقار علی بھٹو

اسلام آباد کی جو زیریں عدالت پچھلے ڈھائی برس سے لال مسجد کے منتظم غازی عبدالرشید کے مقدمۂ قتل کی سماعت کر رہی ہے اس مقدمے میں مطلوب واحد ملزم جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو آج تک اپنے روبرو نہیں دیکھ سکی۔ حالانکہ یہ عدالت اس عرصے میں تین بار جنرل صاحب کے ناقابلِ ضمانت گرفتاری وارنٹ نکال چکی ہے۔ تازہ وارنٹ گذشتہ روز جاری کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پرویز قادر میمن نے کہا کہ ملزم جان بوجھ

Read more

ذوالفقار علی بھٹو، وہائٹ ہائوس اور سی آئی اے

ان دنوں انٹرنیٹ، ای میل، فیکس، موبائل فون اور موجودہ سوشل میڈیا کے ذرائع کا وجود ہی نہیں تھا۔ صرف لینڈ لائن فون سب سے موّثر رابطے کا ذریعہ تھے۔امریکی ریاست نیوجرسی میں 3اور 4؍اپریل 1979ء کی درمیانی شب سو رہا تھا کہ کمرے میں پڑے فون کی گھنٹی نے اچانک نیند سے اٹھا دیا۔ پاکستان میں 4؍اپریل کا دن شروع ہو چکا تھا۔ امریکی ریاست مشی گن سے میرے محترم دوست سلام شیخ انتہائی غمزدہ آواز میں روتے ہوئے

Read more

ذوالفقار علی بھٹو سے دو ملاقاتیں اور تیسرا تجاذب

میں تب گورنمنٹ کالج لاہور میں سال دوم کا طالبعلم تھا۔ ایوب خان کے خلاف جلوس نکلا کرتے تھے۔ میں بھی شریک ہوتا تھا۔ میں نے بھٹو کو پہلی بار مال روڈ پر ایسے ہی ایک جلوس میں دیکھا تھا۔ وہ ٹرک کے اوپر کھڑے تھے۔ شلوار قمیص میں ملبوس تھے۔ حسب معمول گریبان کے بٹن کھلے تھے ۔ کف چڑھائے ہوئے تھے۔ سیاہی مائل سفید بال پریشان تھے اور انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا ’اب تو مجھے

Read more

میرے نامکمل حج اور پرانا مکہ

میں نے آنکھ کھول کر دنیا کو دیکھا تو ہر سال کا حج زندگی کا لازم حصّہ پایا۔
بابا اور اماں کی زندگی مکہ اور مدینہ کے گرد منڈلاتی تھی دو پروانوں کی طرح۔
تیسری میں آ گئی جسے ان کی انگلی پکڑ کر اس مرکزِ حیات کے گرد منڈلانا ہوتا تھا۔

بابا سرکاری ملازم تھے۔ ہر سال حج کے لیے ان کی چھٹی کا معاملہ پھنس جاتا۔ اعتراض آتا کہ ابھی پچھلے سال تو گئے ہو! اُدھر چھٹی کی درخواست چیف سیکریٹری کی ٹیبل پر پڑی پھڑپھڑا رہی ہوتی اور اِدھر وہ بے چین ہوئے پھرتے اور اماں کو سفر کی تیاری کا کہہ رہے ہوتے۔ مزاجاً بابا optimist تھے اور اماں pessimist۔ اماں بھر آئی ہوئی آواز میں مایوسی کے ساتھ کہتیں کہ اس بار بلاوا نہیں آیا! اس بار ہمیں یاد نہیں کیا گیا! ہاں اتنی بھیڑ میں ہم کہاں یاد ہوں گے! اور بھی کئی چاہنے والے پہنچے ہوئے ہوں گے وہاں۔ وہی ہم سے زیادہ عزیز ہوں گے!

Read more

کارل مارکس اور بیماری کی تشخیص

جنوبی پنجاب کے متوسط درجے کا ایک گھر جہاں تازہ قلعی کی خوشبو ایک بوڑھی عورت کے غمزدہ نقوش، دانائی سے بھری آ نکھوں والے ایک دانشور کی تصویر اور لوہے کی تپائی پر پڑا خط کمرے کی بے سکون خاموشی میں مسلسل اضطراب پیدا کر رہے ہیں۔ اس بوڑھی عورت کے بیٹے کے لیے جہاں دیکھو مار دو کا حکم جاری ہوا ہے کیونکہ اس کا بیٹا غدار تھا۔ جب ساری دنیا ہمیں افغان باقی کہسار باقی کے نعرے

Read more

کارل مارکس کے ناقابلِ شکست نظریات

نجانے کتنی مرتبہ ہم نے یونیورسٹی پروفیسروں، ماہرینِ معاشیات، سیاست دانوں اور صحافیوں کو یہ دعویٰ کرتے سنا ہے کہ مارکس غلط تھا اور اگرچہ اسے سرمایہ داری کے متعلق تھوڑا بہت علم ضرور تھا لیکن وہ سرمایہ دارانہ نظام کی توانائی اور اسکے بحرانات سے نکل کر ہمیشہ آگے بڑھنے صلاحیت کو سمجھنے میں ناکام ہو گیا تھا۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران جب یہ نظام تاریخ کے بد ترین بحران میں دھنستا چلا جا رہا ہے تو

Read more

ذوالفقار علی بھٹو کا تاریخی خطاب

نوٹ: (ان دنوں میں ثقلین رضا کی کتاب ’بھٹو خاندان سیاست کے کربلا‘ کا دوبارہ مطالعہ کررہاہوں، جس میں قاید عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی دو مشہور تقاریر شامل ہے، یہ دنوں تقاریر نہ صرف سیاست و بین الاقوامی امور کو سمجھنے کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہے بلکہ ان تقاریر کو ادبی شہکار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، اسی لئے ان تقاریر کو قارئین کی نذر کر رہا ہوں۔ ا یک تقریر لاہور میں امریکہ

Read more

برٹرینڈ رسل کے خطوط ۔۔میں ذکر ذوالفقار علی بھٹو!

ایک ایسے معاشرے میں جہاں عمومی بیانیہ "ملک کو سیاستدان لوٹ گئے” کے گرد گھومتا ہو، جہاں آج بھی محفلوں میں آمریت و جمہوریت کا موازنہ کیا جاتا ہو، جہاں مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے ذمہ داروں کے تعین پر بحث میں بھٹو کو گھسیٹا جائے جبکہ اس سانحے سے پہلے کی پوری دہائی آمریت راج کرتی رہی ہو تو وہاں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ دنیا کے عظیم فلسفی مفکر انسانیت دوست، مشرق کو مغرب کے

Read more

گول روٹی نہ پکانے والی انیقہ خالد کا جنت سے اپنے والد کے نام خط

میرے پیارے بابا یہاں وقت کا پتہ نہیں لگتا پر سنا ہے ایک سال گذر گیا ہے۔ پر میں ایک پل کو بھی اس دن کو بھولی نہیں ہوں۔ پتہ ہے اس دن میں بہت خوش تھی کہ آج میں اپنے بابا کو اپنے ہاتھ سے روٹی بنا کر کھلاؤں گی اور مجھے اس بات کا یقین بھی تھا کہ آپ میری اس کوشش کی بہت تعریف کریں گے، میرے ماتھے کو بوسہ دیں گے، میرے ہاتھوں کو پکڑ کر

Read more

نواز شریف کے زوال کے اسباب

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کچہری، کوئٹہ میں لگی ہوئی تھی، وکلا تحریک نواز شریف کے لانگ مارچ کے بعد بحالی ہوئی تھی، اتنا عروج شاید ہی پاکستان میں کسی چیف جسٹس نے دیکھا ہو۔ وہ اسی طاقت کے نشے میں بلوچستان کے مسنگ پرسنز کو ڈھونڈنے نکلے تھے اور کوئٹہ آ کر دربار سجاتے تھے۔ جب کئی طلبیوں کے باوجود کچھ سینیئر فوجی اہلکار اور حساس اداروں کے نمائندے پیش نہ ہوئے تو انھوں نے ایک دن خبردار کیا

Read more

انورشعور، جوش کو شاعر کیوں نہیں مانتے؟

انور شعور کا شمار، پاکستان کے اُن ممتاز و معتبر شعرا میں ہوتا ہے، جنہیں توجہ سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ وہ بلاشبہ صاحبِ اسلوب شاعر ہیں۔ اُن کے مصرعے کی ساخت خود بتادیتی ہے کہ میں انور شعور کا مصرعہ ہوں۔ انور شعور بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں، غزل بھی ایسی، جو اپنا شجرۂ نسب رکھتی ہے۔ روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں شائع ہونے والے اُن کے قطعات بھی اُن کی شناخت کا ایک حوالہ ہیں۔2016 ء میں

Read more

تونسہ کی ایک فرض شناس اور بہادر استانی کی داستان

پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان کے قدامت پسند ماحول میں ایک بہادر خاتون ٹیچر گھر سے 27 کلومیٹر دور موٹر سائیکل چلاکر سکول جاتی ہیں، جہاں وہ قبائلی بچوں کو تعلیم دیتی ہیں،33 سالہ ماہ جبین بی بی ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ کی بستی سوکڑ کی رہائشی ہیں،انہوں نے بہاو الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ایم اے پولیٹیکل سائنس اور ایم ایڈ بھی کر رکھا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں پر خواتین کا گھروں سے نکلنا

Read more

اللہ بھٹو سائیں کا بھلا کرے

پاکستان میں آج نجی شعبے میں درجنوں ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیو سٹیشنز ہیں جبکہ انٹرنیٹ کی وجہ سے سوشل میڈیا بھی ایک متبادل پلیٹ فارم کے طور پر موجود ہے۔ آج سے 38 سال پہلے ایسا کچھ نہ تھا صرف ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن ہی ذرائع ابلاغ کے بڑے ذریعے تھے تاہم دونوں نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی جانے کی خبر دنیا بھر میں پھیلنے کے کئی گھنٹے بعد نشر

Read more

مولانا فضل الرحمن سے انتہا پسندی کے اسباب پر گفتگو (پہلا حصہ)

جمعیت علمائے اسلان کے سربراہ اور پاکستان کے ممتاز سیاسی رہنما مولانا فضل الرحمن صاحب نے ہم سب کی ٹیم کی درخواست پر 4 مئی 2017 کو اسلام آباد میں عدنان خان کاکڑ، فرنود عالم اور وسی بابا سے ملاقات کی۔ عام تاثر یہ ہے کہ مولوی کسی فکری مخالف کو برداشت نہیں کرتے۔ مگر مولانا سے مل کر یہ تاثر دور ہوتا ہے۔ وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انٹرویو کرنے والے لبرل اور سیکولر خیالات کے حامل افراد

Read more

طنز آخر ہوتا کیا ہے؟

ادب و صحافت میں طنز کا مقصد عام طور پر چبھن پیدا کر کے کسی معاملے کے احمقانہ پہلو یا پھر برائی کو اجاگر کر کے معاشرے میں اس موضوع پر مکالمے کی سوچ پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ اس کا کوئی مناسب حل نکالنے کی کوشش کی جائے۔ ایک طنز نگار کسی ایسے موضوع یا شخص کو اپنا نشانہ بناتا ہے جس میں اسے کوئی خامی دکھائی دے اور وہ طنز یا پھر مزاح کے ذریعے ان غلطیوں کو سامنے لاتا ہے۔ لازمی نہیں کہ طنز میں مزاح کا پہلو بھی پایا جاتا ہو۔ طنز کا مقصد عوام کی توجہ معاشرے یا افراد کی ان برائیوں کی طرف دلانا ہوتا ہے جو کہ معاشرے کے لئے ضرر رساں ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے نظریہ ارتقا پر ہمارا مضمون کامیاب رہا ہے اور نظریہ ارتقا پر ایک بحث نے جنم لے لیا ہے۔

Read more

ہم سب کا پاکستان – ایک تاریخی قدم

23 مارچ 2017ء ایک تاریخی دن ہے۔ آج ہماری قیادت نے یوم پاکستان کے موقع پر قوم کو ایک ہونے کی، ہم سب کے ایک ہونے۔۔۔ کی نوید دی۔ ہم سب کا پاکستان ایک نصب العین ہے، ایک جمہوری، پرامن، روادار اور مضبوط پاکستان کا خواب۔ جہان سب شہری برابر ہوں، جہاں ہر پاکستانی محفوظ ہو، جہاں ہم ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھیں۔ جہاں ہم سب مل کر ترقی کر سکیں۔ ابھی اس نصب العین تک پہنچنے کے لئے

Read more