4 اپریل: جب خوابوں کا قتل ہُوا
راولپنڈی کے سابق ڈپٹی کمشنر اور معروف بیوروکریٹ سعید مہدی کے انٹرویو سے ایک اقتباس
چار اپریل کی صبح نو بجے جنرل ضیاء الحق نے وزارت خارجہ میں ایک کانفرنس میں شریک ہونا تھا بھٹو صاحب کو پھانسی دیئے جانے کی خبریں ملک بھر میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیل چکی تھیں اس لئے منتظمین کو یقین تھا کہ جنرل ضیاء الحق اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے لیکن یہ منظر سب کیلئے حیران کن تھا کہ ٹھیک 9 بجے جنرل ضیاء الحق وزارت خارجہ میں اپنی گاڑی سے اتر رہے تھے۔
گاڑی سے اتر کر کانفرنس روم کی طرف جاتے ہوئے انہوں نے اپنے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر ظفر سے انتہائی سرسری اور غیر اہم انداز سے پوچھا۔ بھٹو صاحب کو تو غالباً رات کو پھانسی دے دی گئی ہے؟ جس پر بریگیڈیئر ظفر نے کہا یس سر۔ اور جنرل ضیاء الحق کانفرنس روم میں چلے گئے۔ یہ بات معروف بیوروکریٹ سعید مہدی نے جیو ٹی وی کے مقبول پروگرام ’’جوابدہ‘‘ کے میزبان افتخار احمد سے انٹرویوکے دوران بتائی۔
یہ پروگرام سات نومبر 2010 کو پیش کیا گیا تھا۔ بھٹو صاحب کو 4 اپریل کو جب پھانسی دی گئی اس وقت سعید مہدی راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر تھے اور راولپنڈی کی سینٹرل جیل جہاں بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی انتظامی طور پر سعید مہدی صاحب کے ہی کنٹرول میں تھی۔ وہ 1977 سے 1979 تک راولپنڈی اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر رہے جڑواں شہر اس وقت ایک ہی ضلع تھے۔
سعید مہدی بتاتے ہیں حکومت ختم کئے جانے کے بعد بھٹو صاحب کو مری منتقل کردیا گیا تھا ہمیں اطلاع ملی کہ بھٹو صاحب اسلام آباد آرہے ہیں۔ ہمیں احکامات ملے کہ وہ جہاں جانا چاہتے ہیں جانے دیں لیکن ان کا استقبال کہیں نہیں ہونا چاہئے کوئی اجتماع کا منظر ہرگز نہیں ہوگا اور دوسرے لفظوں میں کہا گیا کہ ان کی آمدورفت کرفیو کے سے ماحول میں ہونی چاہئے اس ہدایت کے پس منظر میں یہ خدشات تھے کہ ہوسکتا ہے کہ بھٹو صاحب راولپنڈی کے کسی گنجان آباد علاقے راجہ بازار، لیاقت روڈ یا ایسی کسی اور جگہ پر لوگوں میں گھل مل جائیں اور وہاں اجتماع اور تقریر کا ماحول نہ بن جائے۔ بھٹو صاحب اسلام آباد میں پیر آف مکھڈ کے گھر ٹھہرے تھے۔
ہمیں اطلاع ملی کہ وہ اسلام آباد سے راولپنڈی آرہے ہیں تو حسب حکم تمام انتظامات کئے گئے لیکن بھٹو صاحب کی گاڑی راولپنڈی میں آرمی ہائوس کے باہر رک گئی وہ جنرل ضیاء الحق سے ملاقات چاہتے تھے ہنگامی طور پر جنرل ضیاء الحق کو اطلاع کی گئی تو اس وقت GHQ میں تھے تو پیغام ملا کہ انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھائیں جنرل صاحب پہنچ رہے ہیں۔ سعید مہدی صاحب بتاتے ہیں کہ کچھ دیر بعد جنرل صاحب کی طرف سے مجھے آرمی ہائوس میں طلب کیا گیا۔ میں فوری طور پر پہنچا تو ڈرائنگ روم میں جنرل صاحب اور بھٹو صاحب محو گفتگو تھے۔ مجھے دیکھتے ہی جنرل صاحب نے انتہائی برہمی سے بولے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب آپ اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں۔ آپ ضلع کے ہلاکو خان ہیں یا چنگیز خان۔ یا حکومت کے سربراہ ہیں۔ میں نے کہا۔ سر میں تو گورنمنٹ سرونٹ ہوں اور جو میری ذمہ داریاں ہیں وہ انجام دے رہا ہوں۔ پھر جنرل صاحب نے بھٹو صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ آپ بھٹو صاحب کو جانتے ہیں ناں؟ میں نے کہا جی سر۔ یہ ہمارے وزیراعظم تھے۔ تو جنرل صاحب نے زیادہ زور دیتے ہوئے قدرے بلند میں کہا کہ تھے۔ اور آئندہ بھی ہوں گے۔ جنرل صاحب جو یونیفارم میں تھے انہوں نے اپنی یونیفارم پر آویزاں سٹارز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ۔ تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد یہ سٹارز لگانے کا اعزاز مجھے بھٹو صاحب نے دیا ہے اور آپ ان کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ یہ عوامی لیڈر ہیں۔ عوام میں جائیں گے اور آپ نے ان محدود کردیا ہے۔ بھٹو صاحب جہاں جانا چاہتے ہیں ان کو جانے دیا جائے ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے اگر اب بھٹو صاحب کو اس حوالے سے کوئی شکایت ہوئی تو ایسا نہیں ہوگا۔
پھر بھٹو صاحب سے مخاطب ہوئے۔ بھٹو صاحب میں آپ کو ایک فون نمبر دے رہا ہوں (اس زمانے میں موبائل فون نہیں تھے اور بھٹو صاحب کو بغیر لائن کا نمبر دیا گیا) آپ جب چاہیں مجھے فون کرسکتے ہیں میں جہاں بھی ہوں گا ملک میں یا ملک سے باہر آپ سے رابطہ ہوجائے گا۔ پھر مجھے کہا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب آپ جاسکتے ہیں اور میں یہ سوچتا ہوا باہر آگیا کہ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ہمیں کچھ اور احکامات دیئے گئے ہیں اور جنرل صاحب کچھ اور حکم دے رہے ہیں میں اسی شش وپنج اور پریشانی کے عالم میں باہر پورچ میں اپنی گاڑی کا انتظار کر رہا تھا کہ جنرل ضیاء الحق بھٹو صاحب کو الوداع کہنے کیلئے باہر آگئے۔
انہوں نے بھٹو صاحب کی گاڑی کا دروازہ کھولا۔ انہیں سیلوٹ کیا اور گاڑی روانہ ہوگئے معاً ان کی ان کی نظر مجھ پر پڑی تو کہنے لگے۔ ڈپٹی صاحب آپ کی گاڑی نہیں آئی ابھی۔ میں نے کہا جی گاڑی آرہی ہے میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے پوچھ لیا۔ سر میرے لئے کیا حکم ہے؟ تو جنرل صاحب نے جواب دیا۔ یعنی جس طرح آپ کام کر رہے ہیں کرتے رہیں۔ آپ پنجاب گورنمنٹ کے ماتحت ہیں۔ ان کے احکامات پر عمل کریں یہ کہتے ہوئے وہ واپس ڈرائنگ روم میں چلے گئے۔
باقی حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے
فیصلے کیلئے مجھ پر دباؤ تھا۔ جسٹس نسیم حسن شاہ (مرحوم)
4 اپریل 1979 کو مقبول راہنما ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھایا گیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے راہنما اور پارٹی سے وابستگی رکھنے والے قانون دان ابتدا سے ہی یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ’’بھٹو کی شہادت اُن کا عدالتی قتل تھا‘‘ پھر ایسا ہی مؤقف اُس وقت بین الاقوامی میڈیا میں بھی دیکھنے، سننے اور پڑھنے میں آیا۔ تاہم اس حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے والے سپریم کورٹ بینچ کے سب سے جونیئر رکن ڈاکٹر نسیم حسن شاہ جنہیں بھٹو صاحب نے اپنی حکومت کے خاتمے سے تقریباً دو ماہ قبل 18 مئی 1974 کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا تھا انہوں نے بھٹو صاحب کی سزا کے خلاف کی جانے والی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سزا کو برقرار رکھا۔
یاد رہے کہ اس کیس میں سپریم کورٹ کے سات ججز تھے جن میں سے تین نے بھٹو صاحب کو سزا دینے کے فیصلے سے اختلاف کیا اور چار نے سزا برقرار رکھنے کی حمایت کی جن میں نسیم حسن شاہ بھی شامل تھے۔ تاہم بعد میں نسیم حسن شاہ نے اپنے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں اُن پر دباؤ تھا۔ نسیم حسن شاہ طویل علالت کے بعد 86 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے تھے اور اُن کے انتقال کے بعد ذوالفقار علی بھٹو پھانسی کی سزا دینے والے تمام ججز دینا سے رخصت ہوگئے۔
بشکریہ روز نامہ جنگ

