پرکاش کے آنسو

دوسری تصویر سجاول کے گاؤں دڑو کے پرکاش کی ہے۔ پرکاش کچھ بیس برس کا ہندو نوجوان ہے اور گنگا رام کا لڑکا ہے۔ گنگا رام کی کہانی بہت سادہ ہے۔ کچھ سال ہوتے ہیں جب وہ گیان بانٹتے بانٹتے ریٹائر ہو گئے۔ پیشے سے سکول ماسٹر تھے سو نہ زمین پہ دعوی اور نہ دکان گیری کا حوصلہ۔ سفید شلوار قمیض میں ساری عمر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی وہ کتابیں کھلے دل سے پڑھاتے رہے جن میں ہندووں کے مندروں کے تاریک ہونے کے ڈانڈے ان کی ذہنی تنگ نظری سے ملائے جاتے ہیں۔
تیسری تصویر میں ارباب ابراہیم میمن، مراد شاہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مراد شاہ، بلاول بھٹو کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہیں۔ ڈیوس کی تقریر کے بعد ایک عالم کو بلاول کی صلاحیتوں سے امید وابستہ ہے مگر ڈیوس کا جہاں اور ہے سندھ کا جہاں اور۔ عوامی نمائندے، ائر پورٹ جانے سے پہلے قمیض کے کف سیدھے کر لیتے ہیں اور تمام نعرے ٹائی کی ناٹ سے نیچے رکھتے ہیں۔
چوتھی تصویر میں ارباب ابراہیم میمن، سندھ کے وزیر داخلہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ادی کے اس بھائی کے حصے میں سندھ کا امن امان آیا ہے۔ چوہدری اسلم اور راؤ انوار والی سندھ پولیس، ان کی قیادت میں صوبے کے امن امان کی ذمہ دار ہے۔

چھٹی تصویر نہیں بلکہ ویڈیو ہے۔
اور اس ویڈیو میں پرکاش کے ساتھ کئی لوگ جنسی زیادتی کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں ارباب ابراہیم میمن صاف دکھائی دیتے ہیں۔ اس ویڈیو میں بھی پرکاش کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔
ویڈیو کی کھوج لگاتے لگاتے، ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب سے بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پرکاش کے گھر والوں اور برادری کا مطالبہ ہے کہ انہیں انصاف دیا جائے۔
کئی برس ہوتے ہیں، میاں مٹھو کے دربار، بھڑچونڈی شریف سے رنکل کماری کے اسلام قبول کرنے کا جلوس نکلا تھا۔ آواز اٹھانے والوں نے احتجاج کیا تو انہیں بتایا گیا کہ یہ درگاہ عبید اللہ سندھی کے دور سے ہے اور تبدیلی مذہب پہ کوئی بات نہیں سنی جائے گی۔ رنکل کماری کے والد بھی پڑھاتے تھے، ساری عمر دھیمے لہجے سے بات کرتے گزرے، انہوں نے یہ دعویٰ سنا تو خاموشی میں عافیت جانی۔ جن کی بیٹیاں گھروں کے آنگن سے درگاہوں کا رزق ہو جاتی ہیں، وہ چپ رہ جاتے ہیں مگر جن کی طاقت کے سوتے، مذہب سے پھوٹتے ہیں، وہ بھڑچونڈی سے فیض آباد تک، شور سے فلاح پاتے ہیں۔
سو 2012 سے 2017 تک بیٹیاں گھٹتی گئیں اور سندھ میں قبول اسلام کے واقعے بڑھتے گئے۔ انجلی کمار میگھواڑ بھی ایک ایسی ہی بچی تھی جسے بارہ سال کی عمر میں گھر کے آنگن سے بھڑچونڈی کی درگاہ کا سفر کرنا پڑا۔ دو سال کورٹ کچہری میں ڈاکٹری جانچ پڑتال کو لگے مگر اب خدا کے فضل سے وہ پیر سیال کی منکوحہ ہیں۔ اسی طرح اگست 2017 میں آندل مل صاحب کی بیٹی انوشی روہڑی سے اغوا ہوئی تو سکھر کی گول مسجد میں کلمہ پڑھ کر نکلی۔ ڈاکٹر لتا، رنکل کماری اور انوشی کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ، پرکاش کی برادری بھی شاید بھول رہی ہے مگر یاد دلانا فرض ہے کہ انہیں مطالبہ کرنے میں تھوڑی دیر ہو گئی اور درگاہ بھڑچونڈی والے میاں مٹھو، ان سے پہلے انصاف کی شاخ پہ جا بیٹھے ہیں۔
شمالی سندھ میں مذہب اور طاقت کی یہ سانپ سیڑھی، سیاست کی لڈو پہ ایک اور طریقے سے کھیلی جاتی ہے۔ تقریبا تمام صاحب ثروت ہندووں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ انتخابی مہم میں بھاری چندے دیں تا کہ بدلے میں انہیں بچا کھچا تحفظ مل سکے۔
تقسیم کی کہانیاں پڑھتے پڑھتے سکھر کے قریب سادھو بیلا کے بارے میں پڑھا۔ سن سینتالیس میں جانے والے ایک ہندو نے کسی پتھر پہ لکھا تھا ”سندھو ماں۔ تو دعا کرنا کہ حالات بہتر ہو جائیں، جونہی فساد تھوڑا ٹھنڈا پڑے گا، میں لوٹ آؤں گا۔ میرا تیرے سوا اور ہے ہی کون“
خدا کا شکر ہے نہ فساد ٹھنڈا پڑا اور نہ لکھنے والا لوٹا۔ ورنہ جائیداد سنبھالتا یا بیٹے بیٹیاں۔



