موسوی صاحب اور کوئٹہ کے ہم وطن

نومبر کے آخری ہفتے میں یا شاید دسمبر کے پہلے ہفتے میں۔ کوئٹہ کی ہوا، ایک مخصوص باس سے بھر جاتی ہے۔ کوئلہ کی مہک سے اٹی یہ ہوا، پھر جاڑے تک ساتھ رہتی ہے۔ اس دن مگر اس ہوا میں باروود کی بو تھی، گندھک کی۔ پیلی پڑتی۔ ٹینکر کے ٹائر کی سیاہی رم پہ چمٹ گئی تھی۔ ایک جلی ہوئی موٹر سائکل کے ساتھ سات آٹھ سال کا بچہ انتہائی انہماک سے کچھ کھرچ رہا تھا۔ اپنے ایک ہاتھ میں موجود پتھر سے وہ موٹر سائیکل کے مختلف حصوں کی کھرچن، دوسرے ہاتھ میں موجود سبز رنگ کے مومی لفافے میں ڈالتا جا رہا تھا۔
میں نے بچے سے پوچھا کہ اس شاپر میں کیا ہے۔ کہنے لگا، میرا بھائی ہے۔

Read more

ہزارہ- اب ’خوب است‘ کہنے والا کوئی بچا

پانی تقسیم چوک سے آرچرڈ ہاؤس کی طرف جانے والی سٹرک پہ مڑیں تو پہاڑی کے دامن میں ڈھیروں چمکتے جگنو سامنے آ جاتے ہیں۔ کچھ تو اس قدر نزدیک کہ ہاتھ بڑھا کر مٹھی میں قید کیے جا سکئں۔ کوئٹہ مئں یہ تمام جگنو ہزارہ کے نام سے جانے جاتئی ہئں۔ دبیز قالینوں میں دبے گھر ان لوگوں کی درویش صفتی کے عکاس ہیں، نہ مکینوں کو کسی کی باتیں چبھتی ہیں نہ ہی گھر میں کوئی نوکدار چیز ملتی ہے۔ رات کی روٹی اسی دسترخوان میں لپیٹ کر سو جاتے ہیں اور صبح اسی سے ناشتہ کر کے نکل جاتے ہیں۔ ایک ایسے شہر میں جہاں سے 1935 ء کا زلزلہ ابھی تک گیا نہیں، ہزارہ لوگ وہ جگنو ہیں جو اپنے مخصوص ”خوب است۔ خوب است“ سے پورے شہر کو اجالتے پھرتے ہیں۔

Read more

عبدالسلام کا جھنگ

سلطان اور چندر بھان کے علاوہ بھی جھنگ  شہر کے کچھ حوالے ہیں، جن کے بارے میں قومی تاریخ عمدا ً خاموش ہے۔ ایسا ہی ایک حوالہ ڈاکٹر عبدالسلام کا بھی ہے جسے پاکستان کے حافظے سے مذہب کی آڑ میں حذف کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے ذکر پہ شاہی مورخ ایسے ورق پھلانگتا ہے جیسے مقامی سکول میں سائنس پڑھاتے وقت جینیات کے باب کے صفحے جوڑ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ نہ کوئی کھولے گا اور نہ ہی آگے پڑھ پائے گا۔

سنتوک داس کے نواحی قصبے میں پیدا ہونے والے عبدالسلام نے جھنگ کو یوں اپنا گھر بنایا کہ پھر کبھی جائے پیدائش کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا۔ آپ کے والد تعلیم کے محکمے میں تھے اور دادا اپنے وقت کے عالم، سو گھر میں درس و تدریس کا چلن عام تھا ۔ اب خاندان کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ماں باپ نے کوئی خواب دیکھا تھا اور کچھ احباب سناتے ہیں کہ عبدالسلام جب پہلی جماعت  میں داخل ہونے گئے تو سکول ماسٹر نے انہیں سیدھا چوتھی میں بٹھا لیا۔ مگر بچپن کی باتوں سے بے نیاز عبدالسلام کی تعلیمی زندگی کامیابیوں سے مزین تھی۔ جب ہر شخص ان کی کم عمری کے امتحان اور ہر امتحان میں ریکارڈ کی کہانی پوچھتا تو اس وقت کا عبد السلام اوپر انگلی اٹھا کر اللہ کے کرم کا اشارہ کر دیتا۔ یہ انگریز کا دور تھا اور اس وقت پارلیمان کی کمیٹیاں مظاہروں کے زیر اثر لوگوں کے مذہب پہ فیصلے نہیں دیتی تھی سو سب مولویوں کے اس لڑکے کی مثالیں دیا کرتے۔

Read more

زندگی۔ اے زندگی

ایک ہوتی ہے ہنگامہ خیز زندگی۔ جیسے۔ جیسے۔ آپ بیسویں صدی کی اولین دہائیوں میں پیدا ہوں۔ والد ریلوے میں ہوں تو دور افتادہ قصبوں میں آپ ریل کی سیٹی، سننے کی بجائے، اس کے سنائے جانے کا اہتمام کریں۔ شہروں سے دوری کے سبب، ہسپتال یا ڈاکٹر صرف کلکتے سے وابستہ کوئی چیز ہو، سو بیماریوں سے بچنے کے لئے آپ کے والدین، ریل اور گھر، گرہستی سے بچ جانے والا وقت، طب کی کتابوں، مقامی لوگوں کی کہانیوں اور لوک سمجھ بوجھ سے ملنے والے علم کی نذر گزاریں اور ایک ڈھیلی ڈھالی گھریلو حکمت وضع کریں۔

زندگی آپ کو سکول کے راستے، لاہور لے آئے تو آپ مذہب کو دیکھنے والی عینک میں، عقیدت کی بجائے حقیقت کے عدسے جڑوائیں۔ آپ اسلامیہ کالج سے ہوتے ہوئے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج پہنچیں مگر ساتھ ساتھ جلیانوالہ باغ کے شعلے، آپ کی وطنیت کو انچ دینے لگیں اور ششی تھرور سے قریب قریب ایک سو سال پہلے آپ یہ کہنے لگیں کہ ہندوستان کے قحط، غربت اور تعلیم کی عدم دستیابی کی سب سے بڑی وجہ، غیر ملکی راج ہے۔ طب کی مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے آپ انگلستان جائیں اور پھر وہیں کے ہو رہیں تا وقتیکہ آپ کے والد آپ کو ایک چٹھی لکھیں جس میں فیصلہ آپ پہ چھوڑ دیں مگر آپ واپس آ جائیں اور آ کر لاہور کی چھاؤنی میں ایک کیپٹن ڈاکٹر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالیں۔

Read more

جنرل نیازی کا پستول اور قومی مفاد

دسمبر کی ایک رات تھی۔ صلاح الدین کمپنی کے لان کے باہر پوری پلاٹون کھڑٰی تھی۔ عمومی طور پہ سردیوں میں اس طرح کا اجتماع، موزے، جوتے اور قمیض سے بے نیاز ہوا کرتا ہے مگر ہمیں حکم تھا کہ پی ٹی کٹ، پل اوور، ٹریک سوٹ اور جتنے کپڑے اس کے اوپر پہنے جا سکتے ہیں، پہنے جائیں تا کہ وزن کم کرنے میں مدد مل سکے۔  جونہی سینئیر جنٹلمین کیڈٹ نے کارپورل کو تمام لوگوں کے حاضر ہونے کی خبر سنائی۔  طویل قامت کارپورل میں کوئی اور ہی روح حلول کر گئی۔ وہ گرجے

Gen Niazi s pistol is still at Indian Military Academy. Who will bring it back?

(جنرل نیازی کا ریوالور بھارت کی ملٹری اکیڈمی مین رکھا ہے۔ تم میں سے کون اسے واپس لائے گا؟)

Read more

سلیم لنگڑے پہ مت رو

کنگز کالج میں وہ سب کچھ ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی لفظی اور لغوی تعریف کے زمرے میں آتا ہے۔ بڑی بڑی راہداریاں، خاموش سیڑھیاں اور حشمت کے قدیم نشان۔ دیوار کی ایک طرف ورجینیا وولف کو اپنا لیا گیا ہے اور دوسری طرف ہگز بوسن والے پیٹر ہگز کی تصویر ہے۔ حالات کے ایک مختصر…

Read more

محمد حنیف کا نیا ناول ”ریڈ برڈز“

انیس بھائی، ہماری زندگیوں میں فقط پھوپھو کے بیٹے نہیں تھے بلکہ ان زمانوں میں وہ سب کچھ تھے جس کے لئے آج کل تقریبا ڈیڑھ درجن سپر ہیروز درکار ہیں۔ کربلا کے بعد بیبیوں پہ کیا بنی، لیاقت علی خان کو گولی کیوں ماری گئی، قدیر خان کیسے امریکہ کی تمامتر ٹیکنالوجی کے باوجود زندہ بھی ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں، یہ سب باتیں ہمیں انیس بھائی بتاتے تھے۔ بس یوں سمجھیں کہ ہمارے لئے ان کی کہانیاں، تاریخ تھیں اور ان کے خیالات، تعلیم۔

پھر ایک پربھات کے بعد یہ سب بدلنا شروع ہو گیا۔ ہلکی ہلکی سردی کے سبب، چھت پہ سونا موقوف ہو چکا تھا سو انیس بھائی کے ٹاک شوز بھی اگلی گرمیوں تک ملتوی قرار پائے تھے، لیکن اب وہ اکثر اپنی بیٹھک کے سامنے، ہمارے سوئی گیس والے پائپ پہ قدم جما کر بتاتے کہ روس، افغانستان میں بہت ظلم کر رہا ہے، اگر اسے افغانستان میں نہ روکا گیا تو یہ جنگ ہماری گلیوں تک آ جائے گی۔ میں سوچنے لگتا کہ سرفراز کالونی کی گلی نمبر چھ میں روسی سپاہی، ٹینکوں سمیت کیسے پہنچیں گے جب کہ یہاں تو کرولا بہت مشکل سے آتی ہے۔ کچھ دن بعد سکول سے گھر آیا تو دادی، چار موم کے دوپٹے سے آنکھیں پونچھ رہی تھی۔ پتہ چلا انیس بھائی فوج میں جا رہے ہیں۔

Read more

پانی مر رہا ہے

آکسفورڈ کے ڈاکٹر فیصل بتا رہے تھے کہ نیورالوجی کی اپنی ایک دنیا ہے۔ کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں کہ بینائی کھونے کے باوجود ضد کرتے ہیں کہ انہیں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں کبھی کبھار ڈاکٹر، ان کے تیقن کی بنیاد پہ انہیں واپس جانے کی اجازت بھی دے دیتا ہے مگر…

Read more

نوناری صاحب سے سوال ہے

یہ ایک لمبی مسافت ہے۔ تھکا دینے والی، مستقل بے یقینی سے منسلک۔ آپ ستمبر میں کاغذ بھجواتے، ایک ابتدائی طبی معائنہ کیا جاتا، اکتوبر کی آخری تاریخوں میں امتحان ہوا کرتے، دسمبر کے وسط میں انٹرویو ہوتا پھر ایک تفصیلی طبی معائنہ ہوتا اور اگر آپ ان سب مراحل میں کامیاب ہوئے ہوتے تو…

Read more

سروور کی رنگین مچھلیوں کو جان کا خوف نہیں ہے

گریندر پال سنگھ جوسن کی درخواست تھی کہ میں پشاور کے کسی چرنجیت سنگھ سے سر پہ اوڑھنے والے رومال وصول کروں اور ریاض صاحب تک پہنچا دوں جو امریکہ میں ان کے ہمسائے تھے اور ان دنوں پاکستان میں تھے۔ میں نے چرنجیت سنگھ کو فون کیا تو انہوں نے میرے لہجے میں سفر…

Read more