میمنتو موری۔ ۔ ۔

یہ بات 1066 عیسوی کے انگلستان کی ہے اور کسی بھی سن کے کسی بھی استھان سے اس کا تعلق محض اتفاقی ہے۔ بادشاہ کا انتقال ہوا تو تخت کے چار دعویدار تھے۔ دو مقامی اور دو بیرون ملک۔ مقامی دعویدار، ہمیشہ کی طرح بادشاہ کے رشتے دار تھے۔ ایک بھتیجا اور دوسرا، ملکہ کا بھائی۔ فیصلہ، مقتدرہ کی مجلس نے کرنا تھا سو انہوں نے اس وقت کے رواج مطابق، بیگم کے خانوادے کو بھائی کے خاندان پہ فوقیت

Read more

شاہدرہ اور ترلوک شاہ کے یار

شاہدرہ اب گراموفون کا وہ پرانا ریکارڈ ہے جسے صرف دل کی تسلی کے لئے سنبھال رکھا ہے۔ کچی پکی پگڈنڈیاں اب تارکول کی دبیز تہوں میں میرے اس بچپن کے ساتھ دفن ہیں۔۔۔ جس کی میں نے صرف آرزو کی تھی۔ اس باغ دلکشا میں اب ہر طرف پینا فلیکس ہیں، موبائل ٹاور ہیں اور شور مچاتے رکشے۔ نہیں ہے تو وہ کشادگی جسے دل ڈھونڈتا ہے۔۔۔۔  ٭ ٭٭    ٭٭٭  شاہدرہ کی کہانی ریل کی پٹڑی سے کچھ جڑی

Read more

شاندار، زبردست، زندہ باد

”مانجھی“ کی کہانی، پہاڑ کاٹ کر راستہ بنانے والے شخص کی کتھا ہے۔ ایک آدمی، ایک تیشے سے ایک پہاڑ کاٹتا ہے کہ گاؤں سے ہسپتال کا راستہ کھلے۔ دیوانگی کی داستان، شہر پہنچتی ہے تو پترکار، مانجھی کو کھوجتے پہاڑ تک آ نکلتے ہیں۔ گھوم پھر کر آدمی کے یہی دو چار مسئلے تو ہیں، دل اور دماغ، فرض اور حق، نظریہ اور سمجھوتہ، عقیدہ اور قربانی وغیرہ وغیرہ۔ صحافی، سوال اٹھاتا ہے کہ سچ بولنا بہت مشکل ہے،

Read more

وداع جنگ

سن پینتالیس میں دوسری جنگ ختم ہوئی تو برلن، ایک شہر نہیں بلکہ فتح کی چار کہانیاں تھیں جو جیتنے والوں نے آپس میں بانٹ لی تھیں۔ بیسویں صدی کی ترتیب کے عین مطابق، وقت کی گرد بیٹھی تو نظریے کی دھول اڑنا شروع ہو گئی۔ اپنے تئیں فرد کی آزادی کا نعرہ بلند کرنے والی اقوام ایک طرف، جبکہ برابری اور اشتراکیت کے نام لیوا دوسری طرف ہو گئے اور ان سب کے درمیان جن لوگوں کو بانٹا جا

Read more

آخری رات

مارچ 1994 کی یہ آخری رات تھی۔ سامنے کے کمرے میں ایک ٹرنک پڑا تھا۔ ٹرنک میں ایک فہرست تھی۔ ساٹن کے دو عدد پتلون، کے ٹی کی سفید قمیضیں (جو اس شام، مغرب سے ذرا پہلے، نصیب درزی کا لڑکا دے کر گیا تھا) ، سروس کے آکسفورڈ پیٹرن جوتے اور تین تالے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب سامان، سلیقے سے ٹرنک کے آس پاس دھرا تھا۔ کمرے میں جدائی، نئے سامان اور مارچ کے اواخر کی نیم گرم سی

Read more

خون کے دھبے برساتوں سے نہیں دھلتے

بتانے والے بتاتے ہیں کہ فیض صاحب، بنگلہ دیش بننے کے بعد پہلی بار وہاں سے ہو کر آئے تو ائرپورٹ پہ صحافیوں نے روک لیا۔ ایک صاحب نے بہت ضد کی کہ کچھ کلام سنا دیں۔ فیض صاحب نے پہلے تو ٹالنے کی کوشش کی مگر اصرار کرنے پہ وہ شعر سنآئے جنہیں بعد میں نیرہ نور نے کتاب سے نکال کر یاد کے حوالے کیا۔ ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد بتانے والے مگر یہ نہیں

Read more

پہلا ماتم، آخری ماتم

شاید چار بجے کا وقت تھا جب فریدہ باجی کا انتقال ہوا۔ کچھ پانچ بجے، مقامی سلہٹی گھرانوں سے فون آنا شروع ہو گئے اور تقریباً چھ بجے تک اس قصبے کا ہر وہ شخص جو پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھتا تھا، جان چکا تھا کہ فریدہ باجی اب نہیں رہیں۔ رات گئے، ہم ان کے گھر پہنچے تو اسی ویرانی نے استقبال کیا جو بن ماؤں کے گھروں کا خاصہ ہوا کرتی ہے۔ خالی سیڑھیاں، زبان باہر نکالے کھونٹیاں، بے تعلق میز۔ مقدس آتش کدوں کی مانند، ہر وقت جلتا رہنے والا چولہا، سرد پڑ چکا تھا۔ اوپر کے کمرے میں فریدہ باجی کا کل ترکہ، تین بیٹے اور ایک شوہر، اس نئی پیدا ہونے والی صورتحال پہ حیرت اور سوگواری کی ملی جلی کیفیت کا شکار تھا۔

Read more

صوبیدار محمد خان صاحب کی ججمنٹ کال

پنوں عاقل کی چھاؤنی، گھاس کاٹنے کی ذمہ داری کے علاوہ معاشرتی اعتبار سے بھی دو حصوں میں بٹی تھی۔ قومی شاہراہ کی طرف سے داخل ہوں تو گیٹ سے مکہ چوک تک کا علاقہ، ایک انڈیپینڈنٹ آرمڈ بریگیڈ کے حصے میں آتا تھا جو کہ میکینائزڈ انفنٹری بٹالینز، رسالہ اور سیلف پراپیلڈ رجمنٹس کا ایک بندوبست ہوا کرتا ہے جبکہ مکہ چوک سے گالف کورس کے پیچھے تک غریب و سادہ و رنگیں انفنٹری ڈویزن ہے۔ سماجی اور ثقافتی

Read more

سندر مندرئیے: لوہڑی اور دُلا بھٹی

چوہڑکانہ سے نکلتی ریل کا اگلا پڑاؤ صفدر آباد ہے۔ شیخو پورہ کے جنگل سے لائلپور کے رکھ تک یہ سارا ساندل بار تھا۔ بار، دریاؤں کے درمیانی علاقے کو کہا جاتا تھا اور پورا پنجاب پانچ باروں میں بٹا تھا۔ یہاں بسنے والے خودرو پودوں اور تیز رو پانیوں کی سرشت رکھتے تھے، آزاد، تند اور دریا دل۔ جب بیرونی حملہ آوروں کا تانتا بندھا تو احتجاج کرنے والوں میں بار کے لوگ پیش پیش تھے۔ مغلوں سے انگریزوں تک یہاں مزاحمتی مزاج کی ایک روایت قائم رہی۔ اسی تحقیر کے سبب، استعمار نے ان لوگوں کو کبھی جانگلی کہا اور کبھی غیر محسوس طریقے سے، انہیں تاریخ سے غائب کرنے کی کوشش کی۔ مٹی سے وابستہ لوگوں نے اس کا دلچسپ حل نکالا اور ساری تاریخ گیتوں میں ڈھال لی۔ ماؤں، دادیوں نے جنم جنم کی کہانیاں، لفظوں میں لپیٹ کر طاقوں میں رکھنے کی بجائے، لوریوں میں ڈھانپ کر سینوں میں سنبھالنا شروع کر دیں۔ لفظ پھسل نہ جائیں، اس اندیشے کے سبب ان گیتوں کی دھن، لوری کی تھاپ، چرخے کے چکر اور چکی کی چال کو سونپ دی۔ اب پرکھوں کی بہادری کی داستانیں، نسل در نسل بچوں کو منتقل ہونے لگیں اور یوں یہ لوگ کسی نہ کسی وار کا حصہ بن کر بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ ریل رکی تو مسافر صفدر آباد کے دامن سے ڈھاباں سنگھ کی منڈی کھوجنے نکل پڑا۔ پٹڑی پہ ایک گیت کے چند بول پڑے ملے۔

Read more

ہزارہ- اب ’خوب است‘ کہنے والا کوئی بچا

پانی تقسیم چوک سے آرچرڈ ہاؤس کی طرف جانے والی سڑک پہ مڑیں تو پہاڑی کے دامن میں ڈھیروں چمکتے جگنو سامنے آ جاتے ہیں۔ کچھ تو اس قدر نزدیک کہ ہاتھ بڑھا کر مٹھی میں قید کیے جا سکیں۔ کوئٹہ میں یہ تمام جگنو ہزارہ کے نام سے جانے جاتی ہیں۔ دبیز قالینوں میں دبے گھر ان لوگوں کی درویش صفتی کے عکاس ہیں، نہ مکینوں کو کسی کی باتیں چبھتی ہیں نہ ہی گھر میں کوئی نوکدار چیز ملتی ہے۔ رات کی روٹی اسی دسترخوان میں لپیٹ کر سو جاتے ہیں اور صبح اسی سے ناشتہ کر کے نکل جاتے ہیں۔ ایک ایسے شہر میں جہاں سے 1935 ء کا زلزلہ ابھی تک گیا نہیں، ہزارہ لوگ وہ جگنو ہیں جو اپنے مخصوص ”خوب است۔ خوب است“ سے پورے شہر کو اجالتے پھرتے ہیں۔

Read more

جنرل نیازی کا پستول اور قومی مفاد

دسمبر کی ایک رات تھی۔ صلاح الدین کمپنی کے لان کے باہر پوری پلاٹون کھڑٰی تھی۔ عمومی طور پہ سردیوں میں اس طرح کا اجتماع، موزے، جوتے اور قمیض سے بے نیاز ہوا کرتا ہے مگر ہمیں حکم تھا کہ پی ٹی کٹ، پل اوور، ٹریک سوٹ اور جتنے کپڑے اس کے اوپر پہنے جا سکتے ہیں، پہنے جائیں تا کہ وزن کم کرنے میں مدد مل سکے۔  جونہی سینئیر جنٹلمین کیڈٹ نے کارپورل کو تمام لوگوں کے حاضر ہونے کی خبر سنائی۔  طویل قامت کارپورل میں کوئی اور ہی روح حلول کر گئی۔ وہ گرجے

Gen Niazi s pistol is still at Indian Military Academy. Who will bring it back?

(جنرل نیازی کا ریوالور بھارت کی ملٹری اکیڈمی مین رکھا ہے۔ تم میں سے کون اسے واپس لائے گا؟)

Read more

لطیف فاطمہ اور مٹور کا پہلا جرنیل

سیاہ کوٹ پہنے بڑے میاں، سفید پاجامے والے نوجوان کو مہابھارت کی بساط پہ دریودھن، کورو، پانڈو اور دروپدی کی گوٹیاں چلا کر گناہ ثواب کا فرق سمجھاتے ہیں۔ نوجوان، جلدی میں ہے، سیدھا جواب مانگتا ہے، بزرگوار دھیرج سے بتاتے ہیں۔ ”ساری عمر نکل جاتی ہے پاپ اور پنہ کا فرق سمجھنے میں اور تمہیں سیدھا جواب چاہیے۔“

خادم رضوی کے جنازے سے ڈاکٹر طاہر محمود کے قتل تک، ہر طرف سیدھا جواب مانگنے والوں کا ہجوم ہے مگر کیا کریں، زندگی پہلے ہی الجھے ہوئے ریشم کی مانند گنجلک ہے اور یہ سوال بہت کڑے ہیں۔ ان کی بنیاد پہ بیانیہ کی عمارت استوار ہوتی ہے، ٹی وی کا سرکس چلتا ہے اور وطن پرستی کے ٹویٹ داغے جاتے ہیں۔ سو لکھنے والے کی آخری امید کہانی ہی رہ جاتی ہے۔

Read more

لاہور اور گنگا پور

شہر کے باہر ایک بوڑھا برگد تھا، جہاں آنے جانے والے سستایا کرتے تھے۔ پھر درخت کٹ گیا اور لوگ اٹھ گئے، اب شہر تو ہے پر لوگ نہیں ہیں۔ درخت کی مجبوری اپنی جگہ، مگر کچھ مسافر بھی سائے سے دوستی کر لیتے ہیں۔ پھر لاکھ ہوائیں چلیں اور آندھیاں آئیں، جڑوں سے بندھے لوگ، جڑانوالہ سے جا کر بھی یہیں رہتے ہیں۔ فیصل آباد کے ہنگام سے پرے، یہ ایک چپ چاپ اور خاموش سا شہر ہے۔ گاؤں کی لڑکی کی طرح اپنے نوجوان وجود سے کچھ کچھ آشنا اور کچھ کچھ شرمسار۔ مگر جڑانوالہ سے پہلے، کچھ ایسا بھی ہے جس کے بغیر یہ تعارف ادھورا ہے۔

Read more

نوناری صاحب سے سوال ہے

یہ ایک لمبی مسافت ہے۔ تھکا دینے والی، مستقل بے یقینی سے منسلک۔ آپ ستمبر میں کاغذ بھجواتے، ایک ابتدائی طبی معائنہ کیا جاتا، اکتوبر کی آخری تاریخوں میں امتحان ہوا کرتے، دسمبر کے وسط میں انٹرویو ہوتا پھر ایک تفصیلی طبی معائنہ ہوتا اور اگر آپ ان سب مراحل میں کامیاب ہوئے ہوتے تو اپریل کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں پی اے ایف کالج، سرگودھا پہنچ جاتے۔ وہ تمام آبادیاں، جو ابھی خواندگی کے نودریافت طلسم سے باہر واقع ہوتیں، جیسے یاسر بندیشہ کا کبیر والا، راجہ شعیب کا جسوال، عباس شاہ کا چارسدہ اور عمران جمالی کا ساٹھ میل، وہاں لوگ آپ کو حسب شعور کپتان، پائلٹ، افسر وغیرہ کہتے اور آپ انکسار میں ملفوف نرگسیت سے جواب دیتے ”نہیں جی۔ ابھی کدھر۔ “

Read more

محمد حسین ۔۔۔۔ آزاد نہیں ہے

محمد حسین صاحب سے پہلے، کامونکی کا حوالہ، سن سینتالیس میں ریلوے سٹیشن پہ جلنے والی شرنارتھیوں کی ٹرین تھی۔ 2012 میں ریل کی یہ کہانی لکھی تو انگلستان سے ایک سندیس  آیا۔ کوئی ابرار حسین تھے جو اپنے والد، محمد حسین صاحب سے میری بات کروانا چاہ رہے تھے۔ ایک آدھ ہفتے بعد جب ہمارا وقت آپس میں ملا تو اس طرف سے ایک گھنی آواز سنائی دی ۔ "معراج صاحب بول رہے ہیں” "جی۔ محمد حسین صاحب ۔۔

Read more

امرتا اور امروز

رنجیت سنگھ کے علاوہ بھی یہاں خالصہ دربار کی نشانیاں ہر سو بکھری پڑی ہیں۔ ہری پور کی بنیاد رکھنے والے ہری سنگھ نلوہ کی حویلی (اب اس جگہ کو اندھوں کی مسجد کہا جاتا ہے) بھی یہیں ہے اور مانسہرہ بسانے والے مہان سنگھ کا گھر بھی۔ مہاراجہ کے ساتھ ایک شکار پہ مہان سنگھ نے خالی ہاتھ شیر مار گرایا۔ رنجیت سنگھ نے اس کی دلیری دیکھی تو اسے باگھ مار کا لقب دیا اور ہری سنگھ کی

Read more

کشمیر: ”ہم خیریت سے ہیں، آپ عید پہ گھر مت آنا“

مرزا وحید کا ناول ہے۔
The book of gold leaves

حقییقت کے سفاک پانیوں میں اس وقت آسودگی کے بس وہی چند ٹاپو بچے ہیں جہاں کہانیاں کہنے والے آباد ہیں۔ مرزا صاحب کا یہ ناول کشمیر کی آزادی کے پس منظر میں محبت کی ایک کہانی ہے۔ مگر چونکہ پس منظر آزادی کا ہے اور کہانی بعد میں آتی ہے سو بات، آزادی سے شروع کرنا مناسب ہے۔

Read more

کیا بھگت سنگھ دہشت گرد تھا؟

اصل فیصلے میں تاریخ ، مارچ کی چوبیس ، درج تھی مگر چند ناقابل بیان وجوہات کی بنا پر یہ وقت لگ بھگ سولہ گھنٹے آگے کرنا پڑا۔ جیل کے حکام نے کوشش کی تھی کہ یہ خبر کال کوٹھری کے اندر ہر گز نہ پہنچے سو تینوں اسی طرح اگلے دن کا انتظار کرتے رہے۔ پنجاب میں بہار آ چکی تھی۔ جب دونوں وقت مل رہے تھے اور دادی جے کور بی بی گھڑے ڈھانپ کر اندر جا رہی

Read more

عام آدمی – پریشاں سا پریشاں

میں مجاہد مرزا صاحب سے مل نہیں سکا۔ پار سال، جس روز ہماری ملاقات طے ہوئی، لندن میں فیض میلہ تھا۔ میں پچھلی قطار میں بیٹھا تھا اور مجاہد صاحب، اپنی ہر کہانی کی طرح، اس بار بھی فرنٹ لائین میں تھے۔ میں نے کئی بار کوشش کی کہ انہیں باہر بلا لوں مگر انتظامی امور میں ان کا مرکزی کردار دیکھ کر ایسا نہ کر سکا اور لوٹ آیا۔ اندر خانے ایک خوف یہ بھی تھا کہ اگر ملاقات اچھی نہ رہی تو بالواسطہ پتہ چلنے سے پہلے فیس بک پہ اس کا نتیجہ جلی حروف میں چھپ جائے گا۔

کچھ ہفتے بعد ان کی فوج کی زندگی کے باب چھپنے لگے تو شناسائی کا ایک اور پہلو نکل آیا۔ دس قسطیں جھٹ پٹ گزر گئیں۔ زندگی کے اور ستم جاری تھے کہ اچانک کہیں سے ایک فون آیا اور چند لمحوں بعد مرزا صاحب کی خودنوشت، میرے میل باکس میں موجود تھی۔ مگر یہ سب تو پہاڑی مقام کا راستہ ہے۔ کہ میدانوں سے چلنے والی طویل الجثہ بسوں پہ بیٹھیے، کسی سرد مہر سے راولپنڈی پہنچئے اور وہاں سے کسی نسبتا مختصر ویگن میں بیٹھ کر آہستہ آہستہ شمال کی جانب بڑھ جائیں، چھتر پار کریں تو جہاں پہلی بار ہوا مقطر ملے، وہاں سے پہاڑ کا آنند لینا شروع کیجئے۔ یہ کتاب بھی ایسی ہی ہے۔

Read more

موسوی صاحب اور کوئٹہ کے ہم وطن

نومبر کے آخری ہفتے میں یا شاید دسمبر کے پہلے ہفتے میں۔ کوئٹہ کی ہوا، ایک مخصوص باس سے بھر جاتی ہے۔ کوئلہ کی مہک سے اٹی یہ ہوا، پھر جاڑے تک ساتھ رہتی ہے۔ اس دن مگر اس ہوا میں باروود کی بو تھی، گندھک کی۔ پیلی پڑتی۔ ٹینکر کے ٹائر کی سیاہی رم پہ چمٹ گئی تھی۔ ایک جلی ہوئی موٹر سائکل کے ساتھ سات آٹھ سال کا بچہ انتہائی انہماک سے کچھ کھرچ رہا تھا۔ اپنے ایک ہاتھ میں موجود پتھر سے وہ موٹر سائیکل کے مختلف حصوں کی کھرچن، دوسرے ہاتھ میں موجود سبز رنگ کے مومی لفافے میں ڈالتا جا رہا تھا۔
میں نے بچے سے پوچھا کہ اس شاپر میں کیا ہے۔ کہنے لگا، میرا بھائی ہے۔

Read more

عبدالسلام کا جھنگ

سلطان اور چندر بھان کے علاوہ بھی جھنگ  شہر کے کچھ حوالے ہیں، جن کے بارے میں قومی تاریخ عمدا ً خاموش ہے۔ ایسا ہی ایک حوالہ ڈاکٹر عبدالسلام کا بھی ہے جسے پاکستان کے حافظے سے مذہب کی آڑ میں حذف کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے ذکر پہ شاہی مورخ ایسے ورق پھلانگتا ہے جیسے مقامی سکول میں سائنس پڑھاتے وقت جینیات کے باب کے صفحے جوڑ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ نہ کوئی کھولے گا اور نہ ہی آگے پڑھ پائے گا۔

سنتوک داس کے نواحی قصبے میں پیدا ہونے والے عبدالسلام نے جھنگ کو یوں اپنا گھر بنایا کہ پھر کبھی جائے پیدائش کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا۔ آپ کے والد تعلیم کے محکمے میں تھے اور دادا اپنے وقت کے عالم، سو گھر میں درس و تدریس کا چلن عام تھا ۔ اب خاندان کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ماں باپ نے کوئی خواب دیکھا تھا اور کچھ احباب سناتے ہیں کہ عبدالسلام جب پہلی جماعت  میں داخل ہونے گئے تو سکول ماسٹر نے انہیں سیدھا چوتھی میں بٹھا لیا۔ مگر بچپن کی باتوں سے بے نیاز عبدالسلام کی تعلیمی زندگی کامیابیوں سے مزین تھی۔ جب ہر شخص ان کی کم عمری کے امتحان اور ہر امتحان میں ریکارڈ کی کہانی پوچھتا تو اس وقت کا عبد السلام اوپر انگلی اٹھا کر اللہ کے کرم کا اشارہ کر دیتا۔ یہ انگریز کا دور تھا اور اس وقت پارلیمان کی کمیٹیاں مظاہروں کے زیر اثر لوگوں کے مذہب پہ فیصلے نہیں دیتی تھی سو سب مولویوں کے اس لڑکے کی مثالیں دیا کرتے۔

Read more

زندگی۔ اے زندگی

ایک ہوتی ہے ہنگامہ خیز زندگی۔ جیسے۔ جیسے۔ آپ بیسویں صدی کی اولین دہائیوں میں پیدا ہوں۔ والد ریلوے میں ہوں تو دور افتادہ قصبوں میں آپ ریل کی سیٹی، سننے کی بجائے، اس کے سنائے جانے کا اہتمام کریں۔ شہروں سے دوری کے سبب، ہسپتال یا ڈاکٹر صرف کلکتے سے وابستہ کوئی چیز ہو، سو بیماریوں سے بچنے کے لئے آپ کے والدین، ریل اور گھر، گرہستی سے بچ جانے والا وقت، طب کی کتابوں، مقامی لوگوں کی کہانیوں اور لوک سمجھ بوجھ سے ملنے والے علم کی نذر گزاریں اور ایک ڈھیلی ڈھالی گھریلو حکمت وضع کریں۔

زندگی آپ کو سکول کے راستے، لاہور لے آئے تو آپ مذہب کو دیکھنے والی عینک میں، عقیدت کی بجائے حقیقت کے عدسے جڑوائیں۔ آپ اسلامیہ کالج سے ہوتے ہوئے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج پہنچیں مگر ساتھ ساتھ جلیانوالہ باغ کے شعلے، آپ کی وطنیت کو انچ دینے لگیں اور ششی تھرور سے قریب قریب ایک سو سال پہلے آپ یہ کہنے لگیں کہ ہندوستان کے قحط، غربت اور تعلیم کی عدم دستیابی کی سب سے بڑی وجہ، غیر ملکی راج ہے۔ طب کی مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے آپ انگلستان جائیں اور پھر وہیں کے ہو رہیں تا وقتیکہ آپ کے والد آپ کو ایک چٹھی لکھیں جس میں فیصلہ آپ پہ چھوڑ دیں مگر آپ واپس آ جائیں اور آ کر لاہور کی چھاؤنی میں ایک کیپٹن ڈاکٹر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالیں۔

Read more

سلیم لنگڑے پہ مت رو

کنگز کالج میں وہ سب کچھ ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی لفظی اور لغوی تعریف کے زمرے میں آتا ہے۔ بڑی بڑی راہداریاں، خاموش سیڑھیاں اور حشمت کے قدیم نشان۔ دیوار کی ایک طرف ورجینیا وولف کو اپنا لیا گیا ہے اور دوسری طرف ہگز بوسن والے پیٹر ہگز کی تصویر ہے۔ حالات کے ایک مختصر سے اگر مگر کے بعد اس شام، کنگز کالج سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ کنگز انڈیا انسٹی ٹیوٹ میں چند پڑھنے والوں نے ایک

Read more

محمد حنیف کا نیا ناول ”ریڈ برڈز“

انیس بھائی، ہماری زندگیوں میں فقط پھوپھو کے بیٹے نہیں تھے بلکہ ان زمانوں میں وہ سب کچھ تھے جس کے لئے آج کل تقریبا ڈیڑھ درجن سپر ہیروز درکار ہیں۔ کربلا کے بعد بیبیوں پہ کیا بنی، لیاقت علی خان کو گولی کیوں ماری گئی، قدیر خان کیسے امریکہ کی تمامتر ٹیکنالوجی کے باوجود زندہ بھی ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں، یہ سب باتیں ہمیں انیس بھائی بتاتے تھے۔ بس یوں سمجھیں کہ ہمارے لئے ان کی کہانیاں، تاریخ تھیں اور ان کے خیالات، تعلیم۔

پھر ایک پربھات کے بعد یہ سب بدلنا شروع ہو گیا۔ ہلکی ہلکی سردی کے سبب، چھت پہ سونا موقوف ہو چکا تھا سو انیس بھائی کے ٹاک شوز بھی اگلی گرمیوں تک ملتوی قرار پائے تھے، لیکن اب وہ اکثر اپنی بیٹھک کے سامنے، ہمارے سوئی گیس والے پائپ پہ قدم جما کر بتاتے کہ روس، افغانستان میں بہت ظلم کر رہا ہے، اگر اسے افغانستان میں نہ روکا گیا تو یہ جنگ ہماری گلیوں تک آ جائے گی۔ میں سوچنے لگتا کہ سرفراز کالونی کی گلی نمبر چھ میں روسی سپاہی، ٹینکوں سمیت کیسے پہنچیں گے جب کہ یہاں تو کرولا بہت مشکل سے آتی ہے۔ کچھ دن بعد سکول سے گھر آیا تو دادی، چار موم کے دوپٹے سے آنکھیں پونچھ رہی تھی۔ پتہ چلا انیس بھائی فوج میں جا رہے ہیں۔

Read more

پانی مر رہا ہے

آکسفورڈ کے ڈاکٹر فیصل بتا رہے تھے کہ نیورالوجی کی اپنی ایک دنیا ہے۔ کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں کہ بینائی کھونے کے باوجود ضد کرتے ہیں کہ انہیں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں کبھی کبھار ڈاکٹر، ان کے تیقن کی بنیاد پہ انہیں واپس جانے کی اجازت بھی دے دیتا ہے مگر جونہی وہ کسی دیوار سے ٹکرا کر گرتے ہیں تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہسپتال کی دیوار، ذہن میں اٹھی دیوار سے زیادہ مضبوط

Read more

سروور کی رنگین مچھلیوں کو جان کا خوف نہیں ہے

گریندر پال سنگھ جوسن کی درخواست تھی کہ میں پشاور کے کسی چرنجیت سنگھ سے سر پہ اوڑھنے والے رومال وصول کروں اور ریاض صاحب تک پہنچا دوں جو امریکہ میں ان کے ہمسائے تھے اور ان دنوں پاکستان میں تھے۔ میں نے چرنجیت سنگھ کو فون کیا تو انہوں نے میرے لہجے میں سفر کی معذوری ڈھونڈ لی۔ طے یہ پایا کہ پشاور کی بجائے میں حسن ابدل تک آ جاؤں گا اور وہ گردوارہ پنجہ صاحب میں مجھے

Read more

جب ہیر، باہو، چندر بھان اور عبدالسلام سے جھنگ چھوٹا

جھنگ کی زرخیزی کو وقت کے علاوہ بھی کوئی کلر چاٹ رہا ہے۔ جس مٹی سے صوفی سرشار ہوئے ، وہاں قبروں کے کتبے اکھاڑنے کی نوبت کیونکر آئی۔ یہ شہر جیسا تھا ویسا کیوں نہیں رہا اور جیسا ہے ویسا کیوں ہے، اس سوال کے جواب میں اور بھی بہت سے جواب پوشیدہ ہیں۔ جھنگ کی کہانی حقیقت میں وہ کہانی ہے جس میں مسافروں کے مارے جانے سے سےبچوں کی گردن کاٹنے تک کے سب اسباب مضمر ہیں۔

Read more

صوبے دار شبیر، منظور پشتین اور سرخ جھنڈی

شبیر صاحب، ایک ایسے حوالدار تھے جن کی فراست اور نقشہ بینی پہ کرنل صاحب کو پورا اعتماد تھا۔ ان کی دو باتیں مجھے کبھی نہیں بھولتیں، گرقستان اور لال جھنڈی ۔ پنوں عاقل میں سال کے تین موسم ہوتے تھے۔  گرمی، مزید گرمی اور شدید گرمی۔ 2003 کی گرمیوں کا موسم، 2003 کی مزید گرمیوں میں داخل ہوتا تھا کہ اورئینٹئرنگ (Orienteering)   کے مقابلوں کا اعلان ہو گیا۔ نقشہ، کمپاس اور قطبی ستارے کے آسرے، مختلف مقامات سے ہوتے

Read more