امرتا اور امروز

رنجیت سنگھ کے علاوہ بھی یہاں خالصہ دربار کی نشانیاں ہر سو بکھری پڑی ہیں۔ ہری پور کی بنیاد رکھنے والے ہری سنگھ نلوہ کی حویلی (اب اس جگہ کو اندھوں کی مسجد کہا جاتا ہے) بھی یہیں ہے اور مانسہرہ بسانے والے مہان سنگھ کا گھر بھی۔ مہاراجہ کے ساتھ ایک شکار پہ مہان…

Read more

کشمیر: ”ہم خیریت سے ہیں، آپ عید پہ گھر مت آنا“

مرزا وحید کا ناول ہے۔
The book of gold leaves

حقییقت کے سفاک پانیوں میں اس وقت آسودگی کے بس وہی چند ٹاپو بچے ہیں جہاں کہانیاں کہنے والے آباد ہیں۔ مرزا صاحب کا یہ ناول کشمیر کی آزادی کے پس منظر میں محبت کی ایک کہانی ہے۔ مگر چونکہ پس منظر آزادی کا ہے اور کہانی بعد میں آتی ہے سو بات، آزادی سے شروع کرنا مناسب ہے۔

Read more

کیا بھگت سنگھ دہشت گرد تھا؟

اصل فیصلے میں تاریخ ، مارچ کی چوبیس ، درج تھی مگر چند ناقابل بیان وجوہات کی بنا پر یہ وقت لگ بھگ سولہ گھنٹے آگے کرنا پڑا۔ جیل کے حکام نے کوشش کی تھی کہ یہ خبر کال کوٹھری کے اندر ہر گز نہ پہنچے سو تینوں اسی طرح اگلے دن کا انتظار کرتے…

Read more

عام آدمی – پریشاں سا پریشاں

میں مجاہد مرزا صاحب سے مل نہیں سکا۔ پار سال، جس روز ہماری ملاقات طے ہوئی، لندن میں فیض میلہ تھا۔ میں پچھلی قطار میں بیٹھا تھا اور مجاہد صاحب، اپنی ہر کہانی کی طرح، اس بار بھی فرنٹ لائین میں تھے۔ میں نے کئی بار کوشش کی کہ انہیں باہر بلا لوں مگر انتظامی امور میں ان کا مرکزی کردار دیکھ کر ایسا نہ کر سکا اور لوٹ آیا۔ اندر خانے ایک خوف یہ بھی تھا کہ اگر ملاقات اچھی نہ رہی تو بالواسطہ پتہ چلنے سے پہلے فیس بک پہ اس کا نتیجہ جلی حروف میں چھپ جائے گا۔

کچھ ہفتے بعد ان کی فوج کی زندگی کے باب چھپنے لگے تو شناسائی کا ایک اور پہلو نکل آیا۔ دس قسطیں جھٹ پٹ گزر گئیں۔ زندگی کے اور ستم جاری تھے کہ اچانک کہیں سے ایک فون آیا اور چند لمحوں بعد مرزا صاحب کی خودنوشت، میرے میل باکس میں موجود تھی۔ مگر یہ سب تو پہاڑی مقام کا راستہ ہے۔ کہ میدانوں سے چلنے والی طویل الجثہ بسوں پہ بیٹھیے، کسی سرد مہر سے راولپنڈی پہنچئے اور وہاں سے کسی نسبتا مختصر ویگن میں بیٹھ کر آہستہ آہستہ شمال کی جانب بڑھ جائیں، چھتر پار کریں تو جہاں پہلی بار ہوا مقطر ملے، وہاں سے پہاڑ کا آنند لینا شروع کیجئے۔ یہ کتاب بھی ایسی ہی ہے۔

Read more

موسوی صاحب اور کوئٹہ کے ہم وطن

نومبر کے آخری ہفتے میں یا شاید دسمبر کے پہلے ہفتے میں۔ کوئٹہ کی ہوا، ایک مخصوص باس سے بھر جاتی ہے۔ کوئلہ کی مہک سے اٹی یہ ہوا، پھر جاڑے تک ساتھ رہتی ہے۔ اس دن مگر اس ہوا میں باروود کی بو تھی، گندھک کی۔ پیلی پڑتی۔ ٹینکر کے ٹائر کی سیاہی رم پہ چمٹ گئی تھی۔ ایک جلی ہوئی موٹر سائکل کے ساتھ سات آٹھ سال کا بچہ انتہائی انہماک سے کچھ کھرچ رہا تھا۔ اپنے ایک ہاتھ میں موجود پتھر سے وہ موٹر سائیکل کے مختلف حصوں کی کھرچن، دوسرے ہاتھ میں موجود سبز رنگ کے مومی لفافے میں ڈالتا جا رہا تھا۔
میں نے بچے سے پوچھا کہ اس شاپر میں کیا ہے۔ کہنے لگا، میرا بھائی ہے۔

Read more

ہزارہ- اب ’خوب است‘ کہنے والا کوئی بچا

پانی تقسیم چوک سے آرچرڈ ہاؤس کی طرف جانے والی سٹرک پہ مڑیں تو پہاڑی کے دامن میں ڈھیروں چمکتے جگنو سامنے آ جاتے ہیں۔ کچھ تو اس قدر نزدیک کہ ہاتھ بڑھا کر مٹھی میں قید کیے جا سکئں۔ کوئٹہ مئں یہ تمام جگنو ہزارہ کے نام سے جانے جاتئی ہئں۔ دبیز قالینوں میں دبے گھر ان لوگوں کی درویش صفتی کے عکاس ہیں، نہ مکینوں کو کسی کی باتیں چبھتی ہیں نہ ہی گھر میں کوئی نوکدار چیز ملتی ہے۔ رات کی روٹی اسی دسترخوان میں لپیٹ کر سو جاتے ہیں اور صبح اسی سے ناشتہ کر کے نکل جاتے ہیں۔ ایک ایسے شہر میں جہاں سے 1935 ء کا زلزلہ ابھی تک گیا نہیں، ہزارہ لوگ وہ جگنو ہیں جو اپنے مخصوص ”خوب است۔ خوب است“ سے پورے شہر کو اجالتے پھرتے ہیں۔

Read more

عبدالسلام کا جھنگ

سلطان اور چندر بھان کے علاوہ بھی جھنگ  شہر کے کچھ حوالے ہیں، جن کے بارے میں قومی تاریخ عمدا ً خاموش ہے۔ ایسا ہی ایک حوالہ ڈاکٹر عبدالسلام کا بھی ہے جسے پاکستان کے حافظے سے مذہب کی آڑ میں حذف کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے ذکر پہ شاہی مورخ ایسے ورق پھلانگتا ہے جیسے مقامی سکول میں سائنس پڑھاتے وقت جینیات کے باب کے صفحے جوڑ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ نہ کوئی کھولے گا اور نہ ہی آگے پڑھ پائے گا۔

سنتوک داس کے نواحی قصبے میں پیدا ہونے والے عبدالسلام نے جھنگ کو یوں اپنا گھر بنایا کہ پھر کبھی جائے پیدائش کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا۔ آپ کے والد تعلیم کے محکمے میں تھے اور دادا اپنے وقت کے عالم، سو گھر میں درس و تدریس کا چلن عام تھا ۔ اب خاندان کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ماں باپ نے کوئی خواب دیکھا تھا اور کچھ احباب سناتے ہیں کہ عبدالسلام جب پہلی جماعت  میں داخل ہونے گئے تو سکول ماسٹر نے انہیں سیدھا چوتھی میں بٹھا لیا۔ مگر بچپن کی باتوں سے بے نیاز عبدالسلام کی تعلیمی زندگی کامیابیوں سے مزین تھی۔ جب ہر شخص ان کی کم عمری کے امتحان اور ہر امتحان میں ریکارڈ کی کہانی پوچھتا تو اس وقت کا عبد السلام اوپر انگلی اٹھا کر اللہ کے کرم کا اشارہ کر دیتا۔ یہ انگریز کا دور تھا اور اس وقت پارلیمان کی کمیٹیاں مظاہروں کے زیر اثر لوگوں کے مذہب پہ فیصلے نہیں دیتی تھی سو سب مولویوں کے اس لڑکے کی مثالیں دیا کرتے۔

Read more

زندگی۔ اے زندگی

ایک ہوتی ہے ہنگامہ خیز زندگی۔ جیسے۔ جیسے۔ آپ بیسویں صدی کی اولین دہائیوں میں پیدا ہوں۔ والد ریلوے میں ہوں تو دور افتادہ قصبوں میں آپ ریل کی سیٹی، سننے کی بجائے، اس کے سنائے جانے کا اہتمام کریں۔ شہروں سے دوری کے سبب، ہسپتال یا ڈاکٹر صرف کلکتے سے وابستہ کوئی چیز ہو، سو بیماریوں سے بچنے کے لئے آپ کے والدین، ریل اور گھر، گرہستی سے بچ جانے والا وقت، طب کی کتابوں، مقامی لوگوں کی کہانیوں اور لوک سمجھ بوجھ سے ملنے والے علم کی نذر گزاریں اور ایک ڈھیلی ڈھالی گھریلو حکمت وضع کریں۔

زندگی آپ کو سکول کے راستے، لاہور لے آئے تو آپ مذہب کو دیکھنے والی عینک میں، عقیدت کی بجائے حقیقت کے عدسے جڑوائیں۔ آپ اسلامیہ کالج سے ہوتے ہوئے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج پہنچیں مگر ساتھ ساتھ جلیانوالہ باغ کے شعلے، آپ کی وطنیت کو انچ دینے لگیں اور ششی تھرور سے قریب قریب ایک سو سال پہلے آپ یہ کہنے لگیں کہ ہندوستان کے قحط، غربت اور تعلیم کی عدم دستیابی کی سب سے بڑی وجہ، غیر ملکی راج ہے۔ طب کی مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے آپ انگلستان جائیں اور پھر وہیں کے ہو رہیں تا وقتیکہ آپ کے والد آپ کو ایک چٹھی لکھیں جس میں فیصلہ آپ پہ چھوڑ دیں مگر آپ واپس آ جائیں اور آ کر لاہور کی چھاؤنی میں ایک کیپٹن ڈاکٹر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالیں۔

Read more

جنرل نیازی کا پستول اور قومی مفاد

دسمبر کی ایک رات تھی۔ صلاح الدین کمپنی کے لان کے باہر پوری پلاٹون کھڑٰی تھی۔ عمومی طور پہ سردیوں میں اس طرح کا اجتماع، موزے، جوتے اور قمیض سے بے نیاز ہوا کرتا ہے مگر ہمیں حکم تھا کہ پی ٹی کٹ، پل اوور، ٹریک سوٹ اور جتنے کپڑے اس کے اوپر پہنے جا سکتے ہیں، پہنے جائیں تا کہ وزن کم کرنے میں مدد مل سکے۔  جونہی سینئیر جنٹلمین کیڈٹ نے کارپورل کو تمام لوگوں کے حاضر ہونے کی خبر سنائی۔  طویل قامت کارپورل میں کوئی اور ہی روح حلول کر گئی۔ وہ گرجے

Gen Niazi s pistol is still at Indian Military Academy. Who will bring it back?

(جنرل نیازی کا ریوالور بھارت کی ملٹری اکیڈمی مین رکھا ہے۔ تم میں سے کون اسے واپس لائے گا؟)

Read more

سلیم لنگڑے پہ مت رو

کنگز کالج میں وہ سب کچھ ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی لفظی اور لغوی تعریف کے زمرے میں آتا ہے۔ بڑی بڑی راہداریاں، خاموش سیڑھیاں اور حشمت کے قدیم نشان۔ دیوار کی ایک طرف ورجینیا وولف کو اپنا لیا گیا ہے اور دوسری طرف ہگز بوسن والے پیٹر ہگز کی تصویر ہے۔ حالات کے ایک مختصر…

Read more