سفید فام ڈینٹسٹ اور سیاہ فام ماما انجیلو کی نواسی


’ میں جانتی ہوں ڈینٹسٹ لنکن لیکن یہ تو میری معصوم نواسی ہے اسے دیکھنے سے آپ کو کسی قسم کے مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا‘

’اینی ہر شخص کے اپنے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں زندہ رہنے کے لیے کچھ پالیسی ہونی چاہیے اور میرا اصول یہ ہے کہ میں نیگرو لوگوں کا علاج نہیں کرتا‘
دھوپ کہ وجہ سے ماما کی جلد اور بالوں پر تیل ابھر آیا تھا۔ وہ ڈینٹسٹ کے سامنے کی طرف لپکیں ’ڈینٹسٹ لنکن! یہ بے ضرر بچی ہے اس کا علاج بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ آپ پر ایک دو مہربانیاں ادھار بھی ہیں‘

اس کا چہرہ چند لمحوں کے لیے سرخ ہو گیا۔ ’مہربانی یا نا مہربانی۔ تمہارے پیسے تمہیں واپس مل چکے ہیں۔ بس اب معاف کرو اینی‘ اس نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ’معاف کرنا‘ اس نے دروازہ بند کرنا چاہا۔

ماما ایک قدم آگے بڑھیں ’میں تمہیں اتنا زور نہ دیتی اگر میری اپنی بات ہوتی لیکن یہ میری نواسی کا معاملہ ہے۔ جب تم مجھ سے قرض لینے آئے تھے تو تمہیں بھیک نہیں مانگنی پڑی تھی۔ تم نے کہا تھا کہ اگر تم نے پیسے نہ دیے تو تمہاری یہ بلڈنگ تم سے چھین لی جائے گی اور میں نے تمہیں فوراٌ رقم دے دی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ پیسے قرض دینا میرے اصول کے خلاف ہے‘

’تمہاری رقم ادا ہو چکی ہے اور اب تمہارے شور مچانے سے میں اپنا فیصلہ بدلنے سے رہا۔ میرا اصول۔ ‘ اس نے دروازہ چھوڑ دیا اور میرے اور میری ماما کے قریب آ گیا۔ اس چھوٹے سے تختے پر ہم تینوں کھڑے تھے ’میرا اصول ہے کہ میں کسی کتے کے منہ میں ہاتھ ڈالوں گا لیکن کسی نیگرو کے منہ میں نہیں۔ ‘

اس نے ایک دفعہ بھی میری طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ وہ مڑا اور دروازے سے ہوتا ہوا سرد برآمدے میں چلا گیا۔ ماما چند لمحوں کے لیے سکڑیں۔ میں نے ماما کو کبھی ایسی حالت میں نہ دیکھا تھا۔ انہوں نے دروازہ کھولا۔ مجھ سے کہنے لگیں ’تم تھوڑی دیر کے لیے نیچے چلی جاؤ میں ابھی آتی ہوں‘

میں نے ماما سے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا۔ میں نیچے چلی گئی۔ میں اتنی خوفزدہ تھی کہ پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی چاہتی تھی اور نہیں بھی۔ دروازہ دھڑام سے بند ہوا اور ماما اندر چلی گئیں۔
ماما کمرے میں ایسے داخل ہوئیں جیسے وہ اس کی مالکہ ہوں۔ انہوں نے ایک ہاتھ سے اس نرس کو راستے سے ہٹایا اور دندناتی ہوئی ڈینٹسٹ کے دفتر میں گھس گئیں۔ وہ اپنے ذلیل اوزاروں کو ٹھیک کر رہا تھا۔ ماما کی آنکھیں دہکتے کوئلوں کی طرح سرخ تھیں اور ان کے بازو دگنے لمبے ہو گئے تھے۔ اس نے ماما کو اس وقت دیکھا جب ماما نے زور سے اس کی سفید جیکٹ کے کالر سے اس کو پکڑا اور کہا ’جب کسی معزز عورت کا سامنا ہو تو ادب سے کھڑے ہو جاتے ہیں او بدمعاش او بد تمیز‘ ماما کا ایک ایک لفظ بجلی بن کر اس پر گرا۔

ڈاکٹر ایک ادنیٰ سپاہی کی طرح کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنا سر جھکایا اور ادب سے بولا ’میں کیا خدمت کر سکتا ہوں مسز اینڈرسن؟ ‘
’تم بیوقوف آدمی ہو۔ تم میں اتنی تمیز نہیں جو میری نواسی کے سامنے اس طرح کی باتیں کیں‘ ماما نے اسے زور سے پکڑا ہوا تھا۔

’نہیں میڈم اینڈرسن‘ وہ بہت کھسیانا ہو رہا تھا۔
’کیا بکواس کر رہے ہو‘ ماما نے اسے زور سے جھٹکا دیا۔
’میڈم۔ مسز اینڈرسن۔ میں معذرت خواہ ہوں‘

’اب تمہیں معافی مانگتے شرم نہیں آتی۔ میں نے تم سے زیادہ بے شرم ڈینٹسٹ آج تک نہیں دیکھا‘
ماما نے تحکمانہ انداز سے بات کرتے ہوئے کہا ’ میں نے مارگریٹ کے سامنے تمہیں معذرت خواہی کو نہیں کہا۔ میں اسے نہیں بتانا چاہتی کہ میں کس قدر طاقت کی مالک ہوں لیکن میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ تم سورج غروب ہونے سے پہلے اس گاؤں سے نکل جاؤ‘
’مسز ہنڈرسن! لیکن میں اتنی جلد اپنا سامان۔ ‘ وہ گھگھیا رہا تھا اور کانپ رہا تھا۔

’دوسری بات یہ ہے کہ جب تم کسی اور گاؤں یا شہر میں دکان کھولو گے تو تمہیں ڈنٹسٹری کی اجازت نہیں ہوگی تم صرف کتوں بلیوں کا علاج کرو گے‘
ڈینٹسٹ کے منہ سے لعابِ دہن بہنے لگا اور آنکھوں سے آنسو۔ ’اچھا میڈم اچھا۔ میں شکر گزار ہوں کہ تم نے مجھے قتل نہیں کر دیا مسز ہنڈرسن۔ شکریہ‘
ماما جو اس وقت دس فٹ لمبی تھیں اور آٹھ فٹ بازو رکھتی تھیں باہر نکلتے ہوئے بولیں ’ میں تمہاری شکل سے بھی بیزار ہوں‘ کمرے سے نکلتے ہوئے ماما نے نرس کی طرف رومال ہلایا اور وہ گوبر کا ڈھیر بن گئی۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے "اگلا صفحہ” پر کلک کریں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail