سفید فام ڈینٹسٹ اور سیاہ فام ماما انجیلو کی نواسی
ماما جب نیچے پہنچیں تو تھکی تھکی لگ رہی تھیں۔ ایسے حالات کا سامنا کر کے کون نہیں تھکے گاْ۔ میں نے سوچا۔ وہ میرے قریب آئیں اور بڑی نرمی سے میرا تولیہ درست کیا میری انگلی پکڑی اور بولیں ’چلو بیٹا چلتے ہیں‘
پہلے میں سمجھی گھر لوٹ رہے ہیں لیکن ڈرگ سٹور کے پاس پہنچ کر کہنے لگیں ’ میں تمہیں شہر لے جا رہی ہوں جہاں ڈینٹسٹ بیکر تمہارا علاج کریں گے‘
ہم گرے ہاؤنڈ بس میں بیٹھ کر سفر پر روانہ ہوئے۔ ماما اور میں پچھلی سیٹ پر بیٹھے۔ مجھے کتنا فکر تھی کہ میں ماما کی نواسی تھی اور ان کے پہلو میں بیٹھ کر ان کی شخصیت کا سحر جذب کر رہی تھی۔ ماما نے پوچھا کہ کیا مجھے ڈر لگ رہا تھا اور میں نے ماما کا سڈول بازو زور سے تھام لیا۔ ماما نے کبھی مجھے اتنا قریب نہ رکھا تھا۔
جب ہم سیاہ فام ڈینٹسٹ کے پاس پہنچے تو وہ بڑی مہربانی سے پیش آیا۔ اس نے مجھے دوا دکھائی پھر انجکشن دکھایا اور میرے مسوڑھے سن کر دیے۔ اس کے بعد اس نے درد کرنے والا دانت نکال دیے۔ ماما میرے قریب کھڑی اپنی ہمدرد آنکھون سے یہ سب دیکھ رہی تھیں۔ بعد میں ماما نے مجھے آئس کریم کھانے کو دی۔ واپسی کا سفر قدرے پر سکون تھا۔
میں گھر پہنچی تو میں نے نمک کے پانی سے منہ دھویا۔ پھر میں نے اپنے انکل BILLY کو اپنا منہ دکھایا۔ میرے دانتوں میں خون جما ہوا تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ میں بہت بہادر ہوں۔
اس طرح ہمیں ڈاکٹر کی باتیں کرنے کا موقع ملا۔ یہ تو سچ ہے کہ میں نے ماما اور ڈاکٹر کی گفتگو نہ سنی تھی لیکن میرے خیال میں اور ہو بھی کیا سکتی تھی۔ میں نے جب اپنے انکل کو سنائی تو انہوں نے ہلکے سے سر ہلایا۔ ماما شام کا کھانا تیار کر رہی تھیں۔ انکل منتظر تھے کہ ماما انہیں دن کی روداد سنائیں۔
ماما نے انہیں بتایا ’ڈینٹسٹ لنکن بہت ناراض تھا۔ کہنے لگا میں کتے کے منہ میں ہاتھ ڈال دوں گا لیکن نیگرو کے منہ میں نہیں۔ جب میں نے اسے مہربانہی یاد دلائی تو اس نے نظر انداز کر دیا۔ چنانچہ میں نے بچی کو نیچے بھیجا اور اس کے دفتر کیں چلی گئی۔ میں پہلے کبھی اندر نہ گئی تھی۔ میں وہاں کھڑی رہی جب تک ڈاکٹر نے مجھے نہ دیکھ لیا۔ کہنے لگا ’ اینی میں نے تمہیں پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ میں نیگرو کا علاج نہیں کرنے کا‘
’کوئی تو کرے گا‘ میں نے کہا
’اسے شہر لے جائے وہاں کوئی سیاہ فام ڈاکٹر اسے دیکھ لے گا‘
’اگر تم مجھے میری رقم دے دو تو میں لے جانے کے قابل ہو سکوں‘
’لیکن میں تو تمہیں دے چکا ہوں‘
’لیکن تم نے سود ادا نہیں کیا‘
’اس پر کوئی سود نہ تھا‘
’نہیں تھا لیکن اب ہے‘
اس نے نرس سے کہا کہ مجھے دس ڈالر دے کر رسید لے لے کہ ساری رقم ادا کر دی گئی ہے۔ میں نے دل میں سوچا کہ اگر وہ ہمارے ساتھ ایسا سلوک کرے گا تو اسے اس کی قیمت بھی ادا کرنی ہوگی‘
ماما اور انکل ایسی باتیں کر کے کافی دیر تک ہنستے رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مجھے اپنی کہانی زیادہ پسند ہے
