عورتوں کے پیشے۔۔۔
جب میں نے لکھنا شروع کیا تو بہت جلد میری اس سے مڈ بھیڑ ہوئی۔ مجھے کاغذ پر اس کے پروں کی پرچھائیاں نطر آتیں اور کمرے میں اس کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی۔ جب میں نے ایک مشہور مرد ناول نگار کے ناول پر تبصرہ لکھنا شروع کیا تو اس نے سرگوشی کی ’میری پیاری! تم ایک نوجوان عورت ہو۔ تم ایک ایسی کتاب پر قلم اٹھا رہی ہو جو ایک مرد کی تحریر کردہ ہے۔ احتیاط سے کام لینا۔ تھوڑی سی تعریف‘ تھوڑی سی غلط بیانی اور اپنی جنس کا بہت سا عشوہ و انداز و ادا استعمال کرنا۔ کبھی کسی پر یہ ظاہر نہ ہونے دینا کہ تمہارا اپنا ایک نظریہ حیات ہے اور سب سے مقدم یہ کہ طہارت کا لبادہ اوڑھے رکھنا۔ اس نے میری قلم کی رہنمائی کرنی چاہی۔ اس مرحلے پر میں ایک لحاظ سے خوش قسمت تھی ۔ میرے آبا و اجداد نے میرے لیے اتنی رقم چھوڑی تھی کہ مجھے سال کے پانچ سو پونڈ مل جاتے تھے اس لیے میری زندگی کا دارومدار میری تحریروں اور عشوہ و اندازو ادا پر نہ تھا۔ میں نے بڑھ کر اسے گلے سے دبوچ لیا اور اسے جان سے مارنے کی پوری کوشش کی۔ اگر کوئی مجھے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتا تو میں کہتی کہ وہ اقدامات میں نے اپنی ذات کے دفاع کے لیے کیے تھے۔ اگر میں اسے قتل نہ کرتی تو وہ مجھے قتل کر دیتی۔ وہ میری تحریروں سے ان کا دل نوچ لیتی۔ ان کی روح چھین لیتی۔ مجھے احساس ہو گیا تھا کہ کسی کے ناول پر بھی رائے دینا اتنا آسان نہیں۔ جب تک انسان کا اپنا کوئی نظریہ نہ ہو انسانی تعلقات‘ اخلاقیات‘ جنسی روابط کے بارے میں رائے نہ ہووہ چھوٹی سی تحریر بھی ٹھیک سے نہیں لکھ سکتا۔ ’گھریلو فرشتے‘ کی نظر میں عورتیں یہ کام نہیں کر سکتیں۔ اس کے خیال میں اگر عورتوں کو ترقی کرنی ہے تو انہیں تصنع اور جھوٹ کی زندگی گزارنی ہوگی۔ اس لیے جب بھی مجھے کاغذ پر اس کے پروں کا عکس یا پرچھائیاں نظر آئیں میں نے وہیں سیاہی کی دوات الٹ دی۔ اس نے سسک سسک کر جان دے دی۔ ایک آسیب کا قتل ایک حقیقت کے قتل سے کہیں زیادہ دشوار ہے۔ وہ چھپ چھپ کر میری تحریروں میں رینگ آتی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ بالآخر میں اسے ختم کرنے میں کامیاب رہی لیکن مقابلہ بہت سخت تھا۔ میں نے جو وقت اس کے ساتھ نبردآزما ہونے میں صرف کیا وہ میں کہیں بہتر کاموں میں صرف کر سکتی تھی۔ میں یونانی سیکھ سکتی تھی۔ میں زندگی کے کئی اور معرکے سر کر سکتی تھی لیکن مجھے اس سے جبگ کیے بغیر چارہ نہ تھا اور صرف مجھے ہی نہیں اس دور کی ہر مصنفہ کو اس ’گھریلو فرشتے‘ سے مقابلہ کرنا ضروری تھا بلکہ اسے قتل کرنا مصنفہ بننے کے پیشے کے لیے اہم تھا۔
میں ایک دفعہ پھر اپنی کہانی کی طرف لوٹتی ہوں۔ وہ ’فرشتہ‘ مر گئی تو پھر باقی کیا بچا؟ خوابگاہ میں کاغذ اور دوات کے سامنے بیٹھی ہوئی جوان عورت۔ جس نے جھوٹ سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے۔ وہ اب اپنے دل کی حقیقت اور ذات کی سچائی لکھ سکتی ہے۔ لیکن اس کی دل کی ’حقیقت‘ کیا ہے ذات کا ؔسچ‘ کیا ہے؟۔ میرا مطلب ہے عورت کی حقیقت کیا ہے؟ اس کا سچ کیا ہے؟ میں نہیں جانتی اور مجھے یقین ہے کہ آپ بھی نہیں جانتیں اور میرا ایمان ہے کہ وہ حقیقت اس وقت تک نہیں جانی جا سکتی جب تک اس کے سب رنگ ان تمام فنون اور پیشوں میں نہ بکھیر دیے جائیں جو انسان نے آج تک سیکھے ہیں۔ اسی لیے میں آج آپ سب کے سامنے حاضر ہوئی ہوں۔ احترام کے ساتھ۔ آپ وہ عورتیں ہیں جو اپنے تجربات اور اپنی ناکامیوں اور اپنی کامیابیوں کے ساتھ اس خاکے میں رنگ بھریں گی جس سے عورت کی حقیقت اور تشخص اجاگر ہوگا۔
میں اپنے پیشہ ورانہ تجربات کی کہانی کو ایک قدم آگے بڑھاتی ہوں۔ مجھے پہلے اپنے مضمون پر جو تھوڑی سی رقم ملی میں نے اس کی بلی خرید لی۔ ایک بلی بہت اچھی چیز ہے لیکن کافی نہیں۔ ’مجھے ایک موٹر کار خریدنی چاہیے‘ یہ سوچا تو میں نے ناول لکھنے شروع کیے۔ یہ عجیب بات کہ آپ لوگوں کو کہانی سنائیں اور وہ آپ کو کار خریدنے کا موقع دیں اور اس سے بھی عجیب تر یہ کہانیاں سنانے سے زیادہ دلچسپ اور کوئی بات نہیں۔ کسی کے ناول پر تبصرہ لکھنے سے کہیں زیادہ دلچسپ۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


