شیرو کو کیوں نکالا؟

لیکن پہلے اس کے پس منظر اور خان صاحب کی سیاسی جدوجہد کا کچھ بیان ہو جائے۔ سنہ 2011 میں مینار پاکستان کے جلسے نے تخت لاہور پر قابض شریف خاندان کی نیندیں اڑا دی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ لاہور سے پیپلز پارٹی کا مکمل طور صفایا کرنے کے بعد اور سنہ 1985 سے پنجاب حکومت کے افسران اور عمومی و زرعی اہلکاروں کی اپنے ہاتھ سے بھرتی کے بعد اب وہ پنجاب میں ناقابل شکست ہو چکے ہیں۔ لیکن خان صاحب کے اس جلسے نے ان کی خام خیالی کو کاری ضرب لگائی اور وہ اپنی سیاسی بقا کے خوف سے لرزنے لگے۔ اس کے بعد انہوں نے وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔ سازشیں اور پروپیگنڈا۔

سوال یہ تھا کہ تحریک انصاف کی یہ خفیہ حکمت عملی مسلم لیگ ن تک کیسے پہنچ رہی تھی؟ ہمارے تجزیے کے مطابق عمران خان صاحب کے قریبی لوگوں میں تو شریف خاندان اپنے ایجنٹ داخل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا مگر نہایت قابل اعتماد لوگوں سے کی جانے والی مشاورت کیسے شریف خاندان تک پہنچتی تھی؟ سرتوڑ کوشش کے باوجود عمران خان یہ معلوم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ سنا ہے کہ بنی گالہ کی کئی مرتبہ مکمل تلاشی لی گئی مگر ایسا کوئی سراغ نہ ملا کہ ادھر بگنگ کر کے مشاورت ریکارڈ کی جا رہی ہو۔ نتیجہ یہ کہ عمران خان پے در پے انتخابی شکستیں کھاتے رہے۔ جس جنگ کا مکمل منصوبہ دشمن کے پاس پہنچ جائے وہ کیسے جیتی جا سکتی ہے؟
جب سائنس فیل ہو جائے تو روحانیت کام آتی ہے۔ جہاں عقل کی حد ختم ہو جائے تو پھر ہی روحانی مظاہر کا ظہور ہوتا ہے۔ خان صاحب نے روحانیت کے دربار میں یہ سوال ڈالا تو جو جواب آیا وہ حیرت انگیز تھا۔ حکم ہوا کہ شیرو کو گھر سے نکال دو۔ ہم نام یاد رکھنے میں کاہل ہیں۔ خان صاحب کے مشہور ترین کتے کا نام شیرو تھا اس لئے ہم ان کے تمام کتوں کو شیرو ہی سمجھتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ریحام خان سے جب خان صاحب کے تعلقات کشیدہ ہوئے تو صحافیوں تک ان کے بیڈ روم کی خبریں کیسے پہنچیں؟ یہ کیسے پتہ چلا کہ تعلقات خراب ہیں؟ یہ خبر کس بنیاد پر دی گئی کہ ریحام خان تشدد کی طرف مائل ہیں؟ خان صاحب سے سو اختلاف سہی، ان کی بدزبانی سے لوگ ہزار مرتبہ شاکی ہوں، مگر ان کی اس بات کی تعریف دشمن بھی کرتے ہیں کہ عورت کا معاملہ ہو تو ان کی زبان بند رہتی ہے اور وہ بڑے سے بڑا الزام بھی اپنے سر پر لے کر عورت کی عزت کا تحفظ کرتے ہیں۔ پھر اس جگہ کی خبریں صحافیوں تک کون پہنچا رہا تھا جہاں ریحام خان اور خان صاحب کے علاوہ کوئی دوسرا انسان موجود نہیں تھا؟ خان صاحب اپنی زبان بند رکھتے ہیں۔ تو کیا ریحام خان نے یہ خبریں میڈیا کو دی تھیں؟ یہ ناممکن امر ہے۔ پھر کون یہ خبریں دے رہا تھا؟

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے "اگلا صفحہ” پر کلک کریں

