ہڑپہ کا پانچ ہزار سالہ جوان مچھیرا

ہماری خوش قسمتی کہ ہڑپہ میوزیم کے کیوریٹر محمد حسن صاحب نے ہمیں اپنی مسکراہٹ، سادگی اور فراخ دلی سے خوش آمدید کہا۔ گزشتہ کئی برس سے وہ ایک محنتی، ایماندار، اور قابل اعتبار محقق اور ماہر آثار قدیمہ کے طور پہ ہزاروں سال قبل بیتی زندگی کو آشکار کر رہے ہیں۔ وہ ہمیں میوزیم میں پڑی نوادرات اور ہڑپائی تہذیب کے بارے بریف کر رہے تھے۔ گویا علم و آگہی کا دھارا بہہ رہا تھا اور ہم سراپا شرابور ہوئے جاتے تھے۔
وہ بتا رہے تھے کہ ہڑپہ سے 3500 سے 1500 قبل مسیح کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ 1857 سے پہلے انگریز دور میں یہ آثار ملے تھے۔ لہذا موہنجوداڑو سمیت جہاں بھی اس دور کے آثار دریافت ہوئے ان سب کو ’ہڑپہ کی تہذیب‘ میں شامل کیا جاتا ہے۔ برطانوی دور میں لاہور سے ملتان ریلوے لائن بچھائی گئی تو ہڑپہ سے گزرنے والی لائن کے لئے ہڑپہ کھنڈرات سے اینٹوں کو استعمال کیا گیا۔ قدیم دور کے لوگ کب جانتے تھے کہ ان کے ہاتھوں کی بنی اینٹیں چار پانچ ہزار سال بعد ان کے درو دیوار سے چوری کر لی جائیں گی اور ان پہ لمبی گاڑی چھک چھک گزرتی رہے گی۔
ہڑپہ کے مقامی لوگوں نے بھی یہاں سے اینٹیں اٹھائیں اور اپنے گھروں کی تعمیر میں استعمال کیا۔ 1920 میں اس جگہ کو ’محفوظ علاقہ‘ قرار دیا گیا۔ اس علاقے کے صرف دس فیصد حصے پہ کھدائی کا کام ہوا ہے۔ کھدائی سے برآمد ہونے والے نوادرات میوزیم میں رکھے ہیں جو وادی سندھ کی شاندار اور منظم تہذیب کی داستاں خاموشی سے سنا رہے ہیں۔ ہڑپہ میوزیم کا آغاز 1926 میں ہوا۔
ہڑپہ کھنڈرات سے ملنے والے برتن ہماری قدیم سر زمین کے ہنر مند ظروف سازوں کے لاجواب فن کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان میں اناج ذخیرہ کرنے کے بڑے برتن، مخروطی شکل کے گلاس، پرچ پیالیاں، رکابی، کفگیر، گھڑے اور مرتبان وغیرہ شامل ہیں۔ برتنوں پر سرخ رنگ سے بیل بوٹے، دائرے، گلدان اور مچھلی کے پر بنائے گئے ہیں۔ برتن بنانے اور استعمال کرنے والے آج یہاں نہیں ہیں مگر ان کے برتن ان کی کہانی سنانے کے لیے آج بھی موجود ہیں۔
یہاں مٹی سے بنی انسانی مورتیاں ملی ہیں جن میں اکثریت عورتوں کی مورتیوں کی ہے جنہوں نے صرف کمر پٹی یا زیر جامہ کولہوں پہ لپیٹ رکھا ہے۔ سر کے پچھلے حصے پر دستی پنکھے سے مشابہہ لباس پہنا ہوا ہے۔ بالوں کو الگ الگ انداز سے گوندھا گیا ہے اور زیورات سے سجایا گیا ہے۔ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ مورتیاں ان مقدس دیوماتائی مورتیوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو عراق، ایران اور مصر سے بڑی تعداد میں ملی ہیں۔
ہڑپہ میوزیم میں شیشے کے پیچھے پڑی ان مقدس مورتیوں پہ آج چڑھاوے نہیں چڑھتے، ان سے مرادیں پانے کی دعائیں نہیں مانگی جاتیں لیکن وہ آج بھی ہر دیکھنے والے کو مسحور کر دیتی ہیں۔ پوجا کرنے والے باقی نہ رہے، ان بتوں کا سحر ضرور باقی ہے۔
یہ مورتیاں پتہ دیتی ہیں کہ اس دور کا انسان بھی آج کے انسان کی طرح موت، بیماری، مجبوری اور زندگی کے گورکھ دھندوں سے اتنا لاچار تھا کہ اس نے اپنے ہی ہاتھوں مٹی کی مورتیاں گھڑ لیں اور ان سے ہر دکھ ٹالنے کی امیدیں باندھ لیں۔
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیازمندی سے
بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
میوزیم میں پڑے زیورات کو دیکھ کر حیرت گم ہو جاتی ہے کہ اتنے ہزار سال پہلے کا انسان اتنا عمدہ ذوق رکھتا تھا۔ پتھروں کو اتنا دلکش تراشا گیا ہے کہ آج کل کی مشینین بھی انگشت بدنداں ہو جائیں۔ جاذب نظر کنگن، ہار، چوڑیاں، مالا اور پازیب آپ کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ تانبے کو پالش کر کے آئینے کے طور پہ استعمال کیا جاتا تھا۔ ہاتھی دانت سے بنی کنگھی، سرمہ سلائی اور سرمہ دانی کا استعمال ان کا معمول تھا۔
کھیلوں کے سامان میں مٹی کے گیند، اور چیس سے ملتے جلتے کھیل کے شواہد بھی ملے ہیں۔ بچوں کے لئے گھگھو گھوڑے بھی ہیں جن میں بیل گاڑی نمایاں ہے۔
پکی مٹی سے بنا فلٹر بھی کھنڈرات سے ملا تھا جس سے پانی صاف کرنے کا کام لیا جاتا تھا۔ پتھروں سے تراشے دیدہ زیب باٹ ان کے اوزان کے نظام کے بارے معلومات دیتے ہیں۔
مربع اور مستطیل شکل کی چھوٹی بڑی مہریں اور ٹھپے بھی ہڑپہ کے کھنڈرات سے دریافت ہوئے ہیں۔ ان پر جانوروں، خیالی مخلوق اور نیم دیوتا کی شبیہوں کی خاکہ کشی کی گئی ہے۔ یونی کارن جانور کی شبیہہ اکثر مہروں پہ ملتی ہے۔ شاید یہ جانور ان کے ہاں مقدس تصور کیا جاتا ہو۔ مہروں پہ باریک نقش و نگار کے علاوہ کچھ الفاظ بھی کندہ کیے گئے ہیں۔ محمد حسن نے بتایا کہ ان الفاظ کو پڑھنے کی تگ و دو جاری ہے جس مین ابھی کامیابی نہیں ملی۔ ابھی تک 170 کے قریب حروف کو سمجھا جا چکا ہے مگر بقیہ حروف کو نہ پڑھ سکنے کی وجہ سے پورا لفظ نہیں پڑھا جا سکتا۔ اس سے لگتا ہے کہ ان کی زبان میں 170 سے بھی زائد حروف تہجی کا استعمال تھا۔
میں حیراں تھا کہ زبانیں یوں بھی گونگی ہو سکتی ہیں کہ ایک لفظ بھی سمجھا نہ سکیں! اور چیزوں پہ کندہ شکلیں اتنی باتونی ہو سکتی ہیں کہ ان سے ہزار داستانیں سنائی پڑتی ہوں۔
ہڑپہ کے قدیم کھنڈروں میں ہمیں یہ تک بتا دیا کہ اس زمانے کے لوگ تدفین کیسے کرتے تھے۔ ہڑپائی لوگ میت کو کپڑے میں کفنا کر لکڑی کے تابوت میں رکھتے تھے اور تابوت کو دفن کر دیتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ مردے کے ساتھ کچھ مٹکوں میں خوراک اور مشروب بھی دفن کر دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوتا ہے۔ تبھی تو اس کی بھوک اور پیاس بجھانے کا سامان مہیا کر دیا جاتا تھا۔ ہڑپہ قبرستان سے ملنے والے یہ مٹکے اور انسانی ڈھانچے انسان کی ہمیشہ زندہ رہنے یا مرنے کے بعد بھی زندگی پانے کی ازلی خواہش کا استعارہ ہیں۔ انسان مر جاتے ہیں مگر نہ مرنے کی خواہش ہمیشہ سے زندہ ہے۔
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
پتھروں کو تراش کر بنائے گئے چھری چاقو جیسے آلات حیران کن ہیں۔ معلوم ہوا کہ پتھروں کو اتنا شارپ تراشا گیا تھا کہ ان سے شیو بنائی جا سکتی ہے۔ تانبے کے کچھ ہتھیار ہڑپائی لوگوں کی زندگی کے کچھ دفاعی پہلو کا عکس دکھا رہے ہیں۔
گیلری میں دو انسانی ڈھانچے بھی رکھے گئے ہیں جو اس قبرستان سے لیے گئے جو ہڑپہ کے کھنڈرات سے مادھو سروپ واٹس کی 1926 سے 1934 تک کی کھدائی سے دریافت ہوا۔ ایک ڈھانچہ عورت کا ہے جو کبھی اس علاقے کے جیون بگھیا کی مسافر تھی۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ اس کی موت زچگی کے دوران ہوئی تھی۔
مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی
کسی موڑ پر پھر ملاقات ہو گی
دوسرے ڈھانچے کے بارے میں دلچسپ باتیں تحقیق میں سامنے آئیں ہیں۔ درمیانے قد کا یہ ڈھانچہ ایک مرد کا ہے جو تقریبا تین ہزار قبل مسیح دور میں موجودہ ہڑپہ کے علاقے میں رہتا تھا۔ یہ شخص لیفٹ ہینڈر تھا اور اس کی موت سر میں ڈنڈے یا پتھر وغیرہ کی ضرب لگنے سے ہوئی تھی۔ موت کے وقت اس کی عمر 35 یا 36 برس تھی۔ اس کی زندگی کا بیشتر حصہ پانی میں گزرا تھا۔ شاید قریبی دریا میں مچھلیاں پکڑتا ہو گا۔ پانچ ہزار سال کے اس 35 سالہ جوان کے دانت موتیوں کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ کھوپڑی پہ ہلکی دراڑیں کسی دشمن کی عطا ہیں۔ اس جان لیوا وار کو مچھیرے نے بائیں ہاتھ سےروکنے کی کوشش تو کی ہو گی۔
بلا کی چمک اس کے چہرہ پہ تھی
مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا
مچھیرے کو دیکھنے اور اس کی کہانی سننے کے بعد ہم سب خاموش سے ہو گئے۔ زندگی اور موت کی عجیب گھمن گھیریوں میں خیال کہیں الجھ سے گئے۔
میوزیم سے نکل کر ہم پکے فٹ پاتھ کے راستے وہ علاقہ دیکھنے گئے جہاں قدیم دور کی زندگی کے یہ آثار ملے تھے۔ قبرستان کا علاقہ دیکھا جہاں اتنا عرصہ وہ مچھیرا سویا رہا تھا۔ 13 میٹر بلند اور 15 میٹر (بنیادیں) چوڑی وہ فصیل دیکھی جو شہر کو سیلاب یا دشمن سے بچانے کے لیے بنائی گئی تھی۔ جب شہر تباہ ہوا تو فصیل کسی کام نہ آ سکی۔ اندازہ ہے کہ سیلاب یا کسی مہلک وبا نے شہر اجاڑ دیا تھا۔ ایک ٹیلے پہ کھڑے ہو کر ہم نے نکاسی آب کی نالیاں، کنواں، اور پانی ذخیرہ کرنے کا نظام دیکھا۔ ان کا رہائشی علاقہ دیکھا مگر ذہن میں مچھیرے کا ڈھانچہ ہی گھوم رہا تھا۔
میں سوچ رہا تھا کہ مچھیرے کے ساتھ بھی ان مٹی کے مٹکوں کو دفن کیا گیا ہو گا جن میں زندہ رہنے کا سامان ہوتا تھا۔ ان مٹکوں میں موجود آب حیات کے چند گھونٹ اس مچھیرے نے بھر لیے ہوں گے تبھی تو وہ آج بھی ہڑپہ میوزیم میں لیٹا ہے اور ہر آنے والے کو اپنی داستاں سنا رہا ہے۔

