پہلے نواز شریف سے نپٹ لیں، پھر کلبھوشن کو دیکھ لیں گے

اور پھر ہمارے ہمسائے بھی ہم سے عشق نہیں کرتے۔ بھارت کو ہم ایک آنکھ نہیں بھاتے، افغانستان سے ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں، اور ایران ہم سے بوجوہ گلہ مند ہے۔ چین ہمارا دوست ہے لیکن ہمارے ہر سیاہ و سفید میں ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ والا تازیانہ ابھی تازہ ہے۔ امریکہ ہماری مشکیں کسنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اور اسرائیل کی تو خیر بات ہی چھوڑیے۔
سوال یہ ہے کہ اس تشویش ناک منظر نامے میں ملک کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ دشمنوں اور بد خواہوں کی جو فہرست یہاں دی گئی ہے کیا یہ کوئی خفیہ دستاویز ہے جو بحران پرور عناصر کی نظر سے اوجھل تھی؟ ایسا تو نہیں ہے۔ نواز شریف کی حکومت تو اپنے آخری سال میں تھی، وہ تو خود ہی جانے والی تھی، پھر اتنی بے تابی کا مظاہرہ کیوں کیا گیا؟ ملک کے تمام دشمنوں سے پہلے نواز شریف سے نمٹنا کیوں ضروری سمجھا گیا؟ کیا یہ اندیشہ تھا کہ نواز شریف اگلا الیکشن بھی جیت جائے گا اور یہ ضرب لگانے کا آخری موقع ہے؟
یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ سیاسی انتشار کا شکار ملک دنیا کی نظروں میں بے وقار سمجھے جاتے ہیں۔ تو قوم کو بے وقار کر کے کیا ملا؟ سینیٹ الیکشن ہوں گے یا نہیں، نواز شریف اور مریم نواز کو جیل میں ڈال دیا جائے گا، الیکشن وقت پر ہوں گے یا طویل المدت نگران حکومت مقرر کی جائے گی، نواز شریف کو ’ہر صورت‘ حکومت سے باہر رکھا جائے گا، معلق پارلیمان لائی جائے گی، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کیا ہے؟ پاکستان میں سیاسی بے یقینی پیدا کرنا تو دشمنوں کی خواہش ہے، تو دشمنوں کی خواہش کیوں پوری کی جائے؟ اس سے ہمیں کیا ملے گا؟ کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ سیاسی بے یقینی پیدا کر کے سیاسی جماعتوں کو توڑنا آسان ہو جاتا ہے۔ اگر کسی الیکٹ ایبل کے کان میں پہلے پر پھڑ پھڑانے کی آواز آئے اور پھر یہ نوائے سروش سنائی دے کہ ’الیکشن نہیں ہوں گے‘ اور ’نگران حکومت سال ہا سال رہے گی‘ تو اس کے دل سے طرح طرح کے گمان تو گزریں گے۔
ہم نے اپنے ہی ملک میں جعلی انتشار پیدا کر دیا ہے۔ درجنوں ٹی وی چینلز کو ایک جنگ میں جھونک دیا گیا ہے، دن رات گرد اُڑائی جاتی ہے، منظر دھندلانے کی کوشش کی جاتی ہے، کہ ہر چہرہ گرد سے اٹ جائے، کوئی پہچانا نہ جائے۔ یاد رہے کہ یہ انڈین خفیہ ایجنسی را کا کارنامہ نہیں ہے، یہ ہماری اپنی عاجزانہ پیش کش ہے۔ ہم نے خود ہی ریاست کوجام کر دیا ہے۔ افسر بے یقینی کا شکار ہوں تو ماتحت کیا خاک کام کریں گے۔ کسی دفتر میں کوئی کام نہیں ہوتا، اگر ہوتا بھی ہے تو کارِ عبث۔ درجنوں محکمے، بالخصوص وفاق اور پنجاب کے، حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنا اپنا ریکارڈ سیدھا کر کے سپریم کورٹ میں جمع کرواتے رہتے ہیں۔ اب تک لاکھوں صفحات کا ریکارڈ جمع کروایاجا چکا ہے، جسے پڑھنے کے لئے مہینے نہیں، سال ہا سال درکار ہیں۔
شہباز شریف نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر سازش کی اور سارے ملک سے بہترین افسر چُن چُن کے پنجاب میں اکٹھے کیے۔ درونیان اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کے شہباز شریف ایک انتہائی مشکل باس ہے، جو نہ خود سوتا ہے، نہ اپنے کسی ماتحت کو سونے دیتا ہے۔ ان افسروں نے پانچ سال ایک طرح کی سزا کاٹی ہے اور اس کا نتیجہ درجنوں تکمیل شدہ منصوبوں کی صورت میں سب کے سامنے ہے، وقت پر بنے ہوئے منصوبے، وقت سے پہلے بنے ہوئے منصوبے۔ اس سب کار گزاری کا انعام اس ٹیم کو احد چیمہ کی گرفتاری کی صورت میں دیا گیا ہے۔ احد چیمہ کو چور ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے۔ احد چیمہ اپنے دفاع میں کیا کہتا ہے، کسی کو معلوم نہیں۔ کیا ہم مشرف کی نیب کا کہا مان لیں؟ ہم مومن ہیں یا نہیں لیکن ہم نیب کے سوراخ سے دوبارہ ڈسے جانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
مشرف کے مارشل لا میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے اور وعدہ معاف گواہ ڈھونڈنے کے لئے نیب نے جو نازیبا حرکات کی تھیں وہ ہمیں ذرا ذرا یاد ہیں۔ آج پھر وہی چلمن ہے، پھر وہی چوبارہ۔ لیلیِٰ وطن کو ہوس اقتدار کی زنجیروں میں جکڑ کے پھر پیچھے کی جانب کھینچا جا رہا ہے۔ جو بولے اسے نیب کی چوکھٹ پر گھسیٹا جائے۔ خواجہ سعد رفیق کے بعد اب امیر مقام کی باری ہے۔ اس دھینگا مشتی کا نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو پہلے نکلا تھا۔ اس جنگ میں فاتح اور مفتوح جو بھی ہوا کرے، ملک ہار جائے گا۔ کیا تاریخ سے سبق سیکھنے کے لئے بی اے تک تعلیم ضروری ہے؟
اس صورتِ حال میں کیا کیا جائے؟ اس سیاسی انتشار کی داد کسی گھر کے چراغ کو دی جائے؟ کاش ہم نے یہ حال اپنے دشمن کا کیا ہوتا۔ آج ہر محب وطن پاکستانی مضطرب ہے، اور ہر پاکستان دُشمن مطمئن۔
آپ پہلے نواز شریف سے نپٹ لیں کلبھوشن اور اس کے بھائی بندوں کو بعد میں دیکھ لیں گے۔

