اے حمید اور امرتسر کی یادیں


احمد مشتاق اور سید کاشف رضا میں اس بات پر اتفاق ہے کہ لاہور سے زیادہ امرتسر کی یادوں کو اے حمید نے زیادہ عمدگی سے بیان کیا ہے۔ لاہور کے بارے میں احمد مشتاق کو گوپال متل کی کتاب پسند ہے۔ خواجہ افتخار کی کتاب ’’جب امرتسر جل رہا تھا ‘‘ انھیں اچھی نہیں لگی تھی جس میں وہ سمجھتے ہیں نری جذباتیت ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جذباتی فضا اے حمید کے یہاں بھی ہے لیکن اس میں ایک ضبط نظر آتا ہے، ان کی دانست میں اس وقت جو ماحول تھا اسے بیان کرنے کے لیے لکھنے والا objective ہونے کی کتنی بھی کوشش کرتا اسے کہیں نہ کہیں subjective ہونا پڑتا ۔ یہ معاملہ اے حمید کے ساتھ بھی رہا۔

’’ امرتسر کی یادیں ‘‘ کے بارے میں سید کاشف رضا نے اپنے تاثرات ہم سے کچھ یوں بیان کئے:

’’ اے حمید کا فکشن پڑھتے ہوئے میں فکشن کے بارے میں اپنے تصورات ایک طرف رکھ دیتا ہوں اور ان کی قصہ گوئی کا لطف لیتا ہوں۔ وہ ایک جادو اثر قصہ گو تھے لیکن ماضی کا کوئی قصہ سناتے ہوئے ان کا قلم کاغذ پر نگینے سے جڑنے لگتاتھا۔ میں اخبارات میں ان کی یادیں شوق سے پڑھتا تھا۔ پھر ایک روز ان کی کتاب ’’ امرتسر کی یادیں ‘‘ کراچی کے ریگل چوک سے میرے ہاتھ لگی۔ واللہ کسی شہر کے بارے میں ایسی دل فریب کتاب عالمی ادب میں بھی کم ہی ہوگی۔ اے حمید نے ’’لاہور کی یادیں‘‘ بھی لکھی لیکن جو بات ’’امرتسر کی یادیں‘‘ میں ہے وہ ان کی کسی اور کتاب میں نہیں۔ ان کا سری لنکا کا سفرنامہ بھی بہت دل فریب ہے مگر شہر نگاری کے حوالے سے امرتسر کی یادیں جیسی کوئی کتاب اردو میں نہیں۔ ترک ادیب اورحان پامک کی کتاب ’’استنبول‘‘ عالمی سطح پر بہت مقبول ہوئی ۔ مجھے بھی پامک کی یہ کتاب پسند ہے مگر میں سوچتا ہوں کہ اے حمید کی اس کتاب کا بھی ترجمہ ہوسکتا تو دنیا اس جادو بیاں قصہ گو کے ہنر سے بھی واقف ہوسکتی ۔ پامک کے استنبول کی طرح اے حمید کا امرتسر بھی اب میری یادوں کا حصہ ہے ۔ دو برس پہلے میں امرتسر گیا تو جلیاں والا باغ کی سیر کے دوران میں نے اے حمید اور ان کی تحریروں کو محبت سے یاد کیا ۔ پرانے امرتسر میں ان کی تحریروں کی خو بو محسوس ہوئی۔ ‘‘

اے حمید

اے حمید نے کتاب میں شہر کی اس فضا کو بیان کیا ہے جو ان کے اندر رچ بس گئی تھی، تقسیم کے عمل نے ان یادوں کو خوں رنگ بنا دیا ہے، لیکن اس قسم کی یادوں کے بیان کے لیے جس قسم کا اسلوب درکار تھا وہ اے حمید نے پالیا ۔ انھوں نے اس شہر کی بظاہر عام مگر اصلاً بہت ہی خاص ہستیوں کو پیش کیا ہے، اس میں درویش بھی ہیں، جواری بھی، گیٹ کیپر بھی لیکن ہمیں ماشٹر نثار کا کردار سب سے پسند ہے جسے گانے اور اداکاری کا بہت شوق تھا۔ اس کا باپ حجام تھا لیکن بیٹے نے ترکھان بننا پسند کیا۔ کبھی کبھار اے حمید اسے دکان پر ملنے جاتے۔ ان کے بقول ’’دکان میں کٹی ہوئی لکڑیوں کی گیلی گیلی خوشبو پھیلی ہوتی اور ماسٹر نثار ایک طرف بوریئے پر تیشہ لیے بیٹھا لکڑیوں کے تختے چھیل رہا ہوتا۔ بازار میں سے گزرتے جھنڈ کی لکڑیوں سے لدے ہوئے گڈے گزرتے تو میں آنکھ بچا کر ایک ڈنڈا کھینچ لیتا ۔ ماسٹر نثار اس کا بڑا خوبصورت گلی ڈنڈا گھڑ دیتا اور ہم گرمیوں کی شکر دوپہروں میں انجمن پارک یا الیگزنڈرا میں جاکر گلی ڈنڈا کھیلا کرتے۔ ‘‘

احمد مشتاق

بیانیے میں والدہ کے ہاتھ سے بنی کشمیری چائے کا قصہ بھی چپکے سے شامل ہوگیا ہے۔

’’ کشمیری چائے بنانے کا جو سلیقہ ان میں تھا وہ امرتسر کی بزرگ کشمیری خواتین کا ہی حصہ ہے۔ وہ بڑے اہتمام سے منہ اندھیرے اٹھ کر آگ جلاتیں۔ پتیلی، چمچ اور پیالے گرم پانی سے پاک کرتیں، تازہ پانی میں چائے کی پتی ڈالتیں جب خوب جوش آجاتا تو ٹھنڈے پانی سے پانی کا چھینٹا دیتیں ۔ دودھ الگ گرم کرتیں اور پھر اس میں چائے کا رس انڈیلتیں۔ ٹھیک جس وقت چائے کا رنگ سچے گلاب ایسا ہوجاتا تو ہاتھ روک لیتیں۔ میں ان کے پاس بیٹھ جاتا ۔ بڑی محبت سے میری پیالی میں چائے ڈالتیں۔ چائے میں سے کبھی گلاب کی خوشبو آتی اور کبھی مجھے یوں لگتا جیسے کسی گرم دوپہر کو چنبیلی سے لدے ہوئے جنگل میں سے گزر رہا ہوں۔ ‘‘

بے فکری کے اس زمانے میں جب وہ زندگی سے حظ اٹھا رہے تھے غم امروز تھا نہ ہی اندیشہ فردا اور ان کو لگتا تھا یہ سرخوشی کی کیفیت ہمیشہ رہے گی لیکن لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب منظر بدل گیا۔ اے حمید لکھتے ہیں:

’’ برسات کے دنوں میں ہم دو مونہی نہر کے کنارے کنارے لمبی سیریں کرتے۔ لبالب نہر میں تیرتے تھے، سبز، زرد، سرخ، آموں کو چھلانگیں لگا کر پکڑتے نہر کی پلیا پر کھڑے ہو کر مٹھیاں چوم کر پانی میں کود جاتے اور مردہ تاری لگایا کرتے۔ کبھی غوطہ لگا کر نہر کی تہہ سے مٹھی بھر گیلی ریت اٹھا کر لاتے اور اس سے اپنے دانت مانجھتے کیونکہ ہم نے بڑوں کو یہی کرتے دیکھا تھا۔ جنوری فروری کی سردی میں جب باغ اجڑ جاتے تو ہم امرود کے باغوں میں نکل جاتے اور درختوں پر لگے اکا دکے امرود توڑ توڑ کر آدھا کھاتے اور آدھا پھینک دیتے۔ بارش شروع ہوجاتی تو ہم ٹاہلیوں کے گرتے پتوں میں بھیگتے گھر واپس آجاتے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم اسی کمپنی باغ کے درختوں پر کھیلتے۔ پلیا پر سے نہروں میں چھلانگیں لگاتے اور ڈیوڑھی میں سرخی پاؤڈر تھوپے ’’شکنتلا‘‘ کھیلتے رہیں گے اور وقت کبھی نہیں گزرے گا۔ لیکن وقت گزرتا چلا گیا، اور پھر وقت جب ایک اہم موڑ پر سے گزرا تو ہم سے امرتسر کمپنی باغ، ہال بازار سکتری باغ، بجلی والی نہر اور مسجد خیر الدین ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی۔‘‘

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2