اے حمید اور امرتسر کی یادیں


اے حمید اور احمد مشتاق دونوں امرتسری ہیں۔ ان کا لاہور میں بہت یارانہ رہا۔ دونوں کو لاہورسے بڑی محبت ہے لیکن امرتسر کی یاد دل سے گئی نہیں۔ اے حمید کے آخری دنوں میں احمد مشتاق نے انھیں فون کیا تو وہ کہنے لگے کہ یوں لگتا ہے کہ تم امریکا سے نہیں امبرسر سے بول رہے ہو۔ اے حمید نے امرتسر کی یادوں کو لکھ کر قلم توڑ دیا ۔ لکھا تو ان نے لاہور کے بارے میں بھی بہت لیکن اس میں وہ تاثیر نہیں جو امرتسر کے بارے میں تحریروں کا خاصہ ہے۔ احمد مشتاق کا مطالعہ میں ایک اصول تو یہ ہے کہ الم غلم کتابیں پڑھنے کے بجائے بڑی شاعری اور بڑا فکشن بار بار پڑھنے کو وہ دل ودماغ کے لیے زیادہ فرحت بخش جانتے ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ نئی کتابوں سے ان کا علاقہ نہیں، وہ ان کے بارے میں پاکستان میں بیٹھے ہوؤں سے زیادہ باخبر ہیں۔ ان کے مطالعہ کا ایک رخ یاروں دوستوں کی نئی شائع ہونے والی کتابوں میں ان کی دلچسپی تو ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ وہ گزرے دوستوں کی ان کتابوں سے دوبارہ حظ اٹھانا چاہتے ہیں، جنھیں وہ مدتوں پہلے پڑھ چکے ہوں یا پھر ان کے پاکستان چھوڑنے کے بعد شائع ہوئیں اور اس کی انھیں خبر نہ ملی۔ صفدر میر کی شاعری کی کتاب ’’ درد کے پھول‘‘ پہلے زمرے میں آتی ہیں، جسے وہ پڑھ چکے تھے لیکن کہیں ادھر ادھر ہوگئی تھی، اس لیے دوبارہ پڑھنے کا خیال ہوا۔ ہمیں اس کتاب کی فٹ پاتھ سے وہ کاپی ملی جو شاعر نے میرزا ادیب کو بھجوائی تھی۔ ہم نے وہ قیمتی نسخہ احمد مشتاق کو روانہ کر دیا۔

دوسرے زمرے میں آنے والی کتاب اے حمید کی ’’ امرتسر کی یادیں ‘‘ تھی، جس کا ہم نے ایک بار تذکرہ کیا تو اسے پڑھنے میں ان کو دلچسپی پیدا ہوگئی۔ یہ کتاب 1991میں شائع ہوئی جب انھیں پاکستان چھوڑے دس گیارہ سال ہوچکے تھے۔ ہم نے یہ کتاب لائبریری سے جاری کروا کر پڑھی تھی۔ احمد مشتاق کی طرف سے اس کتاب کا تقاضا ہوا تو ان سے عرض کی کہ اب وہ کتاب آؤٹ آف پرنٹ ہے، اس لیے پرانی کتابوں کے بازار میں اسے تلاش کریں گے وہاں نہ ملی تو فوٹوکاپی کروا لیں گے۔ ان مراحل تک بات پہنچنے سے پہلے ہی ہمارے ذہن رسا میں آیا کہ یار عزیز سید کاشف رضا، اے حمید کا عاشق صادق ہے۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی کتابیں جمع کرتا ہے، ہو نہ ہو اس کے پاس یہ کتاب ضرور ہوگی۔ اس سے رابطہ کیا تو قیافہ درست نکلا۔ اسے ہم نے بتایاکہ بھائی جس کتاب کا ہم کہہ رہے ہیں اسے احمد مشتاق دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس نے کہا سو بسم اللہ لیکن میری ایک شرط ہے کہ کتاب لوٹانے سے پہلے وہ اس پر اپنے ہاتھ سے اپنی کوئی غزل لکھ کر دیں۔ یہ نرم سی شرط احمد مشتاق کے سامنے رکھی تو وہ مان گئے۔

فریقین کے درمیان ہماری وساطت سے معاہدہ طے پا گیا تو کتاب کراچی سے لاہور پہنچی اور پھر یہاں سے ہیوسٹن، وہاں سے لاہور اور اب اس نے شہر قائد کا رخ کرنا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد نسخہ اس لیے ہے کہ اس پر اے حمید اور احمد مشتاق دونوں کے دست خط ہیں۔ کاشف رضا کو کراچی کے ریگل چوک سے پرانی کتابوں کے بازار سے جو نسخہ ملا وہ اے حمید نے اپنے دستخط کے ساتھ اپنے کسی جاننے والے کو دیا جس نے اس کی قدر نہ جانی یا پھر کسی اور وجہ سے یہاں پہنچ گیا۔ احمد مشتاق کے دستخط کیوں ہے اس کا احوال ہم نے لکھ دیا ہے۔ سید کاشف رضا نے ہم کو ’’ امرتسر کی یادیں ‘‘ بھیج کر سرشار کیا تو اب ہم جذبہ خیر سگالی میں ان انھیں اس کتاب کی واپسی کے ساتھ اے حمید کا ناول ’’ ڈربے‘‘ تحفتہً دیں گے ۔

’’ ڈربے ‘‘ اے حمید کا پہلا ناول ہے جس میں امرتسر کے ان مہاجرین کی داستان ہے جو لاہور میں آباد ہوئے اور اپنے اکھڑے قدم نئی سرزمین پر جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فسادات کے بارے میں تو بہت لکھا گیا لیکن وہ خلقت جو ہجرت کے بعد نئی جگہ جا کر آباد ہوئی، اسے کن مسائل نے گھیرا، اس باب میں زیادہ نہیں لکھا گیا، یوپی کے مسلمانوں سے متعلق اس پہلو پر قرۃ العین حیدر نے لکھا ہے، جس کی بہترین مثال ’’ ہاؤسنگ سوسائٹی‘‘ ہے۔ مشرقی پنجاب سے آنے والوں کی داستان خونچکاں بھی فکشن نگاروں کی زیادہ توجہ حاصل نہیں کرسکی، اس کی تلافی کسی حد تک نامور تاریخ دان اشتیاق احمد کی نان فکشن کتاب ’’ پنجاب کا بٹوارہ ‘‘ سے ہوئی ہے جس میں پنجاب سے ہجرت کرنے والوں کی کہانیاں انھی کی زبانی بیان کی گئی ہیں، ان کا یہ کام اورل ہسٹری سے تعلق رکھتا ہے، سید کاشف رضا کو یہ کتاب پسند ہے اور وہ فیس بک پر اسے کراچی والوں کو خاص طور پر پڑھنے کی ہدایت کرچکے ہیں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2