کاش ”یہ لوگ“ خاموش رہنا سیکھ لیں


مجھے اپنے عرصہ ملازمت میں دیگر تدریسی کاموں کے ساتھ ساتھ غیرملکی دوروں پر بھی جانے کا موقع ملتا رہا ہے۔ کوئی اڑھائی عشرے قبل میں بحیثیت رابطہ کار ملک کے سیشن ججوں ، کمشنروں اور پولیس افسروں کو مصر اور سعودی عرب کے مطالعاتی دورے پر لے گیا۔ سرکاری لوگ جانتے ہیں کہ اس طرح کے وفود میں سب سے زیادہ مصروفیت اور کام رابطہ کار کا ہوا کرتا ہے۔ وہ لوگوں پر بڑی گہری نظر رکھتا ہے کیونکہ واپس آ کر اس نے ہر افسرکی انفرادی رپورٹ لکھ کر اس کے محکمہ کو بھجوانا ہوتی ہے۔ اس مذکورہ سفر میں دیکھا کہ ایک سیشن جج صاحب دیگر لوگوں کے برعکس انتہائی کم گو، بردباد، متین اور سنجیدہ تھے۔ کئی دفعہ تو (بد)گمان ہوا کہ شاید موصوف نے نہ بولنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ دورے کے آخر میں اپریل 1991ء میں وہ سعودی عرب سے پاکستان آ گئے اور میں نجی دورے پر برطانیہ چلا گیا۔ یہ ہماری آخری ملاقات تھی۔ چنانچہ 1991ء سے 2018ء تک میں ان کی شخصیت کے سحر میں یوں کھویا رہا کہ تدریسی عمل میں جب کبھی مجھے جج، بطور رول ماڈل بیان کرنا ہوتا تو دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ میں موصوف کا تذکرہ بطور مثال ضرور کرتا ہوں ۔

افسوس! یہ تاثر زائل ہو گیا ہے۔ لیکن پہلے وطن عزیز کی کچھ باتیں !

قیام پاکستان کے وقت ملک میں صرف ایک یونیورسٹی تھی۔ آج ایک سو اٹھاسی جامعات ہیں ۔ ٹی وی کا نام تک نہ تھا۔آج کئی سرکاری ٹی وی چینل ہیں ۔ سرکاری اداروں کے اپنے چینل تک موجود ہیں ۔ منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم، وارسک ڈیم، چشمہ بیراج، گدو بیراج، ہیڈ مرالہ یہ سب کچھ پاکستان ہی کی دین ہے۔ بجلی کی طرف آئیے۔ جی ہاں ! تب کی ساڑھے تین کروڑ کی آبادی اور موجودہ رقبے کے لیے 1947ءمیں صرف 67 میگاواٹ بجلی ہوا کرتی تھی۔ آج پاکستان میں بجلی کی کل پیداواری گنجائش 24 ہزار میگا واٹ ہے اور آئیندہ چند ماہ میں تیس ہزار میگاواٹ سے بھی بڑھ جائے گی۔ گندم پی ایل 480 کے تحت امریکہ دیتا تھا جو راشن کارڈوں پر ملتی۔ چینی کی بھی راشن بندی تھی۔ ستر کی دہائی تک سیمنٹ میلوں لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر دو بوری فی کس ملتا تھا۔ لوگ سینما میں فلم کا آخری شو بارہ ایک بجے تک دیکھ کر قطاروں میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ آج لاکھوں ٹن سیمنٹ برآمد ہوتا ہے۔ گوداموں میں گندم رکھنے کی جگہ نہیں ۔ صنعت کار منتیں کر رہے ہیں کہ چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے کہ قیمتوں میں توازن پیدا ہو۔ اسلحہ سازی نام کو نہ تھی۔ آج اس ملک کے لوگ گھاس کھائے بغیر دنیا کی ایک پُروقار ایٹمی قوت کے مالک ہیں ۔ وزیرآباد کے لوہار چاقو چھریاں بنایا کرتے اور وہی ان دنوں لڑائی بھڑائی کا اثاث البیت ہوا کرتے تھے۔ آج عالمی معیارکے لڑاکا جہاز، آبدوزیں ، ٹینک، راکٹ، میزائل جی ہاں کروز میزائل تک (جو صرف چار ملکوں کے پاس ہیں ) ہم خود بناتے ہی نہیں کئی چیزیں برآمد بھی کرتے ہیں ۔ ہوائی ٹرانسپورٹ کے لیے اڈے نہ تھے۔ کنکریٹ کی سڑک نما پیٹیوں پر جہاز اترتے صرف ایک ادھورا سا نام کا ائیرپورٹ تھا۔ آج تین درجن کے لگ بھگ اعلیٰ پائے کے ہوائی اڈے موجود ہیں ۔ تین تو ایسے ہیں کہ دنیا کے کسی بھی ملک سے ان کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ کچی پکی سڑکوں کا ذکر ہی کیا کہ ان پر تانگے، بیل گاڑیاں اور گڈے چلتے تھے۔مکمل معلومات تو نہیں لیکن 1980ءتک پکی سڑکوں کی لمبائی 94 ہزار کلومیٹر تھی۔ 2000ءتک یہ لمبائی اڑھائی لاکھ کلومیٹر ہو چکی تھی۔ 2006ءتک اس میں مزید 8 ہزار کلومیٹر شامل ہو گئے۔ اندازہ ہے کہ اس وقت ملک میں سڑکوں کی کل لمبائی تین لاکھ کلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔ مچھیروں کی ایک بستی کراچی تب بندرگاہ شمار ہوتی تھی آج نصف درجن کے قریب بہترین بندرگاہیں موجود ہیں ۔

ایک ماہ قبل نیب کے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال صاحب کا افسوس ناک بیان افسردگی کے ساتھ پڑھا: ”ملک پر 84 ارب ڈالر قرض ہے اس کا مصرف کہیں نظر نہیں آتا“۔ یہ اخباری بیان پڑھ کر دیگر بیانات کی طرح نظرانداز کر دیا۔ لیکن 30 مارچ کے اخبارات میں وہی بیان انہی الفاظ میں پھر چھپا: ”ملک 84 ارب ڈالر کا مقروض مگر اس پیسے کا مصرف کہیں نظر نہیں آتا۔“

معلوم نہیں ایک ہی بات بار بار دہرانے کی کیا ضرورت لاحق ہو گئی اور پھر اس طرح کی باتیں سیاست دانوں کے لیے ہوا کرتی ہیں ۔ یہ تبصرہ کوئی ماہر معیشت تو نہیں کر سکتا۔اب ذرا غور کریں کہ 1947ءمیں ملک کس حالت میں تھا، یہ بیان ہو چکا ہے۔ اور آج کہاں کھڑا ہے ،یہ بھی بیان ہو چکا ہے۔ کیا اس وضاحت کی ضرورت ہے کہ یہ ہوائی اڈے، بندرگاہیں ، بیراج، تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم، موٹرویز، ایکسپریس ویز، سینکڑوں جامعات، ٹی وی چینل، 24 ہزار میگا واٹ بجلی، لاکھوں کلومیٹر روڈ نیٹ ورک، اناج سے اَٹے گودام، ایٹمی اثاثہ جات، ایروناٹکل کمپلیکس، ٹینک سازی کے کارخانے، درجنوں ہوائی اڈے اور دیگر مذکورہ بالا اثاثے راتوں رات مفت میں تو نہیں کھڑے ہو گئے، نہ انہیں بنانے کے لیے ایک نوزائیدہ ملک اتنے وسائل رکھتا تھا؟ ان پر اربوں ڈالر خرچ ہوئے ہیں ، اور اب ان کی مالیت کھربوں ڈالر میں ہے۔ 84ارب ڈالر کا قرض تو ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔

1991ءکا وہ انتہائی متین، بردباد ،سنجیدہ اور کام سے کام رکھنے والا سیشن جج جاوید اقبال، چیئرمین نیب بنتے ہی پتہ نہیں کیوں بولنا شروع ہو گیا۔ کاش وہ نہ بولتے تو میں آج بھی ان کی شخصیت کے سحر میں رہتا۔

صاحبان! یہ ٹیلی ویژن اسکرین کی لت ہیروئن اور گانجھے سے بھی بُری ہے۔اور ہاں ، ایک با ت اور! ایک انہی پر کیا موقوف ، کاش ”یہ لوگ“ نہ بولا کریں ۔ کچھ بھرم قائم رہنے کا امکان تو بہرحال رہتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ پاکستان

Facebook Comments HS

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام اسلامی قانون کے پروفیسراوردستوری قانون میں پی ایچ ڈی ہیں ۔ گزشتہ 33 برس سے تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔

dr-shehzad-iqbal-sham has 9 posts and counting.See all posts by dr-shehzad-iqbal-sham