یہ کیسی حکومت ہے جس کے پاس اقتدار نہیں؟

ایسا گماں کس کام کا، مجھے تو یقین ہے، یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو۔ کیا بتاؤں،زندگی کے وہ وہ رخ دیکھے کہ اب۔۔۔؟ خیر چھوڑیئے! ثبات اِک تغیر کو ہے زمانے میں۔ زندگی اب بھی زندگی ہے۔ زندگی کے رنگ بڑے دلآویز ہیں۔ یہ زندگی خود بھی بڑی دلآویز ہے۔ زندگی لبھانے…

Read more

مذہبی اقلیتوں سے ایک گزارش

توہینِ رسالت، ختمِ نبوت، توہینِ مذہب اور اس سے ملتے جلتے موضوعات پر پاکستان کی تمام آبادی آج بُری طرح تقسیم ہو چکی ہے۔ اب اس کی بخیہ گری کسی معجزے ہی کے توسط سے ممکن ہے۔ آج کی اس نشست میں میری کوشش ہو گی کہ وطنِ عزیز کی مذہبی اقلیتوں کی توجہ ایک…

Read more

سیاسی جماعتوں کے بیرونِ ملک دفاتر: ایک ناسور

کاش ہماری سیاسی جماعتیں اپنے بیرونِ ملک دفاتر بند کرنے پر غور کریں۔ اسلامی انقلاب کے بعد ارض فارس کے سوکھے دھانوں پر چھاجوں مینہ کچھ ایسا برسا کہ آئے دن ملک بھر میں کہیں نہ کہیں کوئی اجتماع، سیمینار، کانفرنس یا تربیتی ورکشاپ ہوتی رہتی ہے۔ قزوین میں واقع امام خمینی انٹرنیشنل یونیورسٹی اس…

Read more

اس آگ پر پانی ڈالیں، پانی!

بارے ذکر کچھ مذہبی اقلیتوں کا۔ آج وطن عزیز کی مسیحی آبادی کا کچھ ذکر اذکار ہو جائے۔ اپنے ملک کے مسیحی دو بڑے طبقات میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ ایک وہ ہیں جنہیں میں یہاں اسلام آباد میں آئے دن سیمیناروں، مجالس و مباحث میں دیکھتا سنتا رہتا ہوں۔ یہ لوگ ایوان ہائے…

Read more

موت کا تعاقب: چی گویرا سے خاشقجی تک

اگر سانس رُک جانے کانام موت ہے تو ایسی ناپائدار زندگی تو صورتِ مرگِ انبوہ، امروز و فردا بپا ہوتی ہی رہتی ہے۔ کیا سود اور کیا زیاں؟ کیا حرکت اور کیا سکون؟ تارِ عنکبوت کی مجال کہ دونوں کے مابین کوئی خطِ انفصال کھینچ سکے؟ دونوں انتہائیں، اور ان جیسی دیگر لاتعداد انتہائیں، جدل…

Read more

راکشس، ڈپٹی کمشنر، لیڈی ڈیانا، بے نظیر اور پارلیمنٹ

ہفتہ دس دن قبل ایک صاحب تشریف لائے۔ محرم او ر عاشورہ کا ذکر ہوا: ”معلوم نہیں اس دفعہ کا عاشورہ پُرامن کیسے گزر گیا۔ “ موصوف کو تھوڑی دیر تک یاد کرنا پڑا، نو دس محرم کب کتنے دن ہوئے، گزر گئے ہیں۔ تین عشروں کا ماتم ہے، اخبارات و ذرائع ابلاغ نودس محرم…

Read more

کیا ہندو ہونا جرم ہے؟

یہ عنوان ہمارے ایک ہندو بھائی مکیش میگھواڑ کی تحریر کا ہے جو سماجی رابطے کی سائٹ پر مجھے پڑھنے کو ملی۔ تحریر، جٍیسا کہ عنوان ہی سے ظاہر ہے، خاصی تلخی سے معمور ہے۔ یہ تلخی مکیش میگھواڑ کی تحریر ہی میں نہیں، سندھ کے ہر اس ہندو کے احساسات میں دیکھی جا سکتی…

Read more