خواتین کے ساتھ امتیازی برتاﺅ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا معاشرہ عمومی طور پر مشرقی روایات کا حامل ہے جن میں سے اکثر قابل فخر ہیں جیسا کہ والدین کا احترام اور بزرگوں سے حسن سلوک وغیرہ ۔  لیکن خواتین کے بارے میں ہمارا مجموعی طرزعمل قابل تحسین نہیں ہے۔  مردوں کو خواتین پر فوقیت دینے کی تاریخی وجہ مردوں کا جسمانی طور پر عورتوں سے زیادہ طاقتور ہونا ہے۔  ابتدائی تہذیبوں میں مردوں کی وجہ سے جنگوں میں فتح کے حصول اور کھیتوں میں ہل چلانے وغیرہ جیسے جسمانی کاموں میں سہولت حاصل ہوتی تھی۔  لیکن یہ مردانہ برتری اس جدید مشینی دور میں بھی قائم ہے۔

گھرانے میں بچی کی پیدائش کے ساتھ ہی زچہ و بچہ کے ساتھ امتیازی سلوک کا آغازہو جاتا ہے۔ عمومی خیال یہی ہے کہ ماں ہی بچی کی پیدائش کی خطاوار ہے حالانکہ اصل معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انسانی جسم کے خلیوں میں 23 کروموسوم کے جوڑے ہوتے ہیں یعنی کل 46 کروموسوم۔  ان میں سے 22 کروموسوم کے جوڑے مرد اور عورت میں ایک جیسے ہوتے ہیں جنہیں آٹوسوم کہا جاتا ہے۔  صرف ایک جوڑا جو جنسی کروموسوم کہلاتا ہے جنس کا تعین کرتا ہے۔  عورت کی صورت میں یہ جوڑا XXاور مرد کی صورت میں YXہوتا ہے۔ X اور Y کا تعین مرد کے سپرم سے ہوتا ہے نہ کہ عورت کے بیضے سے۔  چنانچہ بچی کی پیدائش (اگر یہ کوئی غلطی ہے تو) کا ذمہ دار مرد ہے نہ کہ عورت۔

ہمارے معاشرے میں نوزائیدہ بچی کے ساتھ بھی ناروا سلوک برتا جاتا ہے۔ اس سے کوئی الفت کا اظہار نہیں کرتا۔  بچوں کے مقابلے میں بچیوں کو ادنیٰ خوراک دی جاتی ہے۔  گوشت پکنے کی صورت میں بچوں کو ان کی من پسند بوٹیاں دی جاتی ہیں اور بچیوں کے حصے میں صرف شوربہ آتا ہے۔  کئی گھرانوں میں بچیوں کو غذائیت بھری اشیاء جیسا کہ انڈے نہیں دیئے جاتے کہ مبادا یہ جلدی جوان ہو جائیں۔  حالانکہ اس مفروضے کی کوئی سائنسی حقیقت نہیں۔  کم پڑھے لکھے لوگ بچیوں کی باقاعدہ تعلیم سے احتراز برتتے ہیں اور زیادہ پڑھے لکھے لوگ اپنے بچوں کا تو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ کراتے ہیں لیکن بچیوں کی تعلیم کا کم معیاری تعلیمی اداروں میں بندوبست کرتے ہیں۔ ایسے والدین کی ساری توجہ بچیوں کو گھر گرہستی میں طاق کرنے پہ مرکوز رہتی ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے ۔

بچپن کے بعد نوجوانی میں اگر بالفرض لڑکے اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہو جائیں تو والدین عموماَ چشم پوشی کرتے ہیں جس سے ان کومزید برائیاں کرنے کی شہ ملتی ہے۔ اس کے برعکس لڑکیوں کی معمولی غلطیوں سے بھی درگزر نہیں کیا جاتا اور انھیں سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے۔ سب سے بڑی سزاان کی مرضی کے خلاف شادی ہے جس میں نہ تو شوہر سے ان کی ذہنی ہم آہنگی کا خیال روا رکھا جاتا ہے اور نہ ہی شوہر کی مالی آسودگی کا۔  ہمارے معاشرے میں کئی خواتین ایسی بے جوڑ شادیوں کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔ انھیں جابر شوہروں کی بے جا سختیوں اور بعض صورتوں میں جسمانی تشدد کا بھی سامنا ہے۔ مگر وہ مالی اور جسمانی طور پر کمزور ہونے کے باعث کوئی اصلاحی اقدام اٹھانے سے قاصر ہیں۔

اکثر والدین بیٹوں اور بیٹیوں میں مالی طور پر بھی فرق روا رکھتے ہیں۔ وہ بیٹیوں کی شادی کے موقع پر انھیں تھوڑا سا جہیز دے کر اپنے آپ کو ان کی ہر ذمہ داری سے بری الذمہ سمجھتے ہیں۔  لیکن نکھٹوں بیٹوں کی عیاشیوں کے لئے ان کی تجوریوں کے منہ کھلے رہتے ہیں۔ والدین کی وفات کے بعد بھائی بہنوں کو ان کا جائز شرعی حق نہیں دیتے اور مختلف حیلوں بہانوں سے ان کی حق تلفی کی جاتی ہے۔ اس طرح عمر بھر خواتین کے ساتھ ناانصافیوں کا لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔

عموماَ دیکھا گیا ہے کہ خواتین کے ساتھ ان ناانصافیوں میں خواتین بھی مردوں کی شریک ہوتی ہیں۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر درسی کتب اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس صنفی تفاوت کو ختم کیا جائے تاکہ خواتین بھی بغیر کسی دباﺅ کے اپنی زندگی گزار سکیں اور تربیت اولاد کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاح اور معاشی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •