پشتون تحفظ موومنٹ اور ریاست کی ذمہ داری

پٹھان کے لئے عزت بہت اہم ہے۔ پختون ولی کے صدیوں پرانے معاشرتی ضابطے میں ننگ، ناموس اور غیرت کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ خوشحال خان خٹک کا ایک شعر یہ کہتا ہے کہ موت اس زندگی سے بہتر ہے جو عزت سے نہ بسر کی جا سکے۔ اگر وہ اپنے گھر میں ہی بے عزت ہوں گے تو رفتہ رفتہ وہ یہی شعر پڑھتے دکھائی دینے لگیں گے۔
اگر ہم فاٹا اور دیگر علاقوں کے پشتونوں کے اپنے لئے عزت مانگنے والے لوگوں کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دیں گے تو ان کی نہیں اپنی کریڈیبلٹی ختم کریں گے۔ بفرض محال یہ سب پاکستان دشمن ہو گئے ہیں تو پھر ان کو ساتھ رکھنا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ طاقت کے بل پر حکومت کرنے کی خواہش شام جیسی صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔ یا اپنی تاریخ سے مثال چاہیں تو مشرقی پاکستان جیسی۔ ہم ان کے احتجاج کو نظرانداز کریں گے تو بہت برا ہو گا۔
پھر یہ لاوا خود اپنا راستہ بنائے گا۔ پگھلتا لاوا جب اپنا راستہ خود بنانے لگے تو راہ میں آنے والی ہر شے کو جلا ڈالتا ہے۔ ہمیں پشتون سپرنگ سے بچنا چاہیے۔ ہمیں وہ وقت نہیں لانا چاہیے جب یہ لوگ ہماری ریاست سے اس حد تک نالاں ہو جائیں کہ ان کو داعش اچھی لگنے لگے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ طالبان کی شکست کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کو مقامی آبادی کی سپورٹ حاصل نہیں تھی۔ مکتی باہنی اس لئے کامیاب ہوئی کہ مقامی آبادی اس کے ساتھ تھی۔ ویت نام میں امریکہ اور افغانستان میں سوویت یونین جیسی سپر پاورز اسی وجہ سے ناکام رہیں کہ مقامی آبادی ان کی مخالف تھی۔ صرف طاقت کے بل پر حکومت اپنا اقتدار قائم نہیں کر سکتی ہے۔
بہتر یہی ہے کہ ان کے مطالبات کو سنا جائے۔ مطالبات ناجائز نہیں ہیں۔ وہ اپنا وہ حق مانگ رہے ہیں جو آئین اور قانون ان کو دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ اگر قانون میں کوئی سقم ہے تو اسے مل بیٹھ کر دور کیا جائے لیکن جو کیا جائے وہ کسی قاعدے قانون کے تحت تو ہو جو اپنے شہریوں کی عزت نفس کو مجروح نہ کرے۔
سیکیورٹی فورسز کے اپنے جائز مسائل بھی ہیں۔ اگر ایک علاقہ شورش زدہ ہے تو پھر ادھر آنے جانے والوں کی چھان بین تو کرنی پڑے گی۔ کوئی مشکوک فرد ہو تو اس سے تفتیش تو کی جانی چاہیے۔ کیا یہ درست ہو گا کہ سوات اور وزیرستان میں طالبان کو شکست دینے کے بعد ان کو بغیر کسی رکاوٹ کے واپس آنے دیا جائے اور وہ دوبارہ سے اپنا وہی کھیل شروع کر دیں؟ لیکن علاقے کے مقامی لوگوں سے مل کر اس مسئلے کا کوئی ایسا حل نکالا جانا چاہیے جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔ کسی معصوم شہری کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور شرپسند عناصر کو بھی پکڑا جا سکے۔
سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے دور میں پرانے طریقے سے حکمرانی کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ اپنے مفادات اور انا ایک طرف رکھ کر وہ کرنا پڑتا ہے جو قوم کو جوڑے رکھے۔ یہ وہی وقت ہے۔

