میری بہن کی سہاگن موت


آج نورین کی برسی ہے۔

نورین اور اس کے شوہر کے درمیان ایک گہری دراڑ آچکی تھی مگر شادی بچ گئی تھی۔ نورین کی دوسری شادی۔ ایک زمیندارنی کی شادی۔ جس کو بچپن سے یہ تعلیم دی گئی تھی کہ تمہارا جسم تمہارا نہیں، تمھارے شوہر کا ہے۔ مگر یوں کیوں ہوا کہ اس کے جسم کو اس کی مرضی کے بغیر دوسروں نے دیکھا۔ باہر سے بھی اور اندر سے بھی۔ اس کا جسم اس کی مرضی کے تابع کبھی نہ تھا۔ شوہروں کی مرضی کا غلام تھا۔ پھر آج اس کے کپڑے قینچی سے کاٹ کر اتارے گئے تھے اور اس کے بیرونی جسم کو بری طرح ٹھوک بجا کر دیکھا گیا تھا اندر تک اسے کاٹ کر رکھ دیا گیا تھا۔ اس کے جسم پر اس کی مرضی نہیں تھی۔ ایک عورت کا جسم اس کی مرضی کے تابع کب ہوا۔ اس کے جسم کو پولیس والوں نے دیکھا۔ جبکہ شریف عورت تو تھانے کے سامنے سے بھی نہیں گزرتی۔ اس کا مردہ جسم ایک لوہے کی میز پر کھلا پڑا تھا اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم اس کے بدن کے ایک ایک حصّے کو کاٹ کر الٹ پلٹ کر نا معلوم جاننے کی کوشش کر رہی تھی۔

نورین کی ایک شادی ناکام ہو گئی تھی۔ محبّت کی شادی تھی۔ مگر شوہر کو تیسرے ہی سال ایک اور عورت کے ساتھ عشق ہو گیا۔ نورین سے بیٹا چھین کر اور چار ماہ کی بیٹی دے کر پاکستان روانہ کر دیا گیا۔ ہاں میں بتانا بھول گئی کہ اس کی یہ شادی ایک عرب نوجوان سے ہوئی تھی۔ وہ لڑکا ملتان میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے آیا تھا۔ اور نورین کے ساتھ ملاقاتوں میں ہی دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ قول و قرار کر لئے تھے۔ عرب کلچر میں یہ خوبی ہے کہ عورتیں سوتن کے لئے تیار ہوتی ہیں۔ مردوں کا حق فائق سمجھتی ہیں۔ مگر ہمارے یہاں سوتن کو برداشت کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ خیر اس سیاق و سباق میں پڑنے کی قطعی حاجت اس مضمون میں نہیں۔ عرب جانیئں اور ان کا کلچر جانے۔ پہلے ہم نے ان کی قدامت پسندی بھگتی، اب ان کا بھونڈا لبرل رنگ دیکھیں گے۔

ہاں تو نورین واپس اپنی ماں کے گھر آ گئی۔ باپ بچپن میں ہی گزر چکا تھا۔ بھائی بہت چھوٹا تھا۔ مگر گھر کی خواتین نے نورین کا بھرپور ساتھ دیا۔ بچی کو سنبھال لیا۔ اور نورین نے تعلیم مکمل کرنا چاہی۔ جلد ہی ایم۔ بی۔ اے میں ایڈمشن مل گیا اور دو برس میں امتیازی پوزیشن کے ساتھ ڈگری ہاتھ میں آ گئی۔ خاندان میں پہلی طلاق یافتہ عورت "نورین ” اب خاندان میں پہلی ایم۔بی۔اے لڑکی "نورین ” تھی۔ اس پر ترقی کے دروازے کھلتے ہی چلے گئے۔ جلد ہی ایم۔ ڈی۔ اے میں ڈائریکٹر کے عھدے پر فائز ہو گئی۔ تبادلہ ہوا تو اسلام آباد چلی گئی۔ ورکنگ وومن ہوسٹل میں رہنا شروع کیا تو بیٹی کو بھی ساتھ لے گئیں۔ وہاں پر ایک پڑھے لکھے خوبروشخص سے ملاقات ہو گئی۔ جلد ہی دونوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا۔ ملتان آۓ اور وہ بندہ نورین کو بیاہ کر لے گیا۔

نورین کام کرتی رہی مگر اب گھر داری اور مزید بچوں کی وجہ سے اس کے لئے سرکاری نوکری کرنا مشکل تھی۔ اس لئے ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا۔ نورین کا دوسرا خاوند ایک فائیو سٹار ہوٹل میں اعلیٰ عھدے پر فائز تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی دوسری عورتوں میں دلچسپی بڑھ رہی تھی۔ ایک عورت کے باپ نے یہ شرط رکھی کہ میں بیٹی کا ہاتھ تب دوں گا جب تمہاری پہلی بیوی کی اجازت ہو گی اور وہ بھی ہم آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کریں گے۔ نورین ایک گھر اور بیٹا پہلے کھو چکی تھی۔ شادی کے کچھ سال بعد دوسرے شوہر کے گھر میں بھی بیٹی کی جگہ نہ رہی اور وہ بچی نانی کے گھر آ گئی۔ نورین کو دونوں بچوں کی جدائی کا صدمہ تھا اور اوپر سے شوہر کی یہ کج روی۔ دوسری عورت کے باپ کے سامنے جا کر نورین نے بتایا کہ وہ آج کل کیسا محسوس کر رہی ہے۔ ایک خوف ہے کہ یہ دونوں بچے بھی اس سے جدا ہو جائیں گے۔ اور گھر ٹوٹ گیا تو یہ سوال اب میرا رہا سہا حوصلہ بھی ختم کر دے گا کہ یہ عورت کوئی گھر بھی نہیں بسا سکی، آپ رحم فرمائیں۔ لڑکی کا باپ رحمدل اور سمجھدار آدمی تھا۔ اس نے بیٹی کو سمجھایا کہ یہ ظلم ہو گا۔ اور نورین کی شادی کو بچا لیا۔ مگر نورین کے حصے کے دکھ ابھی ختم نہیں ہویے تھے۔ ابھی زندگی نے اپنا حساب لینا تھا۔ اٹھتے بیٹھتے نورین کو شوہر کوسنے دیتا کہ تم میرے عشق کی راہ میں حائل ہوئی ہو۔

ایک دن نورین کٹی پھٹی خون آلود بے لباس، چند ہسپتال کی چادروں میں اپنا جسم لپٹائے ماں کے گھر آگئی تھی۔ ہمیشہ کی طرح بچوں اور شوہر کے ساتھ۔ صد شکر کہ سہاگن مری تھی۔ شوہر کی چھتر چھایا میں۔ اس بار جس گھر میں دلہن بن کر گئی تھی، اسی گھر سے اس کی لاش نکلی تھی۔ جس کو معلوم نہیں پنکھے سے ڈرائیور نے کیسے اتارا تھا۔ اور جانے لٹکایا کس نے تھا؟

Facebook Comments HS